MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

ثانیہ سعید کی درِ نجات والی خوش بخت: خاموش طاقت کی نئی تعریف!

سینئر اداکارہ ثانیہ سعید نے ایک ایموشنل ریل شیئر کی ہے جس میں ان کے ڈرامہ 'درِ نجات' کے کردار خوش بخت کی خاموش طاقت اور باوقار انداز کی تعریف کی گئی ہے.

یہ ریل @aavoiceofhope نامی انسٹاگرام اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی تھی جسے ثانیہ نے اپنی سٹوری پر لگایا. اس ریل کے کیپشن میں ملک صاحب اور ابوبکر کے درمیان ایک awkward لمحے کا ذکر ہے جو ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے: "جب ملک صاحب کہتے ہیں بہن کوئی نہیں!" ریل کے مطابق، ابوبکر اس عجیب صورتحال میں بھی کیسے پرسکون رہے، یہ بات واقعی قابلِ تعریف ہے.

ریل پھر ابوبکر کے اس ردعمل کا خوش بخت کے جذباتی درد سے نمٹنے کے طریقے سے موازنہ کرتی ہے. کیپشن میں خوش بخت کے انداز کو بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ ہلکی سی مسکراہٹ برقرار رکھتی ہے اور اپنے کندھے سیدھے رکھتی ہے، بھلے ہی اس کی آنکھیں بتا رہی ہوں کہ اسے تکلیف یا مایوسی ہوئی ہے. ہاں بھئی، یہ ہوتا ہے وقار!

ریل مشکل حالات سے نپٹنے کے اس خاموش طریقے کی تعریف کرتی ہے اور کہتی ہے کہ طاقت کا مطلب ہمیشہ غصے سے ردعمل دینا یا اپنا درد کھلے عام دکھانا ہو۔ کبھی کبھی پرسکون رہنا اور اپنی عزتِ نفس کو تھامے رکھنا الفاظ سے زیادہ بات کرتا ہے۔ کیا بات ہے!

کیپشن کا اختتام اس پیغام پر ہوتا ہے کہ شفا یابی کے عمل میں نرمی کو ترک نہیں کرنا چاہیے، یعنی تکلیف دہ تجربات کو ہمیں کڑوا نہیں بنانا چاہیے اور اپنی نرم فطرت کو کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے. ڈرامہ 'درِ نجات' میں ثانیہ سعید نے خوش بخت کا کردار نبھایا ہے جبکہ شہریار منور ابوبکر بنے ہیں. اس ریل کے ذریعے دونوں کرداروں کی جذباتی طاقت اور مشکل لمحات سے نپٹنے کے ان کے مختلف انداز کو سراہا گیا ہے. یار یہ بات تو سچ ہے، کبھی کبھی خاموشی ہی سب سے بڑا جواب ہوتی ہے، ہے نا؟

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔

اس خبر کی ویڈیو دیکھیں