MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

پریشے عدنان کا ’اختیار‘ کلیکشن: لاہور فیشن ویک میں فیشن نہیں، پاور پلے تھا!

گزشتہ لاہور فیشن ویک (LFW) میں فیشن ڈیزائنر پریشے عدنان کے کلیکشن ’اختیار‘ نے زبردست تاثر چھوڑا اور ہمارا تو ذاتی فیورٹ بن گیا۔ اس کلیکشن کی بنیاد خواتین کے اختیار اور اپنی مرضی کے اظہار پر تھی۔ گہرے رنگوں میں، جیسے کالے اور چارکول گرے رنگ کے لباس کو میٹالک سلور ایمبیلشمنٹس، چینز، بڑے میڈیلینز اور خوبصورت جیولری سے مزین کیا گیا تھا۔

اس کلیکشن میں سَکلپٹڈ واسکٹ، وسیع ٹراؤزرز اور پھیلتی اسکرٹس کے ساتھ تیز ٹیلرنگ اور فلوئیڈٹی کا حسین امتزاج پیش کیا گیا۔ کلیکشن نے طاقت کو خود کو ڈیفائن کرنے کی آزادی کے طور پر پیش کیا، جس سے فیشن کے ذریعے ایک طاقتور پیغام دیا گیا۔

ایل ایف ڈبلیو کے دوسرے دن جگنو اسٹوڈیوز از حسین ریہار نے بھی اپنا کلیکشن ’ریبیٹس وِد فلاورز‘ پیش کیا، جو کہ کافی چنچل اور غیر متوقع تھا۔ اس میں عجیب و غریب امتزاج اور تجسس کا تعاقب کرنے کی خوشی کو مرکزی خیال بنایا گیا تھا۔ دوسرے دن کے Retail Runway اور Edit میں الیور بائی اِزنا حمزہ، تروبا، ہاتھ گھر اور بیگم بانو جیسے لیبلز بھی شامل تھے۔

فیشن ویک کا تیسرا دن بھی اسی فارمیٹ پر چلتا رہا۔ اس دن MISL، آغا جان اور U&I بائی عمر عمرانہ جیسے ریٹیل اور ایڈیٹ لیبلز نے حصہ لیا، جبکہ شام کے شو میں مو بائی محسن تواسلی، سوچاج بائی مہک جنید، ریکی میلیون اور فہد حسین پرنٹ میوزیم نے اپنے ڈیزائن دکھائے۔

فہد حسین پرنٹ میوزیم نے ’این اٹلس آف ایمپائرز‘ کے عنوان سے اپنے کوٹور کلیکشن کے ساتھ تیسرے دن کا اختتام کیا۔ اس کلیکشن میں وسطی ایشیا، فارس، افغانستان اور برصغیر کے ثقافتی اثرات کو دکھایا گیا۔ لاہور فورٹ اور اس کی گہری تاریخ سے متاثر ہو کر، کلیکشن نے آرکیٹیکچرل جیومیٹری، پھولوں کے موٹیفز اور آرائشی تفصیلات کو عصری سلہوٹس میں ڈھالا۔ یہ کلیکشن تین رینجز میں پیش کیا گیا: Alta Moda کے لیے قوتلغ (جو وسطی ایشیا اور چغتائی نسل سے متاثر تھا)، Casbah کے لیے اتھاردا (آرکیٹیکچرل موٹیفز کی نئی تشریح) اور سگنیچر ویڈنگز کے لیے خانزادہ (جس میں پیچیدہ جیومیٹری اور تہہ دار آرائش تھی۔) لاہور فیشن ویک نے تو اس بار کچھ ہٹ کے دکھایا، کیا کہتے ہو؟

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔

اس خبر کی ویڈیو دیکھیں