درِ نجات کی جذباتی قسط: زریاب اور ابوبکر کا وہ لمحہ، فینز کی دھڑکنیں تیز!

ARY Digital کا مقبول ڈراما 'درِ نجات' ایک بار پھر چھا گیا ہے، اور اس بار تو بات زریاب اور ابوبکر کے اس ایک لمحے کی ہے جس نے سب کے دل ہلا دیے ہیں! لکھاری عمیرہ احمد اور ہدایت کار ثاقب خان کے اس ڈرامے میں شہریار منور، درِفشاں سلیم اور نامیر نواز خان جیسے اہم کردار ہیں۔
تازہ ترین قسط میں زریاب اپنی بہن فریال کے ساتھ گائناکولوجسٹ کے پاس جاتی ہے، جہاں اس کی ملاقات غیر متوقع طور پر حاملہ ہمنا، جو کہ زامل کی بیوی ہے، سے ہو جاتی ہے۔ اس ملاقات نے زریاب کو جذباتی طور پر اتنا پریشان کر دیا کہ وہ کلینک میں ہی ٹوٹ کر رو پڑی۔ اس لمحے جب وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی، تو اسے خیال آیا کہ ابوبکر آ کر اسے سنبھال رہے ہیں اور اٹھنے میں مدد کر رہے ہیں۔ لیکن پھر یہ جذباتی لمحہ اس وقت اور گہرا ہو گیا جب اس نے حقیقت میں ابوبکر کو گلے لگا لیا اور ان کی موجودگی میں سکون اور ڈھارس پائی۔
یہ دل چھو لینے والی ملاقات اور ان کی پہلی آغوش، قسط کا سب سے زیادہ چرچا کیا جانے والا لمحہ بن گئی، اور بس پھر کیا تھا، فینز تو خوشی سے جھوم اٹھے! سوشل میڈیا پر تو جیسے آگ لگ گئی، ہر کوئی شہریار منور اور درِفشاں سلیم کی آن سکرین کیمسٹری کی تعریفیں کرتا نظر آیا۔ کئی ناظرین نے ان کی کیمسٹری کو 'غیر معمولی' قرار دیا، جب کہ کچھ نے دونوں اداکاروں کے جذباتی تاثرات کو سراہا۔ ایک فین نے تو لکھا کہ 'ان کی کیمسٹری ناقابل یقین تھی'، جب کہ دوسرے نے شہریار منور کی اداکاری کی بہت تعریف کی اور کہا کہ ان کی آنکھیں بالکل ساجل علی کی طرح بولتی ہیں۔ ابوبکر کی موجودگی جس طرح زریاب کو اس مشکل وقت میں سکون اور تحفظ کا احساس دیتی ہے، اس نے بھی لوگوں کی خوب داد سمیٹی۔
زریاب اور ابوبکر کے رشتے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے ڈرامے میں ناظرین کی دلچسپی کو مزید بڑھا دیا ہے، اور اب سب بے تابی سے آنے والی اقساط کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کی کہانی کا اگلا باب کیا ہوگا؟ یار، یہ ڈراما تو اب بس دل میں گھر کر گیا ہے، آپ کا کیا خیال ہے، ان کا رشتہ آخر کس موڑ پر جائے گا؟
