مائیکل ڈگلس نے چیر کے آسکر پر طنز کیا، چیر کا جواب چار لفظوں میں

30 اکتوبر کو "دی گراہم نارٹن شو" میں 82 سالہ مائیکل ڈگلس نے اپنی "فیٹل اٹریکشن" کی ساتھی گلین کلوز کے بارے میں کھل کر کہا کہ وہ 1987 کی اُس تھرلر میں اپنی اداکاری پر آسکر نہ جیت سکیں۔ کلوز اُن کے ساتھ ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔ ڈگلس نے یاد دلایا کہ اُس سال آسکر چیر نے جیتا تھا۔
میزبان گراہم نارٹن حیران رہ گئے، اور ڈگلس نے فوراً کہا کہ اُنہیں سب معلوم ہے، اُس وقت سب نے یہی کہا تھا۔ نارٹن نے ہنستے ہوئے اُن سے کہا کہ ذرا مہربان ہو جائیں۔ شو کے دیگر مہمانوں میں نومی ایکی اور کیرن کلکن بھی شامل تھے، اور ایکی نے بھی اس طنز پر برجستہ جملہ کسا۔ ڈگلس اپنی بات پر اَڑے رہے اور کہا کہ گلین نے تاریخ کی سب سے بڑی اداکاریوں میں سے ایک دی۔
اِس سب کا چیر کے دماغ پر کوئی بوجھ نہیں پڑا۔ اُن کے نمائندے نے ایک بیان میں صرف چار لفظ کہے: کہ چیر کو مائیکل ڈگلس بہت پسند ہیں۔
وہ آسکر، وہ رات
چیر کو 1988 میں "مون اسٹرک" میں لوریٹا کاسٹورینی کے کردار پر بہترین اداکارہ کا آسکر ملا۔ اُسی کیٹیگری میں گلین کلوز کے علاوہ ہولی ہنٹر ("براڈکاسٹ نیوز")، سیلی کرکلینڈ ("اینا") اور میریل اسٹریپ ("آئرن ویڈ") بھی نامزد تھیں۔
کلوز کے پاس آٹھ آسکر نامزدگیاں ہیں، اور 15 نومبر کو لاس اینجلس میں ہونے والے 17ویں گورنرز ایوارڈز میں اُنہیں اعزازی آسکر دیا جائے گا۔ اِس پر اُنہوں نے مذاقاً کہا کہ شاید اب کسی کو مزید احساسِ جرم نہیں رہے گا۔
ڈگلس خود دو آسکر جیت چکے ہیں: 1987 کی "وال اسٹریٹ" پر بہترین اداکار کا، اور 1975 کی "ون فلیو اوور دی کوکو'ز نیسٹ" پر بطور پروڈیوسر بہترین فلم کا۔
تو چیر نے تو معاف کر دیا، اور ڈگلس اپنی رائے پر اَڑے رہے۔ لیکن ایک بات تو بتائیں: آٹھ نامزدگیوں کے بعد اعزازی آسکر — یہ انصاف ہے یا تسلی؟
