MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

ابو بکر: دارِ نجات کا فرضی مرد جو حقیقی رشتوں کے معیار بڑھا رہا ہے

پاکستانی ڈرامہ دارِ نجات کا ابو بکر، جسے شہریار منور نے ادا کیا ہے، دنیا بھر کے ناظرین — خاص طور پر بنگلہ دیش — کے پسندیدہ کرداروں میں شامل ہو چکا ہے۔ اس کی تصویریں، سین اور فین میڈ ایڈیٹس سوشل میڈیا پر گردش کر رہے ہیں۔ لوگ اس کے رویے، اس کے پیار اور اس قسم کے ساتھی پر بات کر رہے ہیں جس کی وہ نمائندگی کرتا ہے۔

فرضی کردار ہے، مگر بحث بالکل حقیقی ہے۔

چھوٹی چھوٹی باتیں، بڑا فرق

ایک صابر سننے والا۔ کوئی جو یاد رکھے کہ چائے کیسے پینی ہے۔ کوئی جو تھکا دینے والے دن کے بعد پوچھے کہ کھانا کھایا یا نہیں۔ کوئی جو جھگڑے کے دوران آپ کو چھوٹا محسوس نہ کرائے۔ یہ سب معمولی حرکتیں لگتی ہیں، لیکن بہت مطلب رکھتی ہیں۔

ایک بیوی راہیلا احمد کے نزدیک صبر ہی وہ چیز ہے جو ابو بکر کو باقیوں سے الگ کرتی ہے۔ ان کے بقول، Patience is what we lack ... That is what Abu Bakar has. لوگ غصے میں آ جاتے ہیں، سننا بند کر دیتے ہیں، اپنی انا کو تسلی دینا چاہتے ہیں — اور چھوٹے اختلاف بڑے مسئلے بن جاتے ہیں۔ ابو بکر اس کے برعکس تصویر پیش کرتا ہے۔

یونیورسٹی کی طالبہ سادیہ جہان اسے مختلف انداز میں دیکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ایسے مرد انہیں شاید ہی نظر آتے ہیں، یہ ایک مثالی دنیا ہے اور ہمیں مثالی دنیائیں یا خواب ہی پسند ہیں۔ ان کے مطابق نرم لہجے میں بات کرتے لوگ کم ہی ملتے ہیں، اور رشتوں میں دونوں طرف سے توقعات ہوتی ہیں — جبکہ ابو بکر بدلے میں کچھ نہیں مانگتا۔

زریاب، اور وہ سوال جو کوئی نہیں پوچھتا

نصرت جہان کے لیے ابو بکر ایک اور رومانوی آئیکن کو کئی سالوں تک سراہنے کے بعد آیا ہے۔ وہ کہتی ہیں، Half of my life has gone admiring Shah Rukh Khan. Now comes Abu Bakar. لیکن تعریف کے ساتھ ان کی ایک تنبیہ بھی ہے: ڈرامے کے ایک اور کردار زریاب کے رویے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ان کے بقول زریاب جیسے غصے والے کردار کو کسی کو برداشت نہیں کرنا چاہیے — وہ اکثر غصے میں رہتی، چیختی اور دوسروں کی توہین کرتی تھی۔ اور پھر ان کی دلیل: جنس کے کردار بدل کر دیکھیں، یہی رویہ کتنا برا لگتا ہے۔

اس سے ایک سوال اٹھتا ہے جو رشتوں کی بحثوں میں اکثر غائب رہ جاتا ہے۔ کیا ہم ایک ہی رویہ مرد اور عورت سے مختلف انداز میں پرکھتے ہیں؟ غصہ، توہین اور بے عزتی اس لیے قابل قبول نہیں ہو سکتے کہ کوئی کردار رومانوی ہیرو کے روپ میں سامنے آیا ہے۔

ہر کردار کی اپنی کہانی

طالب علم عابر حسن اس رشتے کو الٹ نظر سے پڑھتے ہیں۔ وہ زریاب کو منفی کردار نہیں سمجھتے۔ ان کے بقول ڈرامے کا ہر کردار اہم ہے اور خوبصورتی سے لکھا گیا ہے، اور زریاب کی صورتحال سمجھ میں آنے والی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شاید شدید تجربات سے گزرنے کے بعد انسان کو محبت نہیں، سمجھ اور سکون درکار ہوتا ہے — اور ابو بکر وہ سکون دیتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایک کہاوت اکثر گردش کرتی ہے: محبت تھوڑی، سمجھ زیادہ۔ اس ڈرامے میں ابو بکر کا سمجھنے والا رویہ ہی اس کے پیار کا اظہار ہے۔

اداکار کی اپنی نظر

لیکن ابو بکر کو ادا کرنے والے شہریار منور خود اس کردار کے بارے میں زیادہ پیچیدہ رائے رکھتے ہیں۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے ابو بکر کو ایسا شخص بتایا جو لوگوں کو خوش کرنے کے چکر میں نہ کہنا نہیں سیکھ پاتا، اور ساتھ ہی اس کے اندر ایک سہارا دینے والا کمپلیکس بھی ہے۔ یعنی جو کردار اپنی مہربانی کے لیے سراہا جا رہا ہے، اس کی بھی اپنی کمزوریاں ہیں۔

اور شاید یہی بات اسے زیادہ دلچسپ بنا دیتی ہے۔ ابو بکر کو پسند کیے جانے کے لیے کامل ہونے کی ضرورت نہیں۔

حقیقی رشتے ٹی وی ڈرامے نہیں ہوتے۔ کوئی ہر چھوٹی بات یاد نہیں رکھتا۔ کوئی ہر بار صبر سے جواب نہیں دیتا۔ لوگ تھک جاتے ہیں، غلطیاں کرتے ہیں، اور کبھی ایسی بات کہہ دیتے ہیں جس پر بعد میں پچھتاوا ہوتا ہے۔ مگر عزت مانگنا کوئی بہت بڑی چیز نہیں ہونی چاہیے۔

شاید ابو بکر کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ ایک سادہ سی بات یاد دلا دیتا ہے: اچھے رشتے میں انسان کو بار بار اپنی اوقات پر سوال نہیں اٹھانا پڑتا۔ اسے بولنے، اختلاف کرنے اور پھر بھی عزت محسوس کرنے کی گنجائش ملنی چاہیے۔

اور شاید اسی لیے اتنے لوگ ایک فرضی مرد پر فدا ہو گئے ہیں۔ وہ کامل ساتھی نہیں مانگ رہے۔ وہ بس حقیقی زندگی میں تھوڑی سی زیادہ مہربانی مانگ رہے ہیں۔

تو اب بتائیں — آپ کے گھر میں چائے کون یاد رکھتا ہے؟

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔

اس خبر کی ویڈیو دیکھیں