MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

ماورہ حسین نے UNHCR کے ساتھ ریفیوجی خاندانوں کے مسائل کو نمایاں کیا

پاکستانی اداکارہ ماورہ حسین نے حال ہی میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) کے ساتھ ایک ریپیٹریشن سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اپنے وطن واپس جانے والے مہاجرین کے جذباتی مسائل پر روشنی ڈالی۔ ماورہ نے انسٹاگرام پر ایک کولیبوریشن پوسٹ کے ذریعے اپنے تاثرات شیئر کیے، جس میں واپسی کی تیاری کرنے والی فیملیز سے ملاقات کے اپنے دل چھو لینے والے تجربات بیان کیے۔ بات کو گول مول کرنے کے بجائے، انہوں نے سیدھے سیدھے دکھ بھری حقیقتیں بیان کیں۔

اپنی ویڈیو میں، ماورہ نے ان ممالک کی کاوشوں کو کھل کر سراہا جنہوں نے جنگ سے بھاگنے والے بے گھر لوگوں کو پناہ دی، انہیں صرف چھت ہی نہیں بلکہ تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور ایک اپنائیت کا احساس بھی فراہم کیا۔ انہوں نے اپنے الفاظ میں کہا، "جو بہت کم ممالک کر پائے ہیں۔ ہم نے لاکھوں جنگ سے بھاگنے والے لوگوں کے لیے اپنے دروازے، اپنے سکول، ہسپتال اور اپنے محلے کھول دیے ہیں۔"

ماورہ نے اپنی پوسٹ میں یہ دلی بات لکھی کہ مہاجرین کے لیے ہم جو کچھ بھی کریں، وہ شاید کبھی بھی کافی نہیں ہوگا، لیکن، انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ کچھ نہ کرنے سے کچھ کرنا، چاہے وہ کتنا ہی کم کیوں نہ ہو، ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔ ریپیٹریشن سینٹر میں ملاقاتوں کے دوران، ماورہ نے خود محسوس کیا کہ جہاں بڑے اپنے مستقبل کی غیر یقینی صورتحال کے بارے میں فکرمند اور پریشان تھے، وہیں بچے اپنے سکول اور دوستوں کو پیچھے چھوڑنے پر افسردہ تھے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ نقل مکانی فیملی کے ہر فرد کو مختلف اور انوکھے انداز میں متاثر کرتی ہے۔

انہوں نے واضح طور پر بتایا، "اپنے ریپیٹریشن سینٹر کے دورے کے دوران، مجھے فیملیز اور ان کے بچوں سے ملنے کا موقع ملا۔ میں نے ان کی کہانیاں سنیں جب وہ اپنے وطن واپسی کی تیاری کر رہے تھے۔ جہاں بڑوں کو اپنے مستقبل کی فکر تھی، وہیں بچے اپنے سکول اور دوستوں کو پیچھے چھوڑنے پر افسردہ تھے۔" ماورہ نے اس سارے عمل کو محفوظ اور باوقار بنانے میں UNHCR کے اہم کردار کو بھی دل سے سراہا۔

ماورہ حسین کا یہ طاقتور پیغام صرف بے گھری کے پیچھے چھپی انسانی کہانیوں کو ہی نہیں دکھاتا بلکہ اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ ایک چھوٹا سا سہارا بھی ان کی زندگی میں کتنا بڑا فرق پیدا کر سکتا ہے۔ ایسے سنجیدہ اور اہم مسئلے پر ایک معروف سیلیبرٹی کی جانب سے کھل کر بات کرنا اور توجہ دلانا واقعی قابلِ تحسین اور ضروری ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے ہی لوگوں میں شعور بیدار ہوتا ہے۔

اداکارہ اور ان کے شوہر، امیر گیلانی، نے ابھی حال ہی میں ایک پیارے بیٹے کو اپنی زندگی میں خوش آمدید کہا ہے، جس نے بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی سپورٹ کی اہمیت کے حوالے سے ان کے پیغام کو اور بھی ذاتی اور گہرا ٹچ دیا ہے۔ جب ہمارے سٹارز اتنے اہم مسائل پر بات کریں تو کیا ہمیں بھی آگے بڑھ کر اپنا حصہ نہیں ڈالنا چاہیے؟

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔

اس خبر کی ویڈیو دیکھیں