حنا الطاف نے کراچی کو 'جیل' کیوں کہا؟ لندن سے واپسی پر طنزیہ وار

پاکستانی اداکارہ حنا الطاف نے لندن میں اپنی واپسی کی پرواز سے پہلے ایک وی لاگ میں کراچی کو 'جیل' قرار دے کر پاکستان میں خواتین کو درپیش پابندیوں پر کڑا طنزیہ وار کیا ہے۔ ویڈیو میں حنا لندن کی سڑکوں پر چشمہ اور گرم کانوں والی ٹوپیاں (winter earmuffs) پہنے گھوم رہی تھیں اور اپنی واپسی کی فلائٹ کے بارے میں بات کر رہی تھیں۔
حنا نے کہا، "آج میری فلائٹ ہے۔ کراچی واپس۔ تو میں نے سوچا، چلو آخری بار گھوم پھر لوں اس سے پہلے کہ اپنے ہی شہر کی جیل میں قید ہو جاؤں، کیونکہ وہاں لڑکیاں ٹھیک سے رہ بھی نہیں سکتیں۔" انہوں نے خواتین کے سڑکوں پر چلنے کی مشکلات کا بھی ذکر کیا۔
اداکارہ، پریزنٹر اور سابقہ ویڈیو جاکی حنا الطاف نے اس آؤٹنگ کو اپنی "آزادی کے آخری لمحات" قرار دیا۔ لندن کو الوداع کہتے ہوئے انہوں نے جلد دوبارہ ملنے کی بات کی۔
لگتا ہے لندن کی سیر نے حنا کو کافی بولڈ کر دیا ہے! ان کے یہ الفاظ پاکستان میں لڑکیوں کی آزادی کے حوالے سے ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس پر اکثر لوگ خاموش رہتے ہیں۔ لیکن کراچی کو سیدھا 'جیل' کہہ دینا، یہ کچھ زیادہ ہی نہیں ہو گیا؟ آپ کا کیا خیال ہے، کیا حنا کی بات میں وزن ہے یا یہ کچھ اوور ری ایکشن تھا؟
