گھریلو خواتین بھی ورکنگ ویمن جتنی عزت کی حقدار، احسن خان نے غلط سوچ پر پھیر دیا پانی!

برطانوی پاکستانی اداکار، پروڈیوسر اور ٹی وی ہوسٹ احسن خان، جو اکثر اپنے پراجیکٹس اور سوشل کمنٹس کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں، نے حال ہی میں Fuschia Magazine کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہاؤس وائوز کے حوالے سے معاشرتی رویوں پر بات کی۔
احسن خان نے اس غلط سوچ پر تنقید کی کہ گھریلو خواتین کو اکثر نظرانداز یا جج کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی پرورش اور خاندان کی دیکھ بھال بھی کیریئر بنانے جتنی ہی قابلِ احترام ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقی کی کوئی ایک ہی تعریف نہیں ہو سکتی اور جو خواتین گھر داری کو ترجیح دیتی ہیں، انہیں کسی بھی طرح سے کم نہیں سمجھنا چاہیے۔
احسن خان نے کہا، "بچے کو جنم دینا اور اسے پالنا، پھر اتنے بچوں اور فیملی ممبرز کے لیے ایک پورا سسٹم چلانا — یہ پورا ایک کام ہے۔ پرورش کرنا ایک ایسا کام ہے جسے لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ آج کل معاشرتی دباؤ کی وجہ سے ان عورتوں کو نیچا دیکھا جاتا ہے جو ہوم میکر ہیں۔
ان کے مطابق، یہ رویہ صرف مردوں کی طرف سے نہیں آتا، بلکہ خواتین بھی بعض اوقات دوسری خواتین کو گھر میں رہنے کی چوائس پر جج کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود عورتوں کو دوسری عورتوں کے بارے میں ایسا کہتے سنا ہے۔
ترقی کی تعریف کیا ہے؟
احسن خان کے مطابق، ترقی کا مطلب ہر ایک کے لیے الگ ہے۔ جب خواتین کام کر رہی ہوتی ہیں یا ان کے دس مختلف engagements ہوتے ہیں، تو وہ اسے ترقی کہتے ہیں۔ لیکن ہر ایک کی اپنی ترقی کی تعریف ہے، اور آپ اس وجہ سے کسی کو نیچا نہیں دکھا سکتے۔ ہر ایک کی اپنی قابلیت ہوتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہر انسان کو اپنی مرضی کے فیصلے کرنے کی آزادی ملنی چاہیے، کیونکہ ہر ایک کا اپنا سفر ہوتا ہے۔
'آپ کی عزت': کہانی جو دل چھو گئی
احسن خان کی یہ باتیں ان کے ڈرامہ 'آپ کی عزت' کے تناظر میں سامنے آئیں۔ اس ڈرامے میں وہ تابش کا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ عروہ حسین بینا کے رول میں ہیں۔ یہ ڈرامہ شادی میں پیدا ہونے والی مشکلات، باڈی شیمنگ، بے وفائی اور خواتین پر غیر مساوی توقعات جیسے موضوعات کو چھوتا ہے۔
ڈرامے کی کامیابی پر احسن خان نے کہا کہ ایک اچھی اور دل کو چھو لینے والی کہانی کے لیے مہنگے سیٹس یا بے شمار لوکیشنز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ "مجھے لگتا ہے کہ اس ڈرامے نے بہت سے لوگوں کے سوچنے کے عمل کو بدلا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے بتایا کہ صرف دو گھر اور ایک پولیس اسٹیشن استعمال ہوئے، پھر بھی لوگ ڈرامے اور کرداروں میں کھو گئے۔ ان کا ماننا ہے کہ ناظرین کا ردعمل مضبوط کہانی، ہدایت کاری، پروڈکشن اور اداکاری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
'آپ کی عزت' کی کامیابی کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس میں کردار اور جذبات اصلی لگتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لوگ اب انہیں احسن سے زیادہ ان کے کردار تابش کے نام سے پہچاننے لگے ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ کہانی کتنی گہرائی سے لوگوں کے دلوں کو چھوئی۔ اس ردعمل نے انہیں اداکاروں کی ذمہ داری کا احساس بھی دلایا کہ وہ رشتوں اور سماجی رویے کو کتنی احتیاط سے پیش کریں۔ انہوں نے شادی شدہ جوڑوں کو بھی یہ ڈرامہ دیکھنے کا مشورہ دیا۔
باڈی شیمنگ اور سوشل پریشر پر بھی بات
احسن خان نے ڈرامے کے ذریعے باڈی شیمنگ اور سماجی توقعات کے مطابق ڈھلنے کے دباؤ پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو صرف دوسروں کی منظوری حاصل کرنے کے لیے خود کو بدلنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لوگوں کی ظاہری شکل پر تبصرے کے جذباتی نتائج پر غور کرنا ضروری ہے۔
آخر میں، انہوں نے مردوں کے لیے بھی ہمدردی کا اظہار کیا جو مالی ذمہ داریاں اٹھاتے ہوئے بچوں کی پرورش اور گھر کے دیگر کاموں کو سنبھالتے ہیں۔ "ہم نے ڈرامے کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بھی ڈالی کہ کسی بھی عورت پر کوئی دباؤ نہیں ہونا چاہیے جس کے ساتھ پوری فیملی جڑی ہو۔ یہاں تک کہ ایک مرد کے لیے بھی دباؤ ہوتا ہے۔"
تو بات یہ ہے کہ سکون کہاں ملتا ہے، اپنی پسند کے فیصلے کرنے میں، نہ کہ دوسروں کے لیے جینے میں، کیا خیال ہے؟
