عفت عمر بھی ماہیرہ خان کی دیوانی! بِلّو کا ماسٹر پلان، پیر مرشد کا 'گیم اوور'

پاکستانی اداکارہ عفت عمر نے 'مٹّی دے باوے' میں ماہیرہ خان کی پرفارمنس کو بھرپور سراہا ہے۔ ڈرامے میں بِلّو کا بدلے کا منصوبہ ایسی خطرناک سطح پر پہنچ گیا ہے کہ دیکھنے والے سکتے میں ہیں۔
بِلّو نے چھپ کر پیر مرشد کو دوا دی، جس کے بعد ان کی صحت تیزی سے بگڑتی چلی گئی اور آخرکار وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ یہ کہانی کا ایک بڑا اور چونکا دینے والا موڑ ہے۔ مصنفہ فائزہ افتخار اور ہدایت کار سید وجاہت حسین نے پنجاب کے پس منظر میں محبت، دھوکہ، جنون اور انتقام کی ایک زبردست کہانی پیش کی ہے۔
ماہیرہ خان اس ڈرامے میں بلقیس بانو عرف بِلّو کا کردار ادا کر رہی ہیں، جس کی زندگی اس وقت بدل گئی جب اس کے والد، نذیر شاہ کا قتل ہوا۔ بِلّو کی پیر مرشد سے شادی محبت پر مبنی نہیں تھی، بلکہ یہ اس کے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کا ایک ذریعہ تھا۔ وہ ایک فرمانبردار اور خیال رکھنے والی بیوی کا روپ دھارے رہی، لیکن اپنے اصل ارادوں کو سب سے چھپا کر رکھا۔
بِلّو نے یہاں تک کہ استخارے کا ڈھونگ رچایا تاکہ پیر مرشد کو یقین ہو جائے کہ ان کی شادی مقدر میں لکھی ہے۔ اس چال سے اسے پیر مرشد کا بھروسہ جیتنے میں مزید مدد ملی اور وہ اپنے منصوبے پر عمل کرتی رہی۔
ماہیرہ نے بِلّو کے دو مختلف روپ اتنے بہترین طریقے سے دکھائے ہیں کہ لوگ دیکھ کر حیران ہیں۔ ایک طرف وہ پیر مرشد کے سامنے نرم گو اور باادب نظر آتی ہے، لیکن اس کے چہرے کے تاثرات اکثر اندر چھپی غصے کی آگ کو ظاہر کر دیتے ہیں۔ اداکاری کا یہ 'کونٹراسٹ' ناظرین میں کافی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔
ڈرامے میں ایک مکالمہ 'اور یوں پیر صاحب کی کہانی لکھی گئی' بھی اس ڈرامائی موڑ کی شدت کو بڑھا دیتا ہے۔ بِلّو کے اس عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے کس ہوشیاری سے اپنے انتقام کے منصوبے کو ایک 'فرماں بردار بیوی' کی تصویر کے پیچھے چھپا کر رکھا۔
عفت عمر کی تعریف نے ماہیرہ کی پرفارمنس پر مزید توجہ مرکوز کروائی ہے، خاص طور پر جس طرح سے وہ بِلّو کے بدلتے تاثرات اور چھپے ارادوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ اب پیر مرشد کی وفات کے بعد کہانی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بِلّو اپنے اعمال کے نتائج کا سامنا کیسے کرتی ہے؟ یا یہ کہ انتقام کا یہ سفر ابھی اور کیا کیا گل کھلائے گا؟
