’دارِ نجات‘ کے 1.7 ارب ویوز پر کھلبلی، کیا یہ محض ایپ کا کمال ہے؟

ARY Digital پر چلنے والا ڈرامہ سیریز ’دارِ نجات‘ اس وقت ٹاک آف دی ٹاؤن بنا ہوا ہے، کیونکہ ARY News نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ڈرامے نے اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر تقریباً 1.7 ارب ویوز سمیٹ لیے ہیں۔ یہ دعویٰ اتنا بڑا ہے کہ اسے 2026 کی سب سے بڑی ہٹ قرار دیا جا رہا ہے، مگر مداح اس پر شک کا اظہار کر رہے ہیں۔
عمیرہ احمد کی تحریر اور ثاقب خان کی ہدایت کاری میں بننے والے اس ڈرامے میں شہریار منور، دُرفشاں سلیم اور نامیر نواز خان مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ کہانی زریاب، ضامِل اور ابو بکر کے رومانوی اور زندگی کے اتار چڑھاؤ بھرے سفر کو دکھاتی ہے۔
شروع میں تو یہ ڈرامہ یوٹیوب پر چھایا رہا اور اس کی مقبولیت آسمانوں کو چھو رہی تھی، لیکن جب ARY Digital نے اسے یوٹیوب سے ہٹا کر اپنی ARY Plus ایپ پر منتقل کیا، تو سارا تماشہ وہیں سے شروع ہوا۔ اب شائقین کو یہ 1.7 ارب ویوز والی بات ہضم نہیں ہو رہی۔
سوشل میڈیا پر تو جیسے بھونچال آ گیا ہے۔ ایک صارف نے کہا، ”1.7 ارب تو پھر بھی کم لگ رہے ہیں، اگر ’دارِ نجات‘ ابھی بھی یوٹیوب پر ہوتا تو یہ ویوز کہیں زیادہ ہوتے۔“ دوسرے نے تبصرہ کیا کہ پلیٹ فارم کی تبدیلی سے اب صرف ایپ کے اعداد و شمار پر زور دیا جا رہا ہے، جن کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔ بہت سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے کیونکہ یوٹیوب پر نہ ہونے کی وجہ سے رسائی محدود ہو گئی ہے۔
ڈرامے کے رومانوی مواد پر بھی بحث چھڑی ہوئی ہے؛ کچھ کا خیال ہے کہ یہ نوجوان لڑکیوں کے لیے غیر حقیقی معیارات قائم کر رہا ہے، جبکہ دوسروں کا ماننا ہے کہ یہ ناظرین کے لیے ایک بہترین فرار ہے۔ میڈیا تجزیہ کار سدرہ اعجاز کے مطابق ایسے دعوؤں کے ساتھ شفاف میٹرکس پیش کیے جانے چاہئیں تاکہ ناظرین اور اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد برقرار رہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں سچ کیا ہے اور دکھایا کیا جا رہا ہے؟
