زویہ ناصر ساشا بیرن کوہن کے 'شاؤٹ آؤٹ' پر ناراض، کہتی ہیں 'لاعلمی حیران کن ہے'

پاکستان کی معروف اداکارہ زویہ ناصر نے جمعرات، 22 اکتوبر 2026 کو انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو پر اپنا ردعمل دیا جس میں ہالی ووڈ اداکار ساشا بیرن کوہن نے پاکستان کو 'شاؤٹ آؤٹ' دیا تھا۔ زویہ ناصر نے اس ویڈیو پر لوگوں کے جوش و خروش پر حیرت کا اظہار کیا۔
یہ معاملہ دو دن پہلے شروع ہوا، جب ان کے ڈراما 'بس تیرا ساتھ ہو' کے شریک اداکار حارث وحید نے اپنی اور ساشا بیرن کوہن کی گفتگو کی ایک کلپ پوسٹ کی۔ اس ویڈیو میں، ساشا بیرن کوہن اپنی نئی فلم 'علی جی: ہو از آئی' کے کردار کے گیٹ اپ میں تھے۔ حارث وحید نے انہیں بتایا کہ وہ پاکستان سے ہیں، جس پر بیرن کوہن نے کہا، "یو، بگ اپ دی پاکستان، مین۔" اس بات پر ارد گرد موجود ہجوم نے خوشی کا اظہار کیا۔
حارث وحید کی اس ویڈیو کو سینکڑوں لائکس ملے اور کئی لوگوں نے بیرن کوہن کے پاکستان کو دیئے گئے 'شاؤٹ آؤٹ' کو سراہا۔ لیکن زویہ ناصر اس جوش سے متفق نظر نہیں آئیں۔ انہوں نے اپنی انسٹاگرام سٹوریز میں لوگوں کو یاد دلایا کہ ساشا بیرن کوہن کا "مسلمانوں کے ساتھ معاندانہ" رویہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاعلمی حیران کن ہے اور ساشا بیرن کوہن کھلم کھلا مسلمانوں کے خلاف معاندانہ رہے ہیں۔
زویہ ناصر نے حارث وحید کی ویڈیو کا براہ راست حوالہ دیے بغیر بیرن کوہن کے "سیدھے سادے، طنز سے بھرپور" انداز اور "تھیٹرکل احساس برتری" پر تنقید کی، اور کہا کہ یہ کسی بھی طرح ایک مثبت تعامل نہیں تھا۔ ساشا بیرن کوہن کا دعویٰ ہے کہ ان کا کام مغربی جہالت پر طنز کرتا ہے، لیکن ان کی کامیڈی زیادہ تر نسلی اور مذہبی دقیانوسی تصورات پر مبنی رہی ہے۔ ان کے کردار 'بورات' اور 'دی ڈکٹیٹر' اس کی واضح مثالیں ہیں کہ کس طرح سستے نسلی خاکوں کو سیاسی طنز کے طور پر استعمال کیا گیا۔ کردار 'علی جی' پر بھی سیاہ فام ثقافت کو اپنا کر مسلم نام استعمال کرنے پر تنقید کی گئی ہے۔
کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ بیرن کوہن اکثر اسی تعصب کو فروغ دیتے ہیں جسے وہ بے نقاب کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، جس میں اقلیتوں کو مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بیرن کوہن نے ٹائم کے ایک مضمون میں اپنے علی جی کردار کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے کرداروں کو تعصب اور حماقت کو بے نقاب کرنے کا ذریعہ بنایا، حالانکہ وہ مانتے ہیں کہ ہر کوئی انہیں اس طرح نہیں دیکھتا۔ ان کے مطابق علی جی ایک سفید فام بے وقوف اور ثقافتی غاصب ہے، اور مذاق اسی پر ہے۔ زویہ ناصر کی بات ایک سخت یاد دہانی ہے کہ ہر کوئی ان کی باتوں پر ہنس نہیں رہا۔
تو اب کیا خیال ہے، ہم خوش ہوں یا تھوڑا سوچیں؟
