سدھارتھ ملہوترا کی 'دی ووان': لوک کہانیوں کے جادو نے باکس آفس پر دھوم مچا دی!

بالی ووڈ میں اس وقت باکس آفس کا موسم خاصا گرم ہے۔ ایسے میں سدھارتھ ملہوترا اور تمنّا بھاٹیہ کی نئی فلم 'دی ووان' نے انٹری دی ہے اور آتے ہی دھوم مچا دی ہے۔ فلم کا پہلا دن کافی مثبت ردعمل لے کر آیا ہے، جو کہ آج کل کے کمپٹیشن والے ماحول میں کسی کامیابی سے کم نہیں ہے۔ یہ ایک فینٹسی ایڈونچر فلم ہے جس کی جڑیں انڈین لوک کہانیوں، قدیم عقائد اور میتھالوجی میں پیوست ہیں۔ یعنی اگر آپ کو پرانے قصے کہانیوں اور تھوڑی سی جادوئی دنیا کا شوق ہے تو یہ فلم آپ کے لیے ہے۔
سدھارتھ کا نیا اوتار: لوک کہانیوں کی دنیا میں
سدھارتھ ملہوترا نے 'اسٹوڈنٹ آف دی ایئر' (2012) سے بالی ووڈ میں قدم رکھا تھا، جہاں انہیں بہترین ڈیبیو کے لیے نوڈ کیا گیا تھا۔ وہ اب مختلف اقسام کے کرداروں میں نظر آتے ہیں، اور 'دی ووان' کے ساتھ وہ فینٹسی اور لوک کہانیوں کے میدان میں اترے ہیں۔ اب 'دی ووان' کے ساتھ، وہ فینٹسی اور لوک کہانیوں کے میدان میں اترے ہیں، جو ان کے لیے ایک نیا تجربہ ہے۔ یہ دیکھ کر اچھا لگتا ہے کہ وہ صرف اپنے کمفرٹ زون میں رہنے کے بجائے نئی چیزیں آزما رہے ہیں۔ تمنّا بھاٹیہ ملہوترا کے ساتھ اس فلم میں ہیں۔
باکس آفس پر پہلا قدم: چھٹی مائیا کا جادو
فلم کو جس طرح کا ردعمل ملا ہے، اس سے لگتا ہے کہ کچھ تو ہے جو لوگوں کو کھینچ رہا ہے۔ خاص طور پر بہار جیسی ریاستوں میں فلم کو زبردست بوسٹ ملا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ فلم کا تعلق چھٹھ پوجا، چھٹی مائیا کے گیت اور ون دیوی کے تصور سے جڑتا ہے۔ یہ چیزیں وہاں کے لوگوں کے دلوں کے بہت قریب ہیں اور انہوں نے اس لوک کہانی کو ہاتھوں ہاتھ لیا ہے۔ ایک ایسی فلم جو مقامی تہواروں اور عقائد سے جڑ جائے، وہ اکثر باکس آفس پر اچھے نتائج دیتی ہے۔ ممبئی میں گنیش چترتھی کی تہواری فضا بھی فلم کی کارکردگی میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ دن کے دوسرے حصے اور شام کے شوز میں لوگوں کی تعداد بڑھنے کی امید ہے، جس سے فلم کو پہلے دن سات کروڑ نیٹ کا ہندسہ پار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نمبر آج کل کے حالات میں کافی حوصلہ افزا ہیں۔
بڑے نام، بڑی امیدیں: ٹیم ورک کی کہانی
یہ فلم ڈائریکٹر دیپک مشرا اور رائٹر ارونابھ کمار کی کاوش ہے، جنہوں نے لوک کہانیوں کو ایڈونچر، اسرار اور مزاح کا تڑکا لگایا ہے۔ ٹی وی ایف (TVF) کے ارونابھ کمار اور پروڈیوسر ایکتا آر کپور کا اس پروجیکٹ کا حصہ ہونا بھی اس فلم کی ساکھ کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ ایکتا کپور ہمیشہ سے مختلف اور کمرشل انٹرٹینر فلمیں بنانے کے لیے مشہور ہیں، اور ان کا نام اس فلم کے ساتھ جڑا ہونا ایک اچھی نشانی ہے۔ صرف یہ ہی نہیں، فلم کی دنیا سینما کی اسکرین تک محدود نہیں ہے۔ 'دی لیجنڈ آف ووان' نامی کامک بک بھی لانچ کی گئی ہے جو ناظرین کو اس فلم کی وسیع لوک کہانی سے متعارف کرواتی ہے۔ یعنی سازشیوں نے صرف ایک فلم نہیں بنائی، بلکہ ایک پورا یونیورس تیار کیا ہے، جو ظاہر ہے کہ ایک دلچسپ اپروچ ہے۔
فلم کا مستقبل: کہاں تک جائے گا یہ سفر؟
فلم کی ریلیز ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب باکس آفس پر پہلے سے ہی مقابلہ زوروں پر ہے۔ ایک طرف 'ایوینجرز: اینڈگیم' دوبارہ ریلیز ہوئی ہے، تو دوسری طرف 'پیراڈائز' جیسی فلمیں بھی میدان میں ہیں۔ ایسے میں 'دی ووان' کا اچھا آغاز کرنا اپنے آپ میں ایک بڑی بات ہے۔ لیکن اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ فلم صرف پہلے دن کا تماشہ ہے یا طویل مدت میں بھی اپنا جادو دکھا پائے گی؟ ایک ریویو میں لکھا گیا کہ فلم کی پریزنٹیشن ٹی وی شو جیسی ہے۔ تاہم، کہانی کی مضبوط بنیاد اور سدھارتھ کا منفرد کردار اسے مضبوط پوزیشن میں رکھتا ہے۔ کیا سدھارتھ ملہوترا لوک کہانیوں کے اس میدان میں بھی ہیرو بن کر ابھریں گے یا یہ ایک اور تجربہ ثابت ہوگا؟ کیا خیال ہے آپ کا؟
