MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

غبارے میں ہوا کم ہے؟ دانیال ظفر اور نادیہ افغان کی گرما گرم بحث

کچھ عرصے پہلے ہی ڈرامہ زنجیریں سے خوب داد سمیٹنے والے دانیال ظفر کا اگلا پراجیکٹ رقاص آج کل آن ائیر ہے۔ لیکن کامیابی کی لہر ابھی ٹھنڈی بھی نہیں ہوئی تھی کہ سینئر اداکارہ نادیہ افغان نے ڈرامہ ریویو شو کیا ڈرامہ ہے میں رقاص کے کردار کا بھرپور تجزیہ کر دیا — اور وہ تجزیہ خاصا ہوا نکالنے والا تھا۔

نادیہ افغان کوئی معمولی ناقد نہیں ہیں۔ پاکستانی ٹیلی ویژن پر دہائیوں کا تجربہ رکھنے والی یہ اداکارہ فیملی فرنٹ سے لے کر ہم ٹی وی کے مقبول کامیڈی ڈرامے سنو چندا تک میں اپنی اداکاری کا لوہا منوا چکی ہیں۔ جب وہ کسی کردار پر رائے دیتی ہیں تو سننے والے غور کرتے ہیں — چاہے وہ رائے تعریف ہو یا تنقید۔ اس بار تنقید تھی، اور خوب تھی۔

افغان نے رقاص میں دانیال کے کردار کا موازنہ زنجیریں کے کردار سربلند سے کیا اور کہا کہ نیا کردار بالکل ایسا ہے جیسے غبارے سے ہوا نکال دی جائے اور وہ سکڑ جائے — یعنی سربلند کا ڈیفلیٹڈ ورژن۔ اس پر نادیہ خان نے بھی حصہ لیا اور کہا کہ دانیال کم ہوا والے ٹائر کی طرح لگ رہے ہیں۔ اب غبارہ اور ٹائر دونوں ایک ساتھ — دانیال کے لیے یہ دن کچھ خاص نہیں رہا ہوگا۔

افغان کا اصل اعتراض یہ تھا کہ رقاص کا کردار پرائیڈ اینڈ پریجوڈس کے فٹزولیم ڈارسی یا ودرنگ ہائٹس کے ہیتھکلف جیسا مغرور اور پراسرار ہیرو بننے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن مکالمے اس تاثر سے میل نہیں کھاتے۔ ڈارسی اور ہیتھکلف کے کردار ادبی تاریخ کے سب سے یادگار کرداروں میں شمار ہوتے ہیں — انہیں سکرین پر لانے کے لیے مکالمے اور اداکاری دونوں کا ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔ افغان کی رائے میں یہ ہم آہنگی ابھی نظر نہیں آئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دانیال ابھی نئے اداکار ہیں اور خود کو نکھارنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔

لیکن اہم بات یہ ہے کہ اسی پروگرام میں افغان نے زنجیریں کی آخری قسط میں دانیال اور ان کی ہم اداکارہ سجل علی کی پرفارمنس کو خوب سراہا بھی۔ تو گویا مسئلہ دانیال کی صلاحیت کا نہیں، بلکہ اس مخصوص کردار کا ہے جو ابھی ناظرین کو مطمئن نہیں کر پا رہا۔

دانیال ظفر نے اس سب پر انسٹاگرام پر اپنے مخصوص رمزیہ انداز میں جواب دیا۔ شو کے سیٹ کی تصویریں اور ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں ایک نیا کمپلیمنٹ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فکشنل کرداروں اور حقیقی انسانوں کے درمیان فرق واضح کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ فرق زیادہ تر لوگوں کو نظر نہیں آتا — یعنی کردار کی تنقید کو ان کی ذات سے جوڑنا ٹھیک نہیں۔ یہ بات قابلِ غور ہے: اداکار اور کردار دو الگ وجود ہوتے ہیں، اور ناظرین اکثر یہ فرق بھول جاتے ہیں۔

پراجیکٹس کے انتخاب کے بارے میں دانیال نے بتایا کہ کہانی کا معنی ان کے لیے سب سے اہم ہوتا ہے۔ رقاص اس لیے سائن کیا کیونکہ یہ معاشرے میں، خاص طور پر گھروں میں، خواتین اور لڑکیوں کو درپیش اظہار کی پامالی کے موضوع پر روشنی ڈالتا ہے۔ انہوں نے شپنگ کلچر کے گرد زہریلے ماحول کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور افسوس ظاہر کیا کہ ڈیجیٹل ترقی لوگوں کو قریب لانے کی بجائے دور کر رہی ہے۔ لیکن سب سے چبھنے والا فقرہ آخر میں تھا: برائے مہربانی اپنی فریکوئنسی ایڈجسٹ کریں۔

اب سوال یہ ہے کہ فریکوئنسی کس کو ایڈجسٹ کرنی ہے؟ نادیہ افغان کی تنقید بے بنیاد نہیں — برسوں کے تجربے سے آنے والی رائے ہے، اور غبارے اور ٹائر کی تشبیہیں بھلے کڑوی لگیں، ان میں ایک اصل نکتہ بھی ہے۔ دوسری طرف دانیال ظفر ایک ایسے اداکار ہیں جو ابھی اپنی شناخت بنا رہے ہیں، زنجیریں میں کامیابی ملی، اور سجل علی جیسی تجربہ کار اداکارہ کے ساتھ کام کرنے کا موقع بھی ملا۔ تنقید کو 'نیا کمپلیمنٹ' کہہ کر قبول کر لینا ایک ہنر ہے — لیکن 'فریکوئنسی ایڈجسٹ کریں' والا طنز بتاتا ہے کہ اندر سے بات لگی ضرور ہے۔

فیصلہ آپ پر: کردار پچکا ہوا ہے، یا ناقد کی فریکوئنسی گڑبڑ ہے؟

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔