MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
لائف اسٹائل

ٹاکسک لوگوں سے دور رہو — سائنس کہتی ہے ورنہ جلدی بوڑھے ہو جاؤ گے

Pexels

ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ اپنی اصل عمر سے کم نظر آئے، بلکہ محسوس بھی کرے۔ لیکن اگر ہم آپ کو بتائیں کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نہ صرف آپ کا ذہنی سکون چھین لیتے ہیں بلکہ آپ کے جسم کو وقت سے پہلے بوڑھا بھی کر دیتے ہیں؟ یہ کوئی ٹوٹکا نہیں — ایک نئی امریکی تحقیق نے باقاعدہ ثبوت کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ ٹاکسک تعلقات آپ کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتے ہیں۔ ہم پاکستانیوں کے لیے تو یہ ایک پورا نیا باب کھل گیا ہے، کیونکہ ہمارے ہاں رشتوں کا جال ہی کچھ ایسا ہے کہ ٹاکسک لوگ ڈھونڈنے دور نہیں جانا پڑتا۔

ٹاکسک لوگ، زبردست نقصان

یہ تحقیق امریکی ریاست انڈیانا کے 2300 بالغ افراد پر کی گئی اور اس کے نتائج سائنسی جریدے Proceedings of the National Academy of Sciences میں شائع ہوئے۔ محققین نے سب سے پہلے ٹاکسک لوگوں کی تعریف واضح کی — یعنی وہ لوگ جو مسلسل مسائل پیدا کریں، ذہنی دباؤ دیں، یا دوسروں کی زندگی مشکل بنائیں۔ پاکستان میں ہر بندہ ایسے ایک آدھ شخص کو تو ضرور جانتا ہو گا، اور بعض اوقات وہ ہمارے بہت قریبی بھی ہوتے ہیں۔ محققین جاننا چاہتے تھے کہ کیا ایسے لوگ ہماری بائیولوجیکل ایجنگ — یعنی جسم کی اندرونی عمر — پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

نتائج نے سب کو حیران کر دیا۔ تحقیق سے ثابت ہوا کہ منفی سماجی تعلقات واقعی بڑھاپے کی رفتار کو تیز کرتے ہیں۔ نیویارک یونیورسٹی میں سوشیالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور اس تحقیق کے مرکزی مصنف Byungkyu Lee کے مطابق، منفی سماجی تعلقات عمر سے متعلق بائیولوجیکل عمل کو تیز کر سکتے ہیں۔ یعنی سادہ الفاظ میں، آپ کے آس پاس موجود ہر ایک ٹاکسک شخص آپ کی عمر کی گھڑی کو تیز کر رہا ہے۔

تحقیق کے مطابق ہر ایک اضافی ٹاکسک شخص آپ کے جسم کے بڑھاپے کی رفتار میں تقریباً 1.5 فیصد اضافہ کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کیلنڈر کے حساب سے ایک سال گزرتا ہے، لیکن آپ کا جسم اندرونی طور پر تقریباً 1.015 سال بوڑھا ہو جاتا ہے۔ لگتا ہے اب ہمیں ہر رشتہ دار کی لسٹ بنانی پڑے گی کہ کتنے پرسنٹ ریٹائرمنٹ پلان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مزید درستگی کے لیے سائنسدانوں نے لعاب کے نمونوں کا تجزیہ بھی کیا۔ نتائج سامنے آئے کہ جو لوگ ٹاکسک رشتوں کا شکار تھے، ان کی بائیولوجیکل عمر اپنے ہم عمروں سے نو ماہ زیادہ تھی۔ نو ماہ! یعنی بندہ ایک سال کی بجائے سوا سال بوڑھا ہو رہا ہے — کیا یہ ظلم نہیں؟

یہ زہر کہاں سے آتا ہے اور کس کو زیادہ لگتا ہے؟

Byungkyu Lee نے یہ بھی واضح کیا کہ بائیولوجیکل ایجنگ ایک جمع ہونے والا عمل ہے — چھوٹے چھوٹے سالانہ فرق بھی وقت کے ساتھ ساتھ بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتے ہیں۔ یعنی آج ایک ٹاکسک بندے کو برداشت کر لیا تو ٹھیک ہے، لیکن اگر مسلسل ایسے لوگوں کے ساتھ رہنا پڑا تو کچھ سالوں میں باڈی والا میٹر کئی سال آگے نکل جائے گا۔ سب سے بڑی وجہ جو تحقیق میں سامنے آئی وہ ہے کرونک سٹریس — ٹاکسک رشتے آپ کو مسلسل دباؤ میں رکھتے ہیں، اور یہ دباؤ جسم کے ان میکانزم کو متاثر کرتا ہے جو بڑھاپے کے عمل سے جڑے ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی کئی دہائیوں پر محیط تحقیق نے بھی یہی ثابت کیا تھا کہ اچھے سماجی تعلقات لمبی اور صحت مند زندگی کے لیے سب سے اہم عوامل میں سے ایک ہیں۔

مزید حیران کن بات یہ ہے کہ یہ زہریلے رشتے زیادہ تر انہی لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جن سے بچنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے — جیسے خاندان والے اور کام کی جگہ کے لوگ۔ دوستوں کے ساتھ عموماً ٹاکسک رویہ کم ہوتا ہے کیونکہ دوست ہم خود چنتے ہیں، اور نہ بنے تو بندہ چپ چاپ نکل جاتا ہے۔ لیکن فیملی اور باس کو بلاک کیسے کریں گے بھلا؟

تحقیق میں کچھ خاص گروہوں کی نشاندہی بھی کی گئی جو ان اثرات کے زیادہ شکار ہوتے ہیں — ان میں خواتین، پہلے سے کمزور صحت والے افراد، اور وہ لوگ شامل ہیں جنہوں نے بچپن میں ہراسانی یا مشکل تجربات کا سامنا کیا ہو۔ یہ تو برداشت کرو کے کلچر میں رہنے والوں کے لیے ایک اور وار ہے۔

بچاؤ کا راستہ: اپنی عمر بچاؤ!

تو کیا کیا جائے؟ کیا لوگوں سے ملنا جلنا ہی چھوڑ دیں؟ بالکل نہیں۔ سائنسدانوں نے یہی مشورہ دیا ہے کہ سب سے پہلے ٹاکسک رشتوں کو پہچاننا سیکھیں، پھر یا تو ان سے دوری اختیار کریں یا بہت واضح حدیں قائم کریں۔ اپنی ذہنی اور جسمانی صحت کی حفاظت کرنا اب صرف اچھا محسوس کرنے تک محدود نہیں رہا — یہ آپ کی عمر بچانے کا بھی ایک طریقہ ہے۔

جب بھی کوئی آنٹی پوچھے کہ بیٹا شادی کب کر رہے ہو، یا کوئی کولیگ آپ کی محنت کو کم سمجھے، تو بس ایک ہی بات یاد رکھنا: میری بائیولوجیکل ایجنگ بڑھ رہی ہے، اور یہ سب آپ کی وجہ سے ہے۔ اب یہ نہ کہنا کہ ہم نے بتایا نہیں۔

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔