MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

علی ظفر-میشا شفیع کیس میں ایک اور موڑ: ہائی کورٹ نے مکمل حکم معطل کرنے سے انکار کر دیا

اوکے، تو فائنلی، علی ظفر اور میشا شفیع کے ہائی پروفائل ڈیفیمیشن کیس میں ایک اور بڑا موڑ آ گیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو مکمل طور پر معطل کرنے سے انکار کر دیا ہے جو علی ظفر کے حق میں آیا تھا۔ مطلب، کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی، بس ایک اور نئی قسط آن ایئر ہو گئی ہے!

یاد ہے نا؟ یہ پورا معاملہ 2018 میں شروع ہوا تھا جب میشا شفیع نے عوامی سطح پر علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات لگائے تھے۔ علی ظفر — پاکستان کے سپر اسٹار، سنگر، ایکٹر، ماڈل، پروڈیوسر اور مصور — نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی۔ اس کے بعد انہوں نے میشا شفیع کے خلاف ایک ارب روپے ہرجانے کا ڈیفیمیشن سوٹ دائر کر دیا۔ میشا شفیع بھی پاکستانی نژاد کینیڈین سنگر، ایکٹر اور ماڈل ہیں، یعنی دونوں ہی اپنے اپنے شعبے کے بڑے نام۔ یہ قانونی جنگ تقریباً آٹھ سال تک جاری رہی، اور فینز تو جیسے یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ شاید کبھی اس کا کوئی فیصلہ نہیں آئے گا۔

پھر مارچ 2026 میں لاہور سیشنز کورٹ نے اپنا فیصلہ سنایا۔ کورٹ نے میشا شفیع کو پانچ ملین روپے ہرجانہ علی ظفر کو ادا کرنے کا حکم دیا اور انہیں پرنٹ، الیکٹرانک یا سوشل میڈیا پر یہ الزامات دہرانے یا شائع کرنے سے روک دیا۔ کورٹ کا کہنا تھا کہ میشا شفیع الزامات ثابت کرنے کے لیے کافی شواہد پیش نہیں کر سکیں اور ان کے بیانات کو قابلِ اعتراض ڈیفیمیشن قرار دیا گیا۔ اب میشا نے اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے، جس میں قانون اور حقائق میں غلطیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہراسانی کی اصل کارروائی ابھی حتمی طور پر حل نہیں ہوئی۔

ہائی کورٹ کا جزوی ریلیف

4 مئی 2026 کو لاہور ہائی کورٹ نے میشا شفیع کو محدود عارضی ریلیف دے دیا، لیکن یہ ریلیف صرف مالی ہرجانے کے حوالے سے ہے۔ عدالت نے پانچ ملین روپے کے ہرجانے والے حصے کو مشروط طور پر عارضی معطل کرنے کی اجازت دی، لیکن اس کے ساتھ شرائط بھی لگا دیں۔ ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ میشا شفیع کو ہرجانے کی رقم کا پچاس فیصد ڈپٹی رجسٹرار (جوڈیشل) کے پاس جمع کرانا ہوگا اور باقی پچاس فیصد کے لیے ضمانت دینی ہوگی۔ یہ مشروط معطلی تب ہی لاگو ہو گی جب یہ شرائط پوری ہو جائیں گی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کورٹ نے میشا شفیع کی وہ درخواست قبول نہیں کی جس میں مکمل فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ باقی حصے، بشمول وہ پابندی جو میشا شفیع کو ہراسانی کے الزامات دہرانے سے روکتی ہے، ابھی بھی اپنی جگہ قائم ہیں۔

کہانی ابھی باقی ہے!

اب سب سے اہم بات یہ کہ ہائی کورٹ کے اس حکم کو کوئی حتمی فیصلہ مت سمجھ لینا! ہائی کورٹ نے ابھی تک میشا شفیع کی اصل اپیل پر کوئی رائے نہیں دی کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ قانون اور حقائق کے مطابق صحیح تھا یا غلط۔ یہ صرف ایک عارضی حکم ہے جو اپیل کی سماعت جاری رہنے کے دوران دیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ کا حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھ سکتا ہے، اس میں ترمیم کر سکتا ہے، یا اسے مکمل طور پر کالعدم قرار دے سکتا ہے۔

اگلا موڑ کیا ہوگا؟

اب ایک اور ٹوئسٹ یہ ہے کہ علی ظفر کی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ عارضی ریلیف کے ساتھ جو شرائط لگائی گئی تھیں، یعنی پیسے جمع کرانا اور ضمانت دینا، وہ مقررہ دو ماہ کی مدت میں پوری نہیں کی گئیں۔ اگر کورٹ یہ طے کرے کہ شرائط پوری نہیں ہوئیں، تو مالی ہرجانے والے حصے کی مشروط معطلی بھی لاگو نہیں ہوگی اور معاملہ پھر سے اپنی پرانی جگہ پر آ جائے گا۔ یہ مسئلہ اپیل کے حتمی فیصلے سے الگ ہے، یعنی قانونی پیچیدگیاں ابھی اور بڑھ سکتی ہیں۔

جب تک یہ معاملہ چل رہا ہے، پاکستان کے قانونی اور انٹرٹینمنٹ حلقوں میں یہ کیس اپنی جگہ بنائے رکھے گا۔ علی ظفر جہاں ایک طرف موسیقی، اداکاری، کنسرٹس اور انسانی ہمدردی کے کاموں میں مصروف ہیں — اور 2021 میں فنون لطیفہ اور موسیقی میں خدمات کے اعتراف میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا جا چکا ہے — وہیں یہ کیس بھی ان کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ سچی بات ہے، اتنے سالوں سے چلتا ہوا یہ کیس اب پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا ایک سیریل بن چکا ہے جس کی ہر قسط پر مداحوں کو بے صبری سے انتظار رہتا ہے۔ دیکھتے ہیں سیزن فائنل کب اور کس موڑ پر آتا ہے!

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔