MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

ماہیرہ اور وہاج آگئے! 'مٹی دے باوے' میں کیا دھماکہ ہونے والا ہے؟

via Instagram @mahirahkhan

ہاں بھئی، تیاری کر لو سب! جس لمحے کا انتظار تھا، وہ آگیا ہے۔ ماہیرہ خان تین سال بعد چھوٹے پردے پر واپس آ رہی ہیں، اور وہ بھی وہاج علی کے ساتھ! یہ دونوں پہلی بار ایک ساتھ 'مٹی دے باوے' میں نظر آئیں گے، اور اس ڈرامے کا شور تو کب سے مچا ہوا ہے۔ اوپر سے ماہیرہ نے حال ہی میں اپنی دوسری پریگننسی کا اعلان کیا ہے، تو بھائی، ہر طرف ان کی باتیں ہو رہی ہیں۔ ایک طرف پروفیشنل کم بیک اور دوسری طرف فیملی نیوز، ماہیرہ نے توڈرامے کے ذریعے اپنے فینز کو پھر سے یاد دلایا ہے۔

ماہیرہ خان نے اپنی اداکاری سے پاکستانی اسکرین پر ایک الگ مقام بنایا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی اداکاری اور کرشمے سے لوگوں کو اپنا دیوانہ بنایا ہے۔ تین سال کا وقفہ چھوٹے پردے سے ایک لمبا عرصہ ہوتا ہے، اور فینز انہیں شدت سے یاد کر رہے تھے۔ ان کا کم بیک ڈرامہ انڈسٹری کے لیے بھی ایک بڑی خبر ہے، کیونکہ وہ جو بھی پروجیکٹ کرتی ہیں، وہ ایک بینچ مارک بن جاتا ہے۔ دوسری طرف، وہاج علی، ان کی مقبولیت آسمان کو چھو رہی ہے۔ ان کی پرفارمنس کی گہرائی اور کردار میں ڈوب جانے کی صلاحیت انہیں آج کے ٹاپ ایکٹرز میں شامل کرتی ہے۔ دو لکس سٹائل ایوارڈز اور دو ہم ایوارڈز کی نامزدگیوں سے ان کی محنت کا ثبوت ملتا ہے۔ یہ دونوں جب ایک فریم میں ہوں گے تو سکرین پر آگ لگ جائے گی، اس میں کوئی شک نہیں!

کہانی کیا ہے؟ رومانس یا پھر بدلہ؟

اچھا تو اب آتے ہیں کہانی کی طرف، کیونکہ 'مٹی دے باوے' کے ٹیزرز نے تو ہمیں بہت سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ اس ڈرامے کی ڈائریکشن سید وجاہت حسین نے دی ہے، جن کا کام ہم پہلے بھی دیکھ چکے ہیں، اور اسکرین پلے کی ذمہ داری فیضہ افتخار نے نبھائی ہے، جن کی کہانیاں اکثر حقیقت کے قریب ہوتی ہیں۔ یہ ایک شدید ڈرامہ ہے جو انتقام، محبت، طبقاتی تصادم اور قسمت کے گرد گھومتا ہے۔ کہانی کا پس منظر پنجاب کا دیہی علاقہ ہے، جو کہانی کو ایک دیسی اور روایتی ٹچ دیتا ہے اور اس طرح کے پس منظر میں بدلے اور محبت کی کہانیاں اور زیادہ سنسنی خیز ہو جاتی ہیں۔ پرومو سے پتا چلتا ہے کہ اقبال چنن عرف بالا (وہاج علی) اور بلقیس بانو عرف بلو (ماہیرہ خان) بچپن کے پیار میں غرق ہوتے ہیں، لیکن قسمت انہیں جدا کر دیتی ہے۔ اور پھر ... 19-20 سال بعد دوبارہ ملتے ہیں۔ یہ 'پرانے پیار کی واپسی' والا ٹروپ پاکستانی ڈراموں کی جان ہے، لیکن اس بار ماہیرہ اور وہاج جیسے بڑے ناموں کے ساتھ، یہ کیسا لگے گا؟ کیا یہ صرف پرانی شراب نئے گلاس میں پیش کی گئی ہے یا کچھ واقعی نیا اور منفرد دیکھنے کو ملے گا جو ہمارے دل جیت لے گا؟ امید تو یہی ہے کہ وہاج اور ماہیرہ اس پرانی کہانی میں بھی نئی روح پھونک دیں گے۔

کون کون ہے اس کاسٹ میں؟

صرف ماہیرہ اور وہاج ہی نہیں، 'مٹی دے باوے' کی کاسٹ بہت مضبوط اور متنوع ہے۔ سمیہ ممتاز جیسی تجربہ کار اداکارہ 'مائی پٹھان' کے کردار میں ہیں، جن کی اداکاری میں ہمیشہ ایک گہرائی اور وزن ہوتا ہے۔ نور الحسن 'ڈی ایس پی نواز خان' بنے ہیں، ان کا کام بھی ہمیشہ متاثر کن رہتا ہے۔ فریال محمود 'ستارہ' کے روپ میں، احمد رندھاوا 'اسلم عرف آچی'، امر خان 'زرینہ' اور حنا افریدی 'قمرالنسا' کے کردار میں نظر آئیں گے۔ ان سب نے پاکستانی ڈراموں میں اپنی پہچان بنائی ہے۔ اور ہاں، کہانی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے، چھوٹے بالا اور چھوٹی بلو کے کردار میں نوجوان اداکار نظر آئیں گے، جو کہانی کی بنیاد کو پکا کریں گے۔ اتنی تگڑی اور مختلف ٹیلنٹ سے بھری کاسٹ کے ساتھ تو ڈرامہ ہٹ ہونے کا چانس اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ ہر ایک کا اپنا سٹائل اور اپنی فین فالوونگ ہے، اور جب یہ سب ایک ساتھ آئیں گے تو سکرین پر ایک الگ ہی جادو چلے گا، جو ناظرین کو اپنی سیٹ سے چپکا کر رکھے گا۔

کہاں اور کب دیکھیں؟

اب بات کر لیتے ہیں کہ اس ماسٹر پیس کو ہم دیکھیں گے کہاں اور کب؟ 'مٹی دے باوے' کی پہلی قسط آج گرین ٹی وی پر رات 8 بجے (پاکستانی وقت) نشر ہوگی۔ آپ سب اپنا ریموٹ اور پاپ کارن تیار رکھیں! اگر آپ پاکستان سے باہر ہیں، خاص طور پر انڈیا میں، تو وہاں یہ تقریباً دو گھنٹے بعد یعنی رات 10 بجے انڈین سٹینڈرڈ ٹائم پر دستیاب ہوگی۔ انڈین سامعین اسے یوٹیوب چینلز پر مفت دیکھ سکتے ہیں۔ دنیا بھر کے فینز کے لیے، یہ قسط اہم پلیٹ فارمز پر ایچ ڈی کوالٹی میں پریمیئر کے دو گھنٹے بعد بالکل مفت دستیاب ہوگی۔ تو بھائی، دیکھنے کے لیے اتنے سارے آپشنز ہیں کہ کوئی بہانہ نہیں چلے گا، چاہے آپ کسی بھی کونے میں بیٹھے ہوں۔ یہ ڈرامہ ضرور دیکھنا ہے، کیونکہ جب ماہیرہ اور وہاج ایک ساتھ ہوں، تو کچھ بھی مس نہیں کرنا چاہیے!

اب بس انتظار اس بات کا ہے کہ یہ 'مٹی دے باوے' کیسی مٹی پلید کرتی ہے یا سب کے دل جیت جاتی ہے۔ آپ سب نے دیکھنا ہے نا؟ یا صرف انسٹاگرام پر ٹیزر دیکھ کر ہی گزر کر لیں گے؟ کمنٹ باکس میں بتانا مت بھولنا!

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔