ڈائٹ نہیں کام کر رہی؟ وجہ آپ کی پلیٹ میں نہیں، آپ کے تکیے میں ہے

آج کل ہر دوسرا بندہ ڈائٹ اور جم کے چکروں میں پڑا ہے۔ کسی کو وزن گھٹانا ہے، کسی کو فٹ رہنا ہے، تو کوئی بس سوشل میڈیا پر اچھا دکھنا چاہتا ہے۔ لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنی نیند کو بھی اتنا ہی ضروری سمجھتے ہیں جتنا اپنی ڈائٹ اور ورک آؤٹ کو؟ ڈاکٹر Laurence Plumey نے اسی بات پر زور دیا ہے کہ ہماری راتوں کی نیند وزن کم کرنے میں اتنی ہی اہم ہے جتنا ہمارا کھانا پینا۔ ڈاکٹر Plumey کہتی ہیں کہ ہم اکثر نیند کی اہمیت کو بہت ہلکا لیتے ہیں، حالانکہ یہی ہماری صحت اور وزن کے لیے ایک خاموش لیکن طاقتور کلید ہے۔
ہم اکثر یہی سوچتے ہیں کہ بس کم کھا لو، چینی چھوڑ دو، اور روز جم چلے جاؤ، وزن خود بخود کم ہو جائے گا۔ ہم اپنی ساری توجہ کیلوریز اور ورزش پر لگا دیتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ ہمارا جسم صرف دن میں کام نہیں کرتا، اسے رات میں بھی بہت کچھ کرنا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر Plumey بتاتی ہیں کہ رات دیر تک فون پر ریلز دیکھتے رہنا یا کوئی نئی سیریز نمٹانا ہمیں بے ضرر لگتا ہے، لیکن یہ عادات ہماری صحت کی جڑیں ہلا دیتی ہیں۔ ہمارا جسم نیند کے دوران ہی خود کو مرمت کرتا ہے، ضروری ہارمونز کو بیلنس کرتا ہے، اور اگلے دن کے لیے انرجی بھرتا ہے۔ سوچیں، اگر آپ کا فون پوری رات چارج نہ ہو تو اگلے دن کیا حال ہوتا ہے؟ بس کچھ ایسا ہی ہمارے جسم کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ نیند پوری نہ ہو تو یہ سارے ضروری کام ادھورے رہ جاتے ہیں، جس کا نتیجہ صرف تھکاوٹ نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہمارے کھانے پینے کی عادات کو بھی خراب کرتا ہے۔
راتوں کی بربادی، وزن کا چڑھنا
جب آپ کی نیند پوری نہیں ہوتی تو جسم تھکا ہوا محسوس کرتا ہے۔ ڈاکٹر Plumey بتاتی ہیں کہ جب ہم تھکے ہوئے ہوتے ہیں تو جسم کو یہ لگتا ہے کہ اسے انرجی بچانی ہے۔ تو وہ کیا کرتا ہے؟ ہمیں سست کرتا ہے، اور ہم کم ہلتے جلتے ہیں۔ اسی کے ساتھ، دل کرتا ہے کہ بس کاربز اور میٹھی چیزیں کھاتے رہو، کیونکہ یہ چیزیں فوراً انرجی دیتی ہیں۔ کیا آپ نے کبھی نوٹ کیا ہے کہ جب آپ تھکے ہوئے ہوتے ہیں تو فوراً چاکلیٹ یا کوئی میٹھا کھانے کا دل کیوں کرتا ہے؟ بالکل یہی وجہ ہے۔ ماہرِ نیند ڈاکٹر Olivier Coste بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق رات کو ہمارا جسم leptin نامی ہارمون بناتا ہے جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ پیٹ بھر گیا، جبکہ دن میں ghrelin بنتا ہے جو بھوک کا احساس دلاتا ہے۔
نیند کی کمی سے یہ سارا ہارمونل توازن گڑبڑ ہو جاتا ہے۔ یعنی leptin صحیح سے نہیں بنتا اور ghrelin کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جس کی وجہ سے ہمیں فضول میں بھوک لگتی ہے اور ہم ضرورت سے زیادہ کھا لیتے ہیں۔ اب آپ سوچیں، جب آپ کو فالتو میں بھوک لگے گی تو کون سی ڈائٹ کام کرے گی؟ بھلے آپ کتنی ہی مرضی پروٹین اور سبزیاں کھا لیں، اگر آپ کے ہارمونز ہی بے قابو ہیں تو بھوک آپ کو چین سے بیٹھنے نہیں دے گی۔ اور بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر Plumey ایک اور اہم بات بتاتی ہیں: جب دماغ تھکا ہوا ہوتا ہے تو وہ اسٹریس موڈ پر چلا جاتا ہے اور cortisol نامی ہارمون کی پیداوار بڑھا دیتا ہے۔ یہ cortisol وہ ہارمون ہے جو جسم میں چربی جمع کرنے کا کام کرتا ہے، خاص طور پر پیٹ کے گرد۔ تو بھائیو اور بہنو، اگر آپ کا وزن پیٹ پر سے نہیں جا رہا اور آپ نے ہر قسم کی ڈائٹ آزما لی ہے، تو ایک نظر اپنی نیند پر ڈالیں۔
نیند ہی اصل جادو کی گولی ہے
ڈاکٹر Plumey کے مطابق اس سارے مسئلے کا حل ہمارے سونے کے شیڈول میں چھپا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ melatonin نامی ہارمون رات گیارہ بجے کے قریب بننا شروع ہوتا ہے اور رات ایک بجے تک اپنی بلندیوں پر ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب نیند سب سے گہری اور سب سے زیادہ تازہ دم کرنے والی ہوتی ہے۔ اگر آپ اس وقت کو مس کرتے ہیں تو سمجھو آپ نے ایک سنہری موقع گنوا دیا۔ سات سے آٹھ گھنٹے کی اچھی اور پرسکون نیند کے دوران ہمارا جسم بہت سے ضروری کام کرتا ہے۔ دماغ یادداشت کو بہتر بناتا ہے، جسم سے زہریلے مادے نکالتا ہے، اینٹی آکسیڈنٹس بناتا ہے اور سارے ہارمونز کو بیلنس کرتا ہے۔ یہ صرف وزن کم کرنے کی بات نہیں، یہ آپ کی مجموعی صحت، موڈ اور انرجی لیولز کے لیے بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ جب نیند پوری ہوتی ہے تو انرجی بڑھتی ہے، جسمانی سرگرمی زیادہ ہوتی ہے اور بھوک قدرتی طریقے سے قابو میں رہتی ہے — اور یہ تینوں چیزیں مل کر وزن کم کرنے کے عمل کو اصل رفتار دیتی ہیں۔
تو یارو، اگلی بار جب آپ سوچ رہے ہوں کہ آج کون سی نئی ڈائٹ شروع کریں یا کون سا نیا سپلیمنٹ لیں، تو ایک لمحے کے لیے رکیں اور اپنی نیند پر غور کریں۔ ڈاکٹر Plumey کی بات بالکل سیدھی ہے: وزن کم کرنا ہے تو پہلے سونا شروع کرو! تو کیا کہتے ہو؟ آج رات سے فون ایک طرف رکھ کر تھوڑی جلدی سونے کی کوشش کی جائے؟ کیا پتا یہی وہ گم ہوئی کڑی ہو جو آپ کی ڈائٹ پلان کو کامیاب بنا دے!
