ایڈ شیران کے ٹور سے نکالے جانے کے بعد میکلمور کا 'فری فلسطین ٹور'

میکلمور، جسے ہم سب مختلف ہٹ گانوں سے جانتے ہیں، وہ صرف ایک گرامی ایوارڈ یافتہ ریپر ہی نہیں، بلکہ اب ایک بولڈ سٹیٹمنٹ میکر بھی بن گیا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے اسے ایڈ شیران کے امریکی ٹور سے باہر کر دیا گیا تھا کیونکہ اس نے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ اب کیا؟ اب اس نے اپنا 'فری فلسطین ٹور' اناؤنس کر دیا ہے۔ یہ ٹور اکتوبر کے آخر میں ڈبلن، پیرس اور لندن میں ہوگا، اور اس کے بعد امریکی شوز کی بھی پلاننگ ہو رہی ہے۔
جو لوگ میکلمور کو زیادہ نہیں جانتے، انہیں بتاتے چلیں کہ یہ 43 سال کے امریکی ریپر ہیں اور سپوٹیفائی پر ہر مہینے تقریباً 40 ملین سننے والے ہیں۔ یہ وہ آرٹسٹ ہے جو صرف گانے نہیں بناتا، بلکہ اپنے فن کو سماجی مسائل کے لیے بھی استعمال کرتا رہا ہے۔ اس لیے اس کا فلسطین کے حق میں کھڑا ہونا بالکل اچانک نہیں آیا۔
یہ سارا سین شروع ہوا تھا 4 ستمبر کو نیو جرسی کے میٹ لائف سٹیڈیم سے، جب میکلمور ایڈ شیران کے اوپننگ ایکٹس میں سے ایک تھا۔ اس نے وہاں کھڑے ہو کر کھلے عام 'فری فلسطین' کا نعرہ لگایا اور سامعین کو بتایا کہ یہی ٹور کرنے کی ایک بڑی وجہ تھی کہ وہ ایسے بڑے سٹیڈیمز میں یہ دو الفاظ کہہ سکے۔ اس نے امن اور تمام انسانوں کے لیے وقار، احترام اور مساوات کی بات کی۔ لیکن یہ بات کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہوئی اور پھر خبر آئی کہ اسے شیران کے ٹور سے ہٹا دیا گیا ہے۔
ٹور سے نکالے جانے کا اصل فنڈا
اس سارے معاملے میں ایک اور بڑا نام سامنے آیا: سٹیڈیم کے مالک رابرٹ کرافٹ کا۔ کرافٹ، جو ایک یہودی-امریکی ارب پتی ہیں اور اسرائیلی مقاصد کے لیے چندہ دیتے رہے ہیں، انہوں نے باقاعدہ اعلان کیا کہ میکلمور پر انسداد سامیت کے الزامات کی وجہ سے انہیں میساچوسٹس کے گلیٹ سٹیڈیم میں پرفارم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، جو بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں گرفتاری وارنٹ کے تحت ہیں، انہوں نے 2019 میں کرافٹ کو اسرائیل کا سب سے وفادار دوست قرار دیا تھا۔
میکلمور کا دعویٰ ہے کہ کرافٹ نے باقی سٹیڈیم مالکان کو بھی اکٹھا کیا اور انہیں قائل کیا کہ اگر میکلمور ٹور میں رہا تو وہ اپنے سٹیڈیمز میں شو نہیں ہونے دیں گے۔ میکلمور کے مطابق، اس کے بعد تمام مالکان نے اجتماعی طور پر شیران کو یہ بات پہنچا دی کہ اگر میکلمور کو ٹور سے نہ ہٹایا گیا تو ٹور آگے نہیں بڑھے گا۔ نہ شیران نے اور نہ کرافٹ نے ان مخصوص الزامات پر کوئی تبصرہ کیا، تاہم شیران نے اتنا ضرور کہا کہ یہ فیصلہ ٹور پرموٹر کا تھا۔ باقی سوالات ہوا میں لٹک رہے ہیں۔
فنکاروں کی ذمہ داری اور 'فری فلسطین ٹور'
میکلمور نے اس سارے معاملے پر ایک مفصل بیان جاری کیا ہے جس میں اس نے کہا کہ پچھلے تین سالوں میں کچھ بدلا ہے اور فلسطینی آزادی کے گرد ایک اجتماعی بیداری آ چکی ہے۔ اس نے زور دیا کہ 2026 میں نسل کشی کے دوران غیر سیاسی رہنا اب کام نہیں کرے گا۔ اس کے مطابق، لوگ فنکاروں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ آگے آئیں، خود کو تعلیم دیں، اور معاشرے کا حصہ بنیں — اپنے سٹیج کو صرف انٹرٹینمنٹ سے بڑھ کر استعمال کریں۔
اس ٹور کی خاص بات یہ ہے کہ اس سے حاصل ہونے والی ساری رقم فلسطینی عوام اور وسیع تحریک کی حمایت کے لیے عطیہ کی جائے گی۔ میکلمور نے کہا کہ اس کے ساتھ دوسرے موسیقار بھی ہوں گے جن کے نام جلد اناؤنس کیے جائیں گے۔ یہ صرف کنسرٹ نہیں، ایک واضح موقف ہے — اور جب آپ کے پاس سپوٹیفائی پر 40 ملین ماہانہ سننے والے ہوں تو اس موقف کی گونج خاصی دور تک جاتی ہے۔
ری ایکشن کیا ہے؟
میکلمور کے اس اقدام کو موسیقی کی دنیا میں اچھا خاصا ردعمل مل رہا ہے۔ انگلش پنک ریپ ڈو باب وائیلن نے اس کی انسٹاگرام پوسٹ پر ہارٹ ایموجی کے ساتھ حمایت کا اظہار کیا۔ مشہور برٹش یوٹیوبر اور انفلوئنسر چنکز، جن کے انسٹاگرام پر چار ملین سے زیادہ فالوورز ہیں، نے بھی میکلمور کی تعریف کی۔ دوسری طرف کچھ حلقوں میں اسے 'پرفارمیٹو' یعنی نمائشی قرار دینے کی کوشش بھی ہوئی ہے، لیکن میکلمور نے جواب عملی طور پر دینے کا فیصلہ کیا ہے — ٹور کروا کر اور پیسے عطیہ کر کے۔
تو اب دیکھنا یہ ہے کہ اس 'فری فلسطین ٹور' میں اور کون کون سے بڑے نام شامل ہوتے ہیں اور امریکی شوز کب تک ترتیب پاتے ہیں۔ ایک دروازہ بند ہوا، تو میکلمور نے اپنا دروازہ خود بنا لیا — اور اس دروازے کا نام 'فری فلسطین' رکھ دیا۔ گیم آن ہے۔
