سحر ہاشمی نے ڈراما انڈسٹری میں پیمنٹ کی تاخیر پر کھرے کھرے سوال اٹھا دیے

پاکستانی اداکارہ سحر ہاشمی نے ڈراما انڈسٹری کے پروڈیوسرز کو سیدھی بات سنا دی ہے! ان کے آرٹسٹوں کے ساتھ سلوک اور فیس کی ادائیگی میں تاخیر پر سحر نے کھل کر تنقید کی ہے۔ ایک انسٹاگرام سٹوری کے ذریعے، سحر نے ڈراما انڈسٹری میں 'پیشہ ورانہ رویے' کے لیے رائج دوہرے معیار کو سامنے لایا ہے۔ ان کے اس بولڈ بیان نے آرٹسٹوں کے حقوق اور انہیں وقت پر ادائیگیاں کرنے کے اہم مسئلے پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سحر ہاشمی نے تو کمال بات کی ہے! ان کا کہنا تھا کہ انڈسٹری میں اگر کوئی آرٹسٹ ایک دن بھی لیٹ ہو جائے تو اُس پر 'غیر پیشہ ورانہ' ہونے کا لیبل لگ جاتا ہے۔ لیکن جب پروڈیوسرز مہینوں تک آرٹسٹوں کی حق حلال کی کمائی روک کر رکھتے ہیں، تو پروڈیوسرز پر ویسی تنقید نہیں ہوتی، اور لوگ اکثر اسے اکاؤنٹنگ کا مسئلہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔ سحر نے صاف صاف پوچھا ہے کہ یہ کیسا فرق ہے، بھئی؟ جب بات آرٹسٹ کی ہو تو اصول اور جب پروڈیوسر کی ہو تو بہانے؟
اس سب کے بیچ، سحر نے اپنے کیریئر کا آغاز ڈراما سیریل 'ظلم' سے کیا تھا اور پچھلے دو تین سال میں انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں اپنی خوب پہچان بنائی ہے۔ ڈراما 'شیدائی' میں کام کے بعد انہیں خاصی پذیرائی ملی، اور 'زنجیریں' میں شہر بانو کا کردار ادا کر کے بھی وہ مقبول ہوئیں۔ یہ حالیہ تبصرے اگرچہ ان کے اداکاری کے کرداروں کے بجائے انڈسٹری کے کام کے ماحول پر ہی مرکوز ہیں۔
سحر ہاشمی نے مزید انڈسٹری میں پیشہ ورانہ اخلاقیات پر بھی گہرے سوالات اٹھائے ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ معمولی تاخیر پر آرٹسٹوں کو فوراً کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے، جبکہ مہینوں کی پیمنٹ کی تاخیر کو بالکل مختلف طریقے سے ہینڈل کیا جاتا ہے۔ ان کی یہ آواز پرفارمرز اور پروڈیوسرز کے درمیان جوابدہی اور منصفانہ، بروقت ادائیگیوں کے طریقوں کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
ویسے، سحر ہاشمی اپنے آنے والے ڈراما 'دارِ نجات' میں نظر آئیں گی، جہاں وہ خوشبخت کے کردار کا چھوٹا ورژن ادا کریں گی۔ کیا ان کی اس آواز سے یہ 'ڈبل سٹینڈرڈ' والا چکر اب ختم ہو پائے گا؟ یا ہم یونہی 'اکاؤنٹنگ ایشوز' کا انتظار کرتے رہیں گے؟
