صحر ہاشمی نے شوبز میں 'ڈبل سٹینڈرڈ' پر آواز اٹھا دی، کہا: احتساب دونوں طرف سے ہونا چاہیے!

اداکارہ صحر ہاشمی نے شوبز انڈسٹری میں تاخیر سے ہونے والی ادائیگیوں کے مسئلے کو اٹھا کر توجہ دلائی ہے۔ ان کے مطابق پیشہ ورانہ رویے کے معیار میں ڈبل سٹینڈرڈ رکھا جاتا ہے۔،
صحر ہاشمی نے اپنی انسٹاگرام سٹوری پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں انہوں نے اس تضاد کو نمایاں کیا۔ اس پوسٹ کے مطابق، "اگر کام ایک دن بھی تاخیر کا شکار ہو جائے تو اسے غیر پیشہ ورانہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اگر ادائیگی 30 دن کی تاخیر سے ملے تو وجہ اکاؤنٹس پراسیسنگ کا مسئلہ بتائی جاتی ہے۔"
پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پیشہ ورانہ رویہ دونوں طرف سے ہوتا ہے۔ صحر نے اپنی پوسٹ میں کسی فرد یا پروڈکشن ہاؤس کا نام نہیں لیا۔ پیغام میں کہا گیا کہ پیشہ ورانہ تعلقات میں دونوں فریقین کو جوابدہ ہونا چاہیے۔ فنکاروں سے وقت پر کام کی تکمیل کی توقع کی جاتی ہے، تو انہیں بھی وقت پر ادائیگی ملنی چاہیے۔
تاخیر سے ملنے والی ادائیگیاں پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا ایک پرانا مسئلہ ہے، جہاں فنکاروں اور پروڈکشن ٹیموں کے درمیان اعتماد کے لیے بروقت ادائیگی ضروری ہے۔ صحر ہاشمی اکیلی نہیں ہیں جنہوں نے اس مسئلے پر آواز اٹھائی ہے۔ فلم ساز مہرین جبار اور اداکارہ رومیسا خان، احمد علی بٹ، نادیہ افغان، محمد احمد اور ہارون شاہد سمیت کئی دیگر شخصیات بھی اس تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔ صحر ہاشمی نے اپنے اداکاری کیرئیر کا آغاز ڈرامہ Zulm سے کیا اور بعد میں Ishq Hua, Shadi Card اور Mann Mast Malang جیسے پراجیکٹس میں بھی نظر آئیں۔
