نادیا خان کو 'بول' نہ کرنے کا پچھتاوا

نادیا خان نے حال ہی میں 'کیا ڈراما ہے' میں یہ دل چھو لینے والا انکشاف کیا کہ انہیں آج بھی شعیب منصور کی فلم 'بول' میں کام نہ کرنے کا پچھتاوا ہے۔ یہ بات سن کر کون حیران نہیں ہو گا؟ کیونکہ 'بول' صرف ایک فلم نہیں تھی — یہ پاکستانی سینما کی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا، 2011 میں ریلیز ہوئی اور آج بھی اس دور کی سب سے نمایاں فلموں میں شمار ہوتی ہے۔
نادیا خان پاکستانی ٹیلی ویژن کا ایک جانا پہچانا چہرہ ہیں۔ نادیا خان شو سے گھر گھر مقبولیت، بندھن اور ایسی ہے تنہائی جیسے ڈراموں سے اداکاری میں اپنا لوہا منوایا، اور یوٹیوب چینل آؤٹ اسٹائل سے ڈیجیٹل دنیا میں بھی قدم رکھا۔ تو جب ایسی بڑی شخصیت کے کیریئر کے کسی فیصلے کی بات ہو تو اس کی اہمیت خود بخود بڑھ جاتی ہے۔
قسمت کا کھیل اور گھریلو مشکلات
جب انہیں 'بول' کی پیشکش ہوئی تو وہ اس کا حصہ بننے کے لیے بے تاب تھیں۔ شعیب منصور نے خود انہیں ذاتی طور پر اس کردار کے لیے راضی کرنے کی کوشش کی — یہ کوئی چھوٹی بات نہیں، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ منصور صاحب کو نادیا کی صلاحیتوں پر کتنا یقین تھا۔ لیکن پھر کہانی میں موڑ آیا۔ نادیا نے بتایا کہ پیشکش ملتے ہی گھر میں جھگڑا شروع ہو گیا اور اس وقت کے شوہر نے فلم میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی۔ نتیجہ یہ کہ انہوں نے وہ پیشکش ٹھکرا دی جو کسی بھی اداکار کا خواب ہوتی۔ انہوں نے خود کہا کہ انہیں شعیب منصور کو انکار کرنے کا افسوس ہے اور یہ احساس بھی کہ انہوں نے اس فلم ساز کو مایوس کیا جس نے انہیں منانے کے لیے اتنی محنت کی تھی۔ نادیا نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس وقت اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھیں — یہ ایک ایسا اعتراف ہے جو آسان نہیں ہوتا۔
حمیما ملک کی کامیابی اور 'بول' کا اثر
نادیا کا نہ کیا ہوا کردار آخرکار حمیما ملک نے نبھایا، جنہوں نے زینب کے کردار میں ایسی جان ڈالی کہ وہ خود اس کردار کی پہچان بن گئیں۔ 'بول' نے پاکستانی سینما کو ایک نئی پہچان دی اور اس فلم سے وابستہ ہر فنکار کا کیریئر ایک نیا رخ اختیار کر گیا۔ یہ دیکھ کر ظاہر ہے کہ نادیا کو افسوس ہوتا ہو گا — ایک ایسا موقع جو انہیں خود پیش کیا گیا تھا اور وہ اسے قبول نہ کر سکیں۔ زندگی کے یہ فیصلے ہوتے ہیں جن کا بوجھ وقت کے ساتھ ہلکا نہیں ہوتا بلکہ کبھی کبھی اور بھاری ہو جاتا ہے۔
پینلسٹس کا ردعمل — اور وہ آئرنی جو دل میں گھر کر گئی
'کیا ڈراما ہے' کے پینل میں عتیقہ اوڈھو نے بالکل دل کی بات کہی: نادیا کو اس وقت اپنے لیے آواز اٹھانی چاہیے تھی۔ یہ بات سو فیصد درست ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہر دور میں یہ اتنا آسان نہیں ہوتا جتنا باہر سے لگتا ہے۔ اور پھر مکرم کلیم نے وہ بات کہی جو دل پر چھری کی طرح اتری: انہوں نے یاد دلایا کہ فلم کا نام ہی 'بول' تھا — یعنی آواز اٹھاؤ، بولو، اپنی بات کہو۔ اور نادیا کو بھی اپنے کیریئر کے لیے بولنا چاہیے تھا۔ یہ کتنی بڑی آئرنی ہے — ایک ایسی فلم جس کا نام ہی بولنا سکھائے، اور جو کردار نبھانے کے لیے آپ کو راضی کیا جا رہا ہو، اسی میں آپ کی آواز دبا دی جائے۔
ہم یہ سن کر واقعی افسوس محسوس کرتے ہیں کہ نادیا خان کو یہ موقع ضائع کرنا پڑا — نہ اپنی مرضی سے، بلکہ حالات کی مجبوری میں۔ زندگی میں ایسے فیصلے ہوتے ہیں جو ہمارے قابو سے باہر ہوتے ہیں، لیکن ان کا پچھتاوا آنے والے سالوں میں ساتھ ہی رہتا ہے۔ نادیا کی یہ کہانی صرف ایک کھوئے ہوئے موقع کی نہیں — یہ اس بات کی بھی ہے کہ 'بول' کا سبق صرف پردے پر نہیں، کئی لوگوں کی اصل زندگی میں بھی اتنا ہی ضروری تھا۔
