ٹام کروز کا شاہی کارنامہ: پروٹوکول کی ہار، شرافت کی جیت!

ایک حالیہ لندن پریمیئر میں کچھ ایسا ہوا جس نے ہر کسی کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ بات ہو رہی ہے ہالی ووڈ کے سپر سٹار ٹام کروز کی، جنہوں نے شہزادی کیٹ مڈلٹن کے ساتھ ایک ایسا اشارہ کیا جس پر سوشل میڈیا پر خوب بحث چھڑ گئی۔ فلم Digger کے لندن پریمیئر میں جب شہزادی کیٹ، پرنس ولیم، ٹام کروز اور ہدایتکار Alejandro González Iñárritu سیڑھیوں سے نیچے اتر رہے تھے، تو ٹام کروز نے فوراً شہزادی کیٹ کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا تاکہ وہ سیڑھیاں آرام سے اتر سکیں۔ کیٹ نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور یہ ایک عام سی شرافت کا مظاہرہ لگ رہا تھا۔ مگر کچھ ہی دیر میں سوشل میڈیا پر یہ بحث چل پڑی کہ جب ایک ہالی ووڈ سٹار نے یہ شائستگی دکھائی تو پرنس ولیم نے کیوں نہیں؟
پرنس ولیم برطانوی تخت کے وارث ہیں اور اپنی اہلیہ شہزادی کیٹ مڈلٹن کے ساتھ مل کر شاہی خاندان کو ایک جدید اور عوام دوست امیج دینے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسے میں ان دونوں کا ٹام کروز جیسے بین الاقوامی ستارے کے ساتھ ایک پبلک ایونٹ میں نظر آنا ہی خبر بن جاتا ہے۔ لیکن اس بار خبر فیشن یا تقریب سے نہیں، بلکہ ایک چھوٹے سے اشارے سے بنی۔
پرنس ولیم پر تنقید کرنے والوں کو شاید شاہی پروٹوکول کا علم نہیں تھا۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ ولیم اپنی اہلیہ کی مدد کے لیے ہاتھ نہ بڑھائیں۔ برطانوی شاہی خاندان کے سخت اور قدیم اصولوں کے مطابق شاہی خاندان کے افراد عوامی مقامات پر ایک دوسرے سے جسمانی قربت نہیں دکھا سکتے۔ انہیں کسی پر انحصار کیے بغیر خود کو سنبھالنا سکھایا جاتا ہے۔ اس اصول کے پیچھے یہ سوچ کارفرما ہے کہ شاہی خاندان کو ہر حال میں خود مختار، پراعتماد اور مضبوط نظر آنا چاہیے، اور یہ قواعد صرف جسمانی رابطے کے بارے میں نہیں بلکہ طاقت، وقار اور رعب کی علامت ہیں۔ لہٰذا، ولیم کا ہاتھ نہ بڑھانا ان کے لیے قواعد کی پیروی کرنا تھا، نہ کہ بے حسی یا لاپرواہی۔
اب ذرا پاکستانی نقطہ نظر سے سوچیں! ہمارے ہاں تو ایسا اشارہ بالکل عام سمجھا جاتا ہے۔ کسی بزرگ، بچے یا خاتون کو سیڑھیاں اترنے میں مدد دینا ہماری تہذیب کا حصہ ہے۔ اگر ہمارے کسی مشہور اداکار نے ایسی صورتحال میں کسی خاتون کو مدد نہ دی ہوتی تو سوشل میڈیا پر تو طوفان ہی آ جاتا اور لوگ پوچھتے کہ بھائی صاحب، تہذیب کہاں گئی؟ یہ تو کمال کی بات ہے کہ ایک امریکی ستارہ آ کر برطانوی شہزادی کو شائستگی دکھا رہا ہے اور ان کا اپنا شوہر رسمی اصولوں کے آگے مجبور ہے۔ ہمیں تو یہ پروٹوکول سُن کر ہی عجیب لگتا ہے کہ بھلا کسی کو سہارا دینے میں کیا قباحت ہو سکتی ہے؟
ٹام کروز کا یہ اشارہ بھی شاہی آداب کے خلاف تھا، کیونکہ شاہی اصول یہ ہیں کہ آپ کسی بھی شاہی فرد کو تب تک نہیں چھو سکتے جب تک وہ خود اپنا ہاتھ نہ بڑھائے۔ لیکن ٹام کروز نے اس اصول کی پرواہ نہیں کی، اور یہ پہلی بار نہیں تھا جب انہوں نے ایسا کیا ہو۔ البتہ اس بار ان کے اس عمل کی وجہ سے پرنس ولیم کو بے جا تنقید کا نشانہ بننا پڑا، حالانکہ وہ تو بس پروٹوکول کی پاسداری کر رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر تو لوگوں کو ہر چھوٹی بات پر تبصرہ کرنے کا موقع چاہیے ہوتا ہے، اور یہ واقعہ ان کے لیے ایک بہترین ہدف ثابت ہوا — آن لائن تبصروں کی بارش ہو گئی، کچھ ٹام کروز کی تعریف میں اور کچھ پرنس ولیم پر تنقید میں۔
پرنس ولیم اور کیٹ مڈلٹن مسلسل یہ کوشش کر رہے ہیں کہ شاہی خاندان کو زیادہ قابل رسائی اور جدید بنایا جائے، لیکن کچھ روایات ایسی ہیں جو صدیوں سے چلی آ رہی ہیں اور انہیں توڑنا آسان نہیں۔ یہ اصول شاہی اداروں اور ان کی علامتوں سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ کسی کو سیڑھیوں سے اترنے میں مدد کرنا ایک عام اور فطری عمل لگتا ہے، شاہی دنیا میں یہ ایک بہت بڑی اصول شکنی مانی جاتی ہے۔ یہ ایک قسم کی دوہری تلوار ہے: جدید نظر آنے کی خواہش اور قدیم روایات کی پاسداری کی مجبوری۔
ٹام کروز نے تو بس دل کی بات مان لی اور ایک عام انسان کی طرح مدد کر دی، لیکن اس سے پرنس ولیم کے لیے ایک نیا بحث کا دروازہ کھل گیا۔ کیا ایسے پروٹوکول آج کے دور میں واقعی ضروری ہیں، یا یہ صرف سوشل میڈیا کی ہنسی کا باعث بنتے ہیں؟ جواب جو بھی ہو، یہ سیڑھیاں اترنے کا ایک لمحہ کافی دیر تک یاد رکھا جائے گا۔
