MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
لائف اسٹائل

واکنگ ورک آؤٹ: یہ تو ہماری دادی بھی کرتی تھیں!

Pexels

سوشل میڈیا اور خاص طور پر انسٹاگرام، ٹک ٹاک پر کچھ نہ کچھ ٹرینڈ کرتا رہتا ہے۔ کبھی کوئی نئے ڈانس اسٹیپس، تو کبھی کوئی فیشن 'ہیک'۔ لیکن آج کل جس چیز نے سب کی اٹینشن کھینچ رکھی ہے، وہ ہے 'فٹنس'۔ اور فٹنس میں بھی ایک ایسی چیز جو وائرل ہو گئی ہے کہ لوگ حیران ہیں – جی ہاں، ہم بات کر رہے ہیں 'واکنگ ورک آؤٹ' کی۔ یہ سن کر پہلی بات جو دماغ میں آتی ہے وہ یہی ہے کہ یار، واک تو ہماری دادی اماں بھی روز صبح کرتی تھیں، اس میں نیا کیا ہے؟

سوشل میڈیا پر فٹنس کے ٹرینڈز تیزی سے پھیل رہے ہیں اور لوگ ان سے انسپائر ہو رہے ہیں۔ جم، یوگا، پائلٹیز... سب اپنی جگہ صحیح ہیں، لیکن یہ واکنگ ورک آؤٹ نے ایک دم سے ایسا دھوم مچایا ہے کہ سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا یہ واقعی کوئی نئی چیز ہے یا بس پرانے دور کی 'صبح کی سیر' کو ایک نیا، فینسی نام دے دیا گیا ہے؟ ماضی میں بھی ایسے کئی ٹرینڈز آئے اور چلے گئے، جیسے 'کیٹو ڈائٹ' یا 'انٹرمٹنٹ فاسٹنگ'، لیکن ان سب کے لیے تھوڑی زیادہ پلاننگ اور ڈسپلن کی ضرورت ہوتی ہے۔ واکنگ ورک آؤٹ کا کمال اس کی سادگی میں ہے۔

تو کیا ہے یہ 'واکنگ ورک آؤٹ'؟

دراصل، 'واکنگ ورک آؤٹ' صرف چہل قدمی نہیں ہے جو آپ دکان سے سودا لینے جاتے ہوئے کرتے ہیں۔ یہ ایک پراپر کارڈیو ایکسرسائز ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی دل کی دھڑکن تھوڑی تیز ہو، جسم تھوڑا ایکٹیو ہو، اور پسینہ بھی آئے۔ اس میں باقاعدہ ایک رفتار ہوتی ہے، ایک پوئز ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر ایک مقصد ہوتا ہے۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔ بس آرام دہ جوتے پہنو، اور نکل پڑو۔ ہمارے ہاں کئی لوگ ورزش کے نام پر بھاگتے ہیں کہ 'جم جانا پڑے گا، بھاری وزن اٹھانے پڑیں گے، یا پھر سویرتھروٹس والی مشینیں استعمال کرنی پڑیں گی'، لیکن یہ ٹرینڈ ان سب کو بتاتا ہے کہ 'نہیں یار، اتنا مشکل بھی نہیں ہے فٹ رہنا'۔

اس کی سب سے اچھی بات پتا ہے کیا ہے؟ نہ کوئی مہنگی جم ممبرشپ، نہ کوئی اسپیشل ایکوپمنٹ، نہ کوئی پیچیدہ ایکسرسائز۔ بس اپنے دو پاؤں اور تھوڑی سی نیت۔ ہمارے سلیبرٹیز کو تو ہم نے ہائی اینڈ جِمز میں بھاری وزن اٹھاتے دیکھا ہے، یا پھر یوگا کے مشکل آسن کرتے ہوئے۔ وہ تو خیر ان کا کام ہے فٹ رہنا، لیکن عام لوگوں کے لیے یہ واکنگ ورک آؤٹ ایک ایسی 'ڈیل والی بات' ہے جو سب کو پسند آ رہی ہے، کیونکہ اس میں 'فوس فری' والا سین ہے۔ خاص طور پر ایسے حالات میں جب ہر چیز مہنگی ہو رہی ہے، ایک ایسی ایکٹیویٹی جو مفت ہو، کسے پسند نہیں آئے گی؟

جسم اور دماغ دونوں کے لیے پرفیکٹ

آج کل کی بھاگ دوڑ والی زندگی میں ہر کوئی پریشان ہے، چاہے وہ پروفیشنل لائف ہو یا پرسنل۔ اسٹریس، انزائٹی، موڈ خراب ہونا، یہ سب تو معمول کی باتیں بن گئی ہیں۔ ایسے میں واکنگ ورک آؤٹ صرف جسمانی نہیں، ذہنی صحت کے لیے بھی ایک زبردست حل بن کر سامنے آیا ہے۔ جب آپ ایک تیز رفتار واک کرتے ہیں، تازہ ہوا میں سانس لیتے ہیں، تو یقین کرو، دماغ کی ساری ٹینشن ایک سائیڈ ہو جاتی ہے۔ تیز رفتار واک ذہنی صحت اور موڈ کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ آپ کو اپنے اندر سے 'ری چارج' ہونے کا موقع دیتا ہے۔

یہ ایک طرح کی مائنڈ فلنس ایکسرسائز بھی ہے۔ آپ اپنے قدموں پر، اپنی سانس پر فوکس کرتے ہو، اور اپنے پسندیدہ گانے سنتے ہو یا کوئی اچھا سا پوڈکاسٹ سنتے ہوئے اپنی ہی دھن میں چلتے رہتے ہو۔ اس سے صرف فزیکل فٹنس نہیں ملتی، بلکہ موڈ بھی فریش ہو جاتا ہے، اور آپ کو ایک پوزیٹو وائب ملتی ہے۔ بہت سے لوگوں کے پاس جم جانے کا وقت نہیں ہوتا۔ ایسے میں یہ واکنگ ورک آؤٹ ایک پرفیکٹ حل ہے جو کہیں بھی، کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے اور مینٹلی اور فزیکلی فٹ رہنے میں مدد دیتا ہے۔

کیسے کریں یہ 'ورک آؤٹ'؟

تو اب بات کرتے ہیں کہ یہ 'واکنگ ورک آؤٹ' کرنا کیسے ہے۔ کوئی لمبی چوڑی گائیڈ لائنز نہیں ہیں۔ بس سٹارٹ کرو 20 سے 30 منٹ کی برسک واک سے، ہفتے میں تین سے چار بار۔ پھر آہستہ آہستہ ٹائم بڑھاتے جاؤ اور کوشش کرو کہ روزانہ کم از کم 40 سے 60 منٹ کی واک کرو۔ سب سے ضروری ہے صحیح پوسچر – کمر سیدھی، کندھے پیچھے، اور قدم پکے۔ جیسے کوئی مشن پر جا رہے ہو۔ اگر آپ کے پاس سمارٹ واچ یا کوئی فٹنس ٹریکر ہے تو وہ آپ کو آپ کی ہارٹ ریٹ اور قدموں کا حساب رکھنے میں مدد دے گا، جس سے آپ کو اپنے پروگریس کا بھی پتا چلے گا۔

اور ہاں، اسے انٹرسٹنگ بنانے کے لیے اپنی فیورٹ پلے لسٹ لگاؤ۔ ایک انرجیٹک بیٹ والی پلے لسٹ آپ کو موٹیویٹ رکھے گی۔ یا دوستوں کے ساتھ واک پر نکل جاؤ اور گپ شپ کرتے ہوئے وقت کا پتا ہی نہیں چلے گا۔ دوستوں کے ساتھ واک کرتے ہوئے وقت جلدی گزر جاتا ہے۔ اور اگر تھوڑی اور انٹینسٹی چاہیے، تو بیچ بیچ میں تھوڑی دیر کے لیے اور تیز چلو، جیسے 'انٹروَل ٹریننگ' کرتے ہیں۔ پھر نارمل پیس پر آ جاؤ۔ اس سے دل کی دھڑکن اور پمپ ہوگی، اور کیلوریز بھی زیادہ برن ہوں گی۔ آپ اسے اپنے حساب سے 'کسٹمائز' کر سکتے ہیں – پہاڑی علاقے میں چڑھائی کر کے یا سیڑھیاں استعمال کر کے اس کا لیول اپ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے مختلف شدت کی سطحوں میں ورزش کا موقع ملتا ہے۔

ہمارا فیصلہ: کیا یہ ٹرینڈ واقعی ہٹ ہے؟

آخر میں، کیا 'واکنگ ورک آؤٹ' واقعی اتنا بڑا ٹرینڈ ہے جس کے پیچھے سب دیوانے ہوئے جا رہے ہیں؟ ہمارا اوپینین ہے کہ، ہاں! شاید اس میں کوئی 'واؤ' فیکٹر نہیں ہے، کوئی ہائی ٹیک مشینری نہیں ہے، لیکن اس کی سادگی ہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ایسی دنیا میں جہاں سب کچھ کمپلیکس ہوتا جا رہا ہے، جہاں ہر طرف ڈیجیٹل ڈسٹریکشنز ہیں، یہ ایک ایسا حل ہے جو آسانی سے ہر کوئی اپنی روٹین میں شامل کر سکتا ہے اور خود کو ٹیکنالوجی سے تھوڑا دور رکھ کر فطرت کے قریب لا سکتا ہے۔

یہ ان لوگوں کے لیے پرفیکٹ ہے جو جم نہیں جا سکتے یا نہیں جانا چاہتے، یا جن کا شیڈول اتنا مصروف ہے کہ ان کے پاس بس تھوڑا سا وقت ہوتا ہے خود کو دینے کے لیے۔ چاہے آپ ایک سلیبرٹی ہوں جس کے پاس شوٹس اور ایونٹس کی بھر مار ہے، یا ایک عام کالج سٹوڈنٹ جو اپنی پڑھائی اور دوستوں کے درمیان ٹائم نکالنے کی کوشش کر رہا ہو – بیس سے تیس منٹ کی ایک تیز واک آپ کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ ایک ایسا حل ہے جو ہر کوئی آسانی سے اپنی روٹین میں شامل کر سکتا ہے اور اپنے آپ کو جسمانی اور ذہنی طور پر بہتر محسوس کر سکتا ہے۔

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔