ٹیلر سوئفٹ کا نیا گانا "Babylon": سویفٹیز کا سر درد، یا ہٹ؟

حال ہی میں ٹیلر سوئفٹ کے نئے البم "The Life of a Showgirl: The Encore" سے چار نئے گانوں نے آتے ہی سوشل میڈیا پر دھماکا کر دیا ہے۔ سوئفٹیز نے اپنی ڈیٹیکٹو ٹیم کے ساتھ "Pink Clouding" اور "Patient Zero" جیسے گانوں کے مطلب تو چٹکیوں میں حل کر لیے، اور تو اور ایک میوزک ویڈیو کے مبہم قبروں کے نشانات کو بھی زوم کر کے صاف کر لیا۔ مگر ایک گانا، "Babylon"، سب کے لیے ایک مکمل گتھی بنا رہا۔ آخر کار، اس گیت کے پیچھے چھپی کہانی سامنے آ گئی ہے۔
یہ گانا ایک ایسے شخص کی کہانی سناتا ہے جو ورجینیا کے اپنے چھوٹے سے شہر کو چھوڑ آیا تھا اور اب ایک کیسینو میں اور ٹرین میں گزرتے ہوئے اپنی زندگی کے فیصلوں پر پچھتا رہا ہے۔ اس گانے کے بول ٹیلر سوئفٹ کی بہترین شاعری کی مثال ہیں، جہاں وہ لکھتی ہیں، You're using nostalgia as a weapon to hurt yourself / But darling, you end up hurting everybody else – یعنی آپ پرانی یادوں کو خود کو تکلیف دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں مگر پیارے، آپ آخر میں سب کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ کیا کمال کی بات کی ہے!
ہمارا تو ذاتی فیورٹ یہ والا شعر ہے، جس میں بچپن کی سادگی اور پرانی یادوں کا ذکر ہے — یہ لائنیں سچی مچی ایسی ہیں کہ سننے والے کو ایک بار اپنا بچپن یاد آجائے اور پھر سوچ میں پڑ جائے کہ کیا ہم سب بھی اپنے ماضی کو ہتھیار بنا کر خود کو ہی دکھ تو نہیں دے رہے؟
اس گانے کو سن کر مداحوں کے سر میں بہت سے سوالات گھوم رہے ہیں اور یقیناً اس پر بحث و مباحثہ اگلے کئی دنوں تک جاری رہے گا۔ دیکھتے ہیں اس دل چھو لینے والی کہانی پر سوئفٹیز کی آراء کیا آتی ہیں – کوئی اسے ماسٹر پیس کہے گا تو کوئی اپنے ہی اندر جھانک کر اپنے 'بابل' کو تلاش کرے گا!
