صبا فیصل کا طلاق پر ایسا تبصرہ کہ ہمارے کان کھڑے ہو گئے

صبا فیصل، جو پاکستانی اداکارہ اور سابق نیوز اینکر ہیں، اپنی اداکاری کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار اپنے بے باک بیانات کے لیے بھی خبروں میں رہتی ہیں۔ کچھ عرصے سے وہ اپنی رائے کی وجہ سے زیادہ موضوعِ بحث بنتی جا رہی ہیں — جیسے ساسوں کے اختیارات بڑھانے کی بات ہو، یا پھر یہ مشورہ کہ شوہر کی بے وفائی پر بیویوں کو خاموش رہنا چاہیے۔ اب ان کا نیا بیان، جو انہوں نے سما ٹی وی کے شو گپ شب میں دیا، طلاق کے بعد خواتین کی جلدی ریکوری پر ہے، اور اس نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
صبا فیصل کا پرانا خیال، نئے الفاظ میں
صبا فیصل نے اس انٹرویو میں کہا کہ آج کل کی خواتین طلاق کے بعد بہت جلدی نارمل ہو جاتی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ طلاق پر عوامی مذمت میں کمی سے معاشرے کی تباہی ہو رہی ہے۔ یہ سن کر ہمیں لگا جیسے ہم کسی ٹائم مشین میں بیٹھ کر ماضی میں چلے گئے ہوں۔ میزبان وسے چوہدری نے انہیں یاد دلایا کہ وہ پہلے بھی یہ موقف رکھ چکی ہیں کہ طلاقوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ یہ ہے کہ خواتین اپنے شوہروں سے مقابلہ کرتی ہیں۔ صبا فیصل نے اس بات کی مکمل تائید کی اور اسے بڑے بزرگوں کی نصیحت قرار دیا۔ اب یہ کیسی نصیحت ہے جہاں خواتین کو اپنے حق کے لیے کھڑا ہونے سے روکا جائے؟
انہوں نے یہ بھی دہرایا کہ عورت مرد کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ یہ بات سن کر تو سر چکرا گیا — آج کا دور ہے جہاں خواتین ہر شعبے میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا رہی ہیں۔ ایسے میں یہ بیان نہ صرف پرانی سوچ کی عکاسی ہے بلکہ آج کی باصلاحیت خواتین کی توہین بھی ہے۔
ماضی کا موازنہ اور چھٹی کا قصہ
صبا فیصل نے ماضی اور حال کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کے زمانے میں خاندان طلاق کے غم میں دو یا تین مہینے تک سوگ مناتے تھے، اور والدین اور بیٹیوں کو اس وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ جبکہ آج کل کی بعض خواتین طلاق کے بعد سیر سپاٹے پر نکل جاتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر کوئی خاتون ذہنی سکون کے لیے کہیں گھومنے جاتی ہے تو اس میں کیا مسئلہ ہے؟ زندگی کے بڑے فیصلوں کے بعد انسان کو سکون اور تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے — یہ اس کا اپنا حق ہے کہ وہ خود کو کیسے سنبھالے۔
حقیقت کا رخ
پاکستان میں طلاق یافتہ خواتین کو اب بھی سماجی بدنامی اور مذمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حالانکہ سماجی علیحدگی کی سطح میں کچھ کمی ضرور آئی ہے۔ طلاق کا فیصلہ مالی انحصار، سماجی دباؤ اور قانونی طریقہ کار میں محدود معاونت کی وجہ سے انتہائی مشکل ہو سکتا ہے۔ یہ سب چیلنجز آج بھی ہماری سوسائٹی میں موجود ہیں، اور صبا فیصل کے بیانات ان کو مزید تقویت دیتے ہیں۔
جب کوئی خاتون ان سب مشکلات کے باوجود اپنی زندگی دوبارہ ترتیب دے لیتی ہے تو اسے جلدی ریکوری کا طعنہ دینا کہاں کا انصاف ہے؟ یہ تو خوشی کی بات ہونی چاہیے کہ وہ معاشرتی دباؤ کے باوجود آگے بڑھتی ہے۔ صبا فیصل کے یہ تبصرے خواتین اور طلاق کے بارے میں پرانے روایتی خیالات کو تقویت دیتے ہیں، بجائے اس کے کہ خواتین کے حقوق کی حمایت ہو۔ اب تو بس یہی سوال ہے کہ ہم کب تک ایسے خیالات میں پھنسے رہیں گے؟ ذرا سوچیے — اگر آپ کی بہن یا بیٹی اس مشکل سے گزرے، تو کیا آپ چاہیں گے کہ وہ غم میں رہے، یا اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرے؟
