MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

86 سالہ سر ٹام جونز کو The Voice سے 'فائر' کر دیا؟ فینز اور ول ڈاٹ آئی ڈاٹ ایم میدان میں آ گئے

سر ٹام جونز، وہ نام جو برطانوی موسیقی کی تاریخ میں روشن ستارے کی طرح چمکتا ہے، اور ول ڈاٹ آئی ڈاٹ ایم، جن کی دھنوں پر دنیا جھومتی ہے — یہ دونوں آج کل خبروں میں ہیں، اور وجہ ہے ایک ایسی بیدخلی جس نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ حال ہی میں سر ٹام نے اپنے سوشل میڈیا فالوورز کو بتایا کہ ITV نے انہیں اپنے مشہور سنگنگ کمپٹیشن The Voice سے فائر کر دیا ہے۔ اس خبر نے دنیا بھر میں ان کے فینز کو شدید دکھ پہنچایا، خاص طور پر اس بات پر کہ 86 سال کی عمر میں بھی ان کا فن اور جوش اپنی جگہ برقرار ہے۔

سر ٹام جونز، جن کا پورا نام سر تھامس جونز ووڈورڈ ہے، ویلش موسیقی کے ایک آئیکون ہیں۔ وہ ویلز کے علاقے ٹریفورسٹ، رونڈا سائنن ٹاف سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا کیریئر 1960 کی دہائی میں ٹاپ 10 ہٹس کی ایک پوری سیریز سے شروع ہوا تھا، اور پھر انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ 1967 سے 2011 تک لاس ویگاس میں ان کے شوز اور ان کی روبسٹ بیریٹون آواز نے انہیں ایک عالمی اسٹار بنا دیا۔ The Voice UK پر وہ 2012 میں شو کے آغاز سے ہی بطور کوچ نظر آ رہے ہیں۔ ان کی موجودگی سے شو کو ایک وقار ملتا تھا، اور ایک تجربہ کار استاد کی حیثیت سے انہوں نے تین ونرز کو بھی گائیڈ کیا۔ ان کے ساتھ Jessie J، Olly Murs، Kylie Minogue اور Rita Ora جیسے بڑے نام بھی مختلف سیریز میں کوچز کے طور پر موجود رہے ہیں۔

دی وائس کا ڈرامہ — یہ کیا ہو گیا؟

اس سارے قصے کا آغاز تب ہوا جب سر ٹام نے خود اپنے فینز کو بتایا کہ ITV انہیں ایک بہت محدود کردار کی پیشکش کر رہا ہے — محض ایک ظاہری مہمان کی طرح، شو کے شروع سے آخر تک انوالو ہوئے بغیر۔ سر ٹام نے صاف کہا کہ انہیں یہ آفر بالکل پسند نہیں آئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 86 سال کے کسی ایسے شخص کو نکالنے کا کوئی اچھا وقت نہیں ہوتا جو اب بھی اپنا کام بہت اچھے سے کر رہا ہو۔ اور سچ پوچھیں تو بات سو فیصد درست ہے! ایسے لیجنڈز کا کام ہی تو ان کی زندگی ہے — انہیں محض سجاوٹ کے لیے سٹیج پر بلانا تو ان کی توہین ہے۔

ITV کے ترجمان نے رسمی شکریہ ادا کیا ہے اور کہا کہ سر ٹام نے شو کو انمول اور ناقابلِ فراموش لمحات دیے اور ہر گلوکار اور ناظرین کے لیے خوشی لائے۔ لیکن یہ خوبصورت الفاظ اس تلخ حقیقت کو نہیں چھپا سکتے کہ ایک تجربہ کار اور محبوب کوچ کو سائیڈ لائن کیا جا رہا ہے۔ نو سال تک جس نے شو کو اپنی موجودگی سے رونق بخشی ہو، اسے محض ایک جھلک کے لیے بلانا — کیا یہ ٹھیک ہے؟ ہمیں تو نہیں لگتا!

فین پاور اور ول ڈاٹ آئی ڈاٹ ایم کا ساتھ

سر ٹام کے فینز نے اس فیصلے کو دل سے نہیں مانا۔ پچاس سالہ ایرن ہاؤلٹ، جو Kingston-upon-Hull سے ہیں اور چار دہائیوں سے سر ٹام کے پرستار ہیں، نے ایک آن لائن پٹیشن شروع کی جس کا مقصد ہے سر ٹام کو The Voice پر واپس لانا۔ اب تک اس پٹیشن کو دنیا بھر سے 63,000 سے زیادہ سگنیچرز مل چکے ہیں — یہ فین پاور ہے جناب! ایرن کا کہنا ہے کہ سر ٹام آخری زندہ لیجنڈز میں سے ایک ہیں اور ان کی آواز ہر عمر کے لوگوں سے جڑی ہوئی ہے۔ ایرن کے مطابق گانا ہی سر ٹام کی روح ہے، وہ اسٹیج پر آ کر زندہ ہو جاتے ہیں۔

اور اس مہم میں ایک اور بڑا نام بھی شامل ہو گیا ہے: امریکی ریپر اور گیت کار ول ڈاٹ آئی ڈاٹ ایم۔ وہ بھی سر ٹام کے ساتھ The Voice پر کوچ رہ چکے ہیں اور انہوں نے 15 ستمبر کو Change.org کی ایک انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعے ایرن ہاؤلٹ کی پٹیشن کو سپورٹ کیا۔ جب ایک ایسا شخص جس نے خود اس شو میں کام کیا ہو اور سر ٹام کے ساتھ وقت گزارا ہو، وہ بھی کھل کر حمایت کرے تو بات میں وزن اور بڑھ جاتا ہے۔ فینز نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر سر ٹام نہ آئے تو وہ شو دیکھنا بند کر دیں گے — تو ITV والو، غور کرو!

لیجنڈز کی قدر کرو، یار!

یہ کہانی صرف ایک شو یا ایک گلوکار کی نہیں۔ یہ تو اس بات کی ہے کہ ہم اپنے فنکاروں اور لیجنڈز کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔ سر ٹام جونز نے 86 سال کی عمر میں Milwaukee، USA میں ایک شو میں پرفارم کیا اور انہیں اسٹینڈنگ اوویشن ملی۔ ایرن کے بقول انہوں نے ہجوم کو اپنی مٹھی میں لے لیا — عمر صرف ایک ہندسہ ہے، اور سر ٹام اس بات کا زندہ ثبوت ہیں۔ دنیا بھر کے فینز بھی سمجھتے ہیں کہ فنکاروں کو ان کی عمر کے بجائے ان کے فن سے پہچانا جائے۔ ایسے لیجنڈز کی قدر کرنا ہر ادارے کی ذمہ داری ہے، ورنہ یہ شو بس ایک خالی ڈھانچہ رہ جائے گا۔ ول ڈاٹ آئی ڈاٹ ایم اور ہزاروں فینز کی حمایت یہ صاف بتا رہی ہے کہ یہ فیصلہ کتنا غیر مقبول ثابت ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا The Voice ٹیم فینز کی آواز سنے گی اور اپنے لیجنڈ کوچ کو واپس لائے گی — یا پھر اس ڈرامے کو مزید بڑھنے دے گی؟

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔