در فشاں نے باڈی شیمنگ ٹرولز کو کرارا جواب دے کر چپ کرا دیا!

حال ہی میں ان کے ڈراما 'درِ نجات' کی 21ویں قسط میں، انہوں نے زریاب کے کردار میں ایک سلیو لیس لباس پہنا تھا۔ بس پھر کیا تھا، کچھ 'یوزرز' کو ان کے بازو اور بائسپس کچھ زیادہ ہی نظر آ گئے اور انہوں نے آن لائن تنقید شروع کر دی۔
بات صرف وہیں نہیں رکی، بلکہ تنقید کرنے والوں نے تو حد ہی کر دی۔ ان کی فزیک کا مذاق اڑایا گیا اور بعض نے تو AI سے بنائی گئی مبالغہ آمیز تصاویر شیئر کیں جن میں ان کو بین الاقوامی ریسلرز سے تشبیہ دی گئی۔ یار، اتنا بھی کیا فوکس کرنا؟ کچھ لوگوں نے تو ان کی نسوانیت اور اداکاری پر بھی سوال اٹھائے۔
لیکن در فشاں کہاں پیچھے ہٹنے والی تھیں! انہوں نے طنزیہ مگر پراعتماد جواب دیا، ۔ ان کے فینز اور سوشل میڈیا یوزرز نے ان کی تعریف کی کہ انہوں نے لمبی بحث میں پڑے بغیر ہی ٹرولز کو جواب دیا۔ حامیوں نے ان کے مثبت رویے اور اپنی جلد میں آرام دہ رہنے کی بھی تعریف کی۔
اس واقعے نے پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں باڈی شیمنگ کی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ بہت سے ویوورز نے اس بات پر غصے کا اظہار کیا ہے کہ ایکٹرز کی پرفارمنس کے بجائے ان کی جسمانی خصوصیات کو کیوں جانچا جاتا ہے۔ یہ بحث اس دباؤ کو بھی نمایاں کرتی ہے جو سیلیبرٹیز پر پبلک کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے ہوتا ہے، خاص طور پر جب ایڈیٹڈ اور AI سے بنی تصاویر انہیں بدنام کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔
در فشاں کا یہ ری ایکشن اب تنقید سے ہٹ کر خود اعتمادی اور انفرادی فرق کے احترام کی طرف توجہ مبذول کر رہا ہے۔ ان کے سپورٹرز کا ماننا ہے کہ ایکٹر کی اپیئرنس کو ذاتی حملوں یا آن لائن ہراسانی کا بہانہ نہیں بننا چاہیے۔ آخر ہم سب انسان ہیں، کوئی AI کا ماڈل تو نہیں! تو بس، اب ہم یہ سوال پوچھتے ہیں کہ کب تک یہ بے تکی باڈی شیمنگ چلتی رہے گی؟
