MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

زویہ ناصر نے بتایا کیوں چھوڑی سالون کی ’سیٹ‘ زندگی؟

اداکاری میں آنا اتنا آسان نہیں، لیکن زویہ ناصر نے تو جیسے ایک پورا سیٹ اپ ہی لپیٹ دیا!

ہماری پیاری زویہ ناصر، اداکارہ اور بزنس وومن، نے حال ہی میں دل کھول کر بات کی ہے اپنی زندگی کے ایک سب سے بڑے فیصلے پر۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ صرف اٹھائیس سال کی تھیں، تو انہوں نے ایک کامیاب سالون کا بزنس چھوڑ دیا اور اداکاری کی دنیا میں قدم رکھ دیا، جب کہ کامیابی کی کوئی گارنٹی دور دور تک نہیں تھی!

اس فیصلے پر بات کرتے ہوئے زویہ نے بتایا کہ وہ ایک 'سیٹ اور اسٹیبلشڈ' چیز سے نکل کر ایک ایسی انڈسٹری میں آئی تھیں جہاں مستقبل بالکل 'غیر متوقع' تھا۔ ان کے دوستوں، گھر والوں اور قریبی لوگوں سب نے انہیں اس قدم سے منع کیا۔ لیکن ہر کہانی میں ایک ہیرو ہوتا ہے، اور زویہ کے لیے وہ ان کی بہن ساشا تھیں۔ زویہ نے ساشا سے اپنی محبت کا اظہار کیا، جو اس مخالفت میں استثنا تھیں۔ بھئی، ایسی بہن تو سب کو ملنی چاہیے۔

زویہ نے یہ بھی سمجھایا کہ کیوں ان کے قریبی لوگ ایسا ردعمل دے رہے تھے؛ جب کوئی آپ کی سچ میں پروا کرتا ہے، تو وہ آپ کو خطرہ مول لیتے دیکھ کر 'محفوظ راستے' کی طرف دھکیلتا ہے۔ مگر زویہ کا کہنا ہے کہ انہیں بعد میں احساس ہوا کہ محض 'آشنائی' کی وجہ سے کوئی محفوظ راستہ ضروری نہیں کہ صحیح راستہ بھی ہو۔ یعنی 'جانا پہچانا' راستہ ضروری نہیں کہ 'سیدھا' راستہ بھی ہو۔ واہ، گہری بات ہے!

اسی دوران زویہ نے شوبز کی ایک اور حقیقت پر بھی روشنی ڈالی ہے: فنکاروں اور ان کے سامعین کا رشتہ۔ انہوں نے ایسے اداکاروں پر سوال اٹھایا جو انڈسٹری میں آنے کے بعد کہتے ہیں کہ انہیں نوٹس نہ کیا جائے یا ان کے بارے میں بات نہ کی جائے۔ ارے، جب 'لائٹ، کیمرہ، ایکشن' کہتے ہو تو نوٹس ہونے کے لیے ہی تو کہتے ہو نا؟ یہ تو پھر 'دال بھی کھاؤ اور پیٹ بھی نہ دکھے' والی بات ہو گئی!

زویہ کا کہنا تھا کہ اداکار ایک ایسی انڈسٹری میں کام کرتے ہیں جو ان کے ٹیلنٹ اور پرفارمنس کو دکھانے کے گرد بنی ہے۔ اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ ناظرین ہی ہیں جو ایک اداکار کی پہچان اور کیریئر کو شکل دیتے ہیں۔ انہوں نے مانا کہ مشہور شخصیات کے لیے برے دن بھی آ سکتے ہیں، اور کبھی کبھی ایسے لوگ بھی مل جاتے ہیں جنہیں بات کرنے یا برتاؤ کرنے کا سلیقہ نہیں ہوتا۔ پھر بھی، زویہ کا ماننا ہے کہ اداکاروں کو اپنے سامعین کا شکر گزار رہنا چاہیے۔ بالکل صحیح بات ہے! فینز نہ ہوں تو پھر 'سارے گانے خود کو ہی سنانے پڑیں گے'۔ تو کیا آپ زویہ کے اس 'بگ رسک، بگ ریوارڈ' فلسفے سے متفق ہیں؟

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔