نازش جہانگیر کا 'سوتیلی ماں' کے رشتوں پر منفرد نقطہ نظر!

پاکستانی ٹیلی ویژن کی معروف اداکارہ نازش جہانگیر نے حال ہی میں سوتیلی ماؤں کے حوالے سے ایک ایسی بات کہہ دی ہے جو ہمارے ہاں مروجہ تصورات اور ڈرامائی کہانیوں سے بالکل ہٹ کر ہے۔ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کی روشنی میں یہ جرات مندانہ دعویٰ کیا ہے کہ سب سوتیلی مائیں بری نہیں ہوتیں اور وہ خود ایک بہت محبت کرنے والی اور خیال رکھنے والی سوتیلی ماں پا کر بے حد شکر گزار ہیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں نازش جہانگیر نے اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ اپنے حقیقی تعلق کے بارے میں تفصیلات شیئر کیں اور معاشرے میں سوتیلی ماؤں سے جڑے منفی دقیانوسی تصورات (stereotypes) کو چیلنج کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی والدہ کے انتقال کے بعد ان کے والد نے دوسری شادی کر لی تھی۔
نازش کے مطابق، ان کی سوتیلی ماں نے ہمیشہ پورے خاندان کا بہت اچھی طرح خیال رکھا ہے اور خاص طور پر ان کے والد کی بھی بہت محبت سے دیکھ بھال کی ہے۔ "ہر سوتیلی ماں بری نہیں ہوتی،" نازش نے دو ٹوک انداز میں کہا، اور مزید واضح کیا کہ معاشرے نے سوتیلی ماؤں اور ان کے سوتیلے بچوں کے تعلقات کے گرد نہ جانے کتنی ہی من گھڑت کہانیاں اور غلط فہمیاں پیدا کر رکھی ہیں، ۔
نازش نے یہ بھی تسلیم کیا کہ شروع میں انہیں اس رشتے کو دل سے قبول کرنے میں کچھ وقت محسوس ہوا۔ مگر ان کی سوتیلی ماں نے اپنے رویے اور خیال رکھنے والے انداز سے آہستہ آہستہ ان کا بھروسہ جیت لیا اور بالآخر ان کے دل میں ایک خاص جگہ بنا لی۔ یہ ایک ایسا نازک مگر خوبصورت مرحلہ تھا جہاں حقیقی رویے اور دیکھ بھال نے تمام ابتدائی غلط فہمیوں اور شکوک و شبہات کو دور کر دیا۔
اس سارے جذباتی اور سمجھداری کے سفر میں ایک ڈرامے میں سوتیلی ماں کا کردار ادا کرنا بھی نازش کے لیے ایک اہم موڑ اور بصیرت افروز تجربہ ثابت ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ اس چیلنجنگ کردار نے انہیں اپنے حقیقی رشتے پر گہرائی سے غور کرنے پر مجبور کیا، اور وہ ہر بار فلمنگ کے بعد اپنی سوتیلی ماں کو فون کر کے بتاتی تھیں کہ اس کردار نے انہیں یہ سمجھنے میں بے حد مدد دی ہے کہ شاید وہ حقیقی زندگی میں کن جذباتی اور عملی مشکلات سے گزری ہوں گی۔ بلاشبہ، اس تجربے نے انہیں اپنی سوتیلی ماں اور ان کے خاندان کا حصہ بننے کے دوران درپیش حالات کو مزید گہرائی سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔
سچ بتاؤ! یہ سن کر تمہیں حیرانی نہیں ہوئی؟ جہاں معاشرے میں سوتیلی ماؤں کے بارے میں منفی تصورات عام ہیں، وہاں نازش کا یہ تجربہ تو ایک نئی مثال قائم کر رہا ہے۔ ہے نا کمال کی بات کہ کیسے ایک ڈرامے کے کردار نے انہیں اپنی حقیقی زندگی کے رشتے کو مزید سراہنے کا موقع دیا۔ تو کیا اب ہمیں بھی ہر 'سوتن' کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا چھوڑ دینا چاہیے؟
