زارا نور عباس کا دوٹوک پیغام: پاکستانی سینما کو پہلے اچھی فلمیں بنانی پڑیں گی!

اداکارہ زارا نور عباس کا کہنا ہے کہ لوگ پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو ضرور سپورٹ کریں گے، لیکن اس کے لیے فلموں کا دیکھنے کے قابل ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بات دی ایکسپریس ٹریبیون سے اپنی نئی فلم 'شیروز' کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہی۔
زارا نے کہا کہ یہ خیال اب 'کافی پرانا' ہو چکا ہے کہ لوگ صرف اس لیے پاکستانی فلموں کو سپورٹ کریں کہ وہ پاکستان میں بنی ہیں۔ ان کے مطابق، 'لوگ انٹرٹینمنٹ چاہتے ہیں'۔ لوگ تھیٹرز کا رخ تب کرتے ہیں جب وہ باہر کھانا کھانے جیسے دیگر کاموں سے فارغ ہو چکے ہوتے ہیں اور بس تفریح کے موڈ میں ہوتے ہیں۔ اس لیے فلم میکرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ ثابت کریں اور ایسی فلمیں بنائیں جو لوگوں کی تفریح کی خواہش پوری کر سکیں۔
انہوں نے مثال دی کہ کچھ فلمیں اپنی آڈینس کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں، جیسے 'اسپائیڈر مین' جس کی ہر نئی فلم کی ریلیز پر لوگ تیار ہو کر تھیٹر پہنچتے ہیں۔ زارا نے مزید کہا کہ 'اسپائیڈر مین نے ایک نِش بنایا ہے، اسپائیڈر مین کی مارول کے ساتھ ایک بہت بڑی فرنچائز ہے' اور پاکستان کو بھی اپنی آڈینس کے لیے ایسی ہی فرنچائزز بنانے کی ضرورت ہے۔
زارا کا کہنا تھا کہ پاکستانی فلم میکرز کو بھی اپنی آڈینس میں یہ اعتماد پیدا کرنا ہوگا کہ وہ 1500 سے 2000 روپے فی سیٹ جو خرچ کر رہے ہیں، وہ اس کے لائق ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 'دیکھیں، ہر اسپائیڈر مین فلم عظیم نہیں ہوتی، سب میں خامیاں ہوتی ہیں، لیکن [لوگ] جانتے ہیں کہ ان فلموں میں ٹام ہالینڈ اور ذنڈایا ہیں اور انہیں فلم سے وہ مزا ضرور ملے گا جو وہ چاہتے ہیں'۔
اپنی فلم 'شیروز' کے حوالے سے زارا نور عباس نے کہا، 'ہم آپ سے صرف اسے ایک موقع دینے کا کہہ سکتے ہیں۔ میں آپ کو صرف اتنا کہوں گی، 'آؤ، اسے دیکھو، ایک نظر ڈالو۔'' انہوں نے بتایا کہ ان کی ٹیم کچھ نیا کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ فلم نئے ڈائریکٹرز نے بنائی ہے، جن میں سے ایک اپنا پہلا فیچر سنیما آڈینس کے لیے بنا رہے ہیں۔
'شیروز' ایک انتھالوجی فلم ہے جس میں تین مختلف خواتین کی تین کہانیاں دکھائی گئی ہیں، اور ہر کہانی میں وہ بالکل مختلف حالات کا سامنا کر رہی ہیں۔ زارا عباس اس کی ایک ایکشن سے بھرپور کہانی 'گیئر اپ' میں ایک بم ڈسپوزل اسپیشلسٹ پولیس افسر کا مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ دیگر دو سیگمنٹس 'آرٹسٹ' اور 'پنچ' کی قیادت کنزا ہاشمی اور اشنہ شاہ کر رہی ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ فلم میکرز اس 'سچ' کو کتنی جلدی ہضم کر پاتے ہیں یا پھر وہی سپورٹ مانگنے کی رٹ لگائے رکھیں گے؟
