MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

وسیم اکرم نے ویرات کوہلی کو 'ڈریکولا' سے کیوں کمپیئر کیا؟ جانیے پوری بات

پاکستان کے لیجنڈری فاسٹ بولر اور سابق کپتان وسیم اکرم نے انڈین کرکٹر ویرات کوہلی کو ون ڈے کرکٹ کا اب تک کا 'عظیم ترین کھلاڑی' قرار دے کر کرکٹ کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ لیکن اس تعریف کے ساتھ انہوں نے ایک مزاحیہ جملہ بھی اچھالا جس میں کوہلی کا موازنہ 'ڈریکولا' سے کر ڈالا۔ یہ بات انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہی جہاں انہوں نے کوہلی کے کیریئر کی لمبی پاری اور مستقبل پر بات کی۔

وسیم اکرم، جو 'سلطان آف سوئنگ' کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے انڈین بلے باز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف بہترین بلے باز ہی نہیں بلکہ اگلی نسل کے لیے ایک بہترین رول ماڈل بھی ہیں۔ تاہم، ان کے 'ڈریکولا' والے تبصرے نے سب کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔

'ڈریکولا' والے کمپیریزن کا اصلی مقصد

وسیم اکرم کا ویرات کوہلی کو 'ڈریکولا' کہنا کسی تنقید یا ذاتی حملے کے لیے بالکل نہیں تھا۔ بھائی لوگ، بات کچھ یوں ہے کہ انہوں نے یہ موازنہ کوہلی کے انٹرنیشنل کرکٹ میں لمبے عرصے تک کھیلنے اور ممکنہ ریٹائرمنٹ کے عملی پہلو کو سمجھانے کے لیے استعمال کیا۔ آزاد صحافی شازیہ عباس کے ساتھ ایک انٹرویو میں اکرم نے ہنستے ہوئے کہا کہ کوہلی بھی آخر ایک انسان ہیں، 'ڈریکولا' تو نہیں جو اگلے سو سال تک کرکٹ کھیلتے رہیں گے۔

اس بیان کا سیدھا سادا مطلب یہ تھا کہ کوہلی نے انٹرنیشنل کرکٹ میں ایک شاندار اور کامیاب سفر طے کیا ہے، لیکن ایک ایتھلیٹ کا کیریئر ہمیشہ نہیں چل سکتا۔ اکرم کے اس تبصرے میں مزاح کے ساتھ ایک تجربہ کار سابق کرکٹر کا نقطہ نظر بھی واضح نظر آتا ہے جو جانتے ہیں کہ کھلاڑیوں کو کب اپنے جوتے لٹکانے چاہیے۔

ویرات کوہلی: ایک رول ماڈل اور ریکارڈز کا سلطان

وسیم اکرم نے اپنے انٹرویو میں کوہلی کو صرف ایک بہترین بلے باز ہی نہیں بتایا بلکہ آنے والی نسل کے لیے ایک شاندار رول ماڈل بھی قرار دیا۔ انہوں نے وائٹ بال کرکٹ میں کوہلی کے کردار کو اتنی اہمیت دی کہ انہیں آل ٹائم عظیم ترین ون ڈے کرکٹر کا درجہ دے دیا۔ اکرم کا یہ اندازہ بہت اہم ہے کیونکہ کوہلی کی شہرت صرف انڈین کرکٹ تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں بھی ان کی کارکردگی کو بہت سراہا جاتا ہے۔

کوہلی کا ون ڈے کیریئر ان کی کنسسٹینسی اور سنچری بنانے کی صلاحیت کے لیے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے ون ڈے سنچریوں کے معاملے میں سچن ٹنڈولکر کو پیچھے چھوڑ کر کمال ہی کر دیا ہے۔ یہ اچیومنٹ ون ڈے کرکٹ میں ان کے اثر و رسوخ کو سمجھنے کے لیے ایک اہم شماریاتی حوالہ ہے۔ کوہلی اپنے بین الاقوامی کیریئر میں اٹھائیس ہزار پانچ سو سے زیادہ رنز بنا چکے ہیں اور وہ سو سنچریوں سے صرف چودہ سنچریاں پیچھے ہیں۔

2027 ورلڈ کپ: کیا یہ آخری مشن ہوگا؟

دو ہزار ستائیس کا ورلڈ کپ ویرات کوہلی کے مستقبل کے بارے میں چلنے والی بات چیت کا مرکزی نقطہ ہے۔ وسیم اکرم کا خیال ہے کہ یہ کوہلی کا آخری ورلڈ کپ ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس توقع کو کوہلی کے اٹھارہ سالہ طویل بین الاقوامی کیریئر کے تناظر میں رکھا۔ معلومات کے مطابق، کوہلی ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز سے ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں، اور اب ون ڈے فارمیٹ ہی ان کے بین الاقوامی کیریئر کا باقی ماندہ فوکس ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کوہلی ایک اور ورلڈ کپ کھیل کر اپنے کیریئر کو ایک یادگار انجام دینا چاہتے ہیں۔ پچھلے ورلڈ کپ میں انڈیا ٹرافی کے بہت قریب پہنچ کر بھی ٹائٹل اپنے نام نہیں کر سکا تھا، ایسے میں دو ہزار ستائیس کا ٹورنامنٹ کوہلی کے لیے ایک اور موقع ہو سکتا ہے جہاں ذاتی کامیابیوں کے ساتھ ٹیم کی فتح بھی ان کے کیریئر کی کہانی کا ایک اہم حصہ بن سکے گی۔ لیکن یہاں ایک ضروری وضاحت یہ ہے کہ یہ وسیم اکرم کی توقع ہے، کوہلی کی طرف سے اپنی ریٹائرمنٹ کی کوئی باضابطہ تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ یہ کوہلی کا آخری ورلڈ کپ ہونا چاہیے؟

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔