مہیرہ اور سجل کے نام سے بھارت میں احتجاج کی حمایت والی پوسٹس جعلی نکلیں، AI کا کمال!

پچھلے دنوں بھارت میں اس وقت ہنگامہ برپا تھا جب اکتوبر 2026 میں نئی دہلی اور ممبئی میں ہزاروں مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ الزام تھا کہ الیکٹورل رول سے لاکھوں ووٹرز کے نام نکال دیے گئے ہیں، تاکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت BJP کو فائدہ پہنچے۔ ان الزامات کی تردید الیکشن کمیشن اور BJP دونوں نے کی ہے۔ اسی دوران، Gen Z کی قیادت والی "کاکروچ جنتا پارٹی" (CJP)، جس کے سربراہ ابھیجیت ڈپکے ہیں، نے 10 اکتوبر کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر ایک بڑی ریلی کا اعلان کیا، جس کا مطالبہ آزاد اور منصفانہ انتخابات تھا۔
مہیرہ خان کا جعلی "سپورٹ" ڈرامہ
8 اکتوبر 2026 کو، سوشل میڈیا پر ایک عجیب و غریب کہانی سامنے آئی۔ BJP کے ایک حامی نے X پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں مبینہ طور پر ہماری پیاری پاکستانی اداکارہ مہیرہ خان کی انسٹاگرام سٹوریز دکھائی گئیں، اور دعویٰ کیا گیا کہ وہ 10 اکتوبر کے اس احتجاج کی بھرپور حمایت کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ مہیرہ کی جعلی سٹوری میں لکھا تھا کہ وہ ابھجیت ڈپکے اور دھروو راٹھی کے احتجاج کو مکمل سپورٹ کرتی ہیں، اور بھارت نہیں آ سکتیں کیونکہ BJP نے پاکستانی اداکاروں پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔ اس میں امید ظاہر کی گئی تھی کہ اس احتجاج کے بعد پاک-بھارت تعلقات بہتر ہو جائیں گے! یوزر نے یہ بھی لکھا کہ یہ احتجاج اصل میں مودی، BJP اور ہندوتوا کے خلاف حکومت کی تبدیلی کی سازش ہے۔ مزید کئی BJP حامیوں نے بھی یہی "دعوے" شیئر کیے، جس سے یہ پوسٹ 38,000 سے زیادہ ویوز لے کر خوب وائرل ہوئی۔
سجل علی کی نام نہاد "حمایت"
ابھی مہیرہ کی جھوٹی کہانی چل ہی رہی تھی کہ ایک اور کمال ہو گیا۔ سوشل میڈیا پر پاکستانی اداکارہ سجل علی کی بھی ایک ایسی ہی جعلی انسٹاگرام سٹوری گردش کرنے لگی۔ اس سٹوری میں سجل علی کو بھارت میں احتجاج کرنے والوں کی حمایت کرتے دکھایا گیا تھا اور اشارہ دیا گیا تھا کہ وہاں کی حکومت میں تبدیلی قریب ہے۔ اس جعلی سٹوری کو بھی BJP کے ایک حامی نے کیپشن کے ساتھ شیئر کیا تھا، جس میں اس نے سجل علی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر مودی ہٹ گئے تو نئے لوگ پاکستان کے "بہترین دوست" بن جائیں گے اور پاکستانیوں کو وہاں کام کرنے دیں گے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ پوسٹ بھی خوب شیئر کی گئی اور اس کی وائرلٹی بہت بڑھ گئی۔
اے آئی کا کمال یا فیک نیوز کا کھیل؟ حقیقت کیا نکلی؟
ظاہر ہے، اتنی وائرل پوسٹس پر تو فیکٹ چیک بنتا تھا۔ جب تحقیق کی گئی تو کہانی کچھ اور ہی نکلی۔ کسی بھی معتبر بھارتی یا پاکستانی میڈیا نے ان انسٹاگرام سٹوریز کی تصدیق نہیں کی، اور نہ ہی پاکستانی یوزرز، مداحوں یا میڈیا انڈسٹری سے کسی نے ان پر کوئی ردعمل دیا۔ یہ اپنے آپ میں ایک بڑا سوالیہ نشان تھا۔
مہیرہ خان کے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ کو چیک کیا گیا تو وہاں ایسی کوئی سٹوری نہیں ملی۔ انسٹاگرام سٹوریز 24 گھنٹے بعد خود بخود غائب ہو جاتی ہیں، لیکن یہ دعوے تو 8 اکتوبر کو سامنے آئے تھے، اور مہیرہ کے اکاؤنٹ پر ان کا کوئی نشان نہیں تھا۔ جب مہیرہ کی وائرل پوسٹ کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا تو ابھیجیت ڈپکے کی انگلیاں کچھ بگڑی ہوئی نظر آئیں، جو کہ AI سے بنی تصاویر میں ایک عام سی خامی ہوتی ہے۔ تصویر کا تجزیہ OpenAI کے SynthID ٹول سے کیا گیا تو اس میں SynthID سگنل ملا، جو واضح طور پر بتاتا ہے کہ یہ تصویر OpenAI کے ٹولز سے بنائی یا ایڈٹ کی گئی ہے۔ یہ ڈیجیٹل واٹر مارک AI سے بنے میڈیا میں ایمبیڈ ہوتا ہے اور کٹائی یا فلٹرز کے بعد بھی پہچانا جا سکتا ہے۔ مزید AI-detection ٹولز نے اس تصویر کو 99 فیصد ڈاکٹرڈ اور 76 فیصد AI جنریٹڈ قرار دیا۔
سجل علی کی پوسٹ کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ ان کے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر بھی ایسی کوئی سٹوری نہیں ملی۔ جب سجل کی پوسٹ کا Truthscan سے تجزیہ کیا گیا تو اسے 95 فیصد ڈاکٹرڈ قرار دیا گیا۔ Undetectable AI نے بھی اسے 95 فیصد ایڈٹڈ اور Fake Image Detector نے 76 فیصد کمپیوٹر جنریٹڈ یا موڈیفائیڈ تصویر کہا۔
بالکل صاف ہے کہ مہیرہ خان اور سجل علی کے نام سے بھارت میں CJP کے احتجاج کی حمایت والی انسٹاگرام پوسٹس کے سکرین شاٹس سراسر جعلی ہیں۔ یہ وائرل تصاویر دراصل AI کی بنائی ہوئی ہیں، اور ہماری اداکاراؤں نے ایسی کوئی پوسٹ شیئر نہیں کی۔ یعنی آپ کا اپنا AI، آپ کے اپنے "فیک" پروپیگنڈے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ کبھی سوچا ہے، اگلی بار کوئی ایسی پوسٹ نظر آئے تو شیئر کرنے سے پہلے تصدیق ضرور کیجیے۔
