MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

سیمی راحیل کو جوانی میں "کیٹ کالز" کا سامنا! کیا آج بھی صورتحال ویسی ہے؟

سینیئر اداکارہ سیمی راحیل نے حال ہی میں اپنی جوانی کے دنوں کی یاد تازہ کی ہے جہاں انہیں پبلک میں "کیٹ کالز" اور سیٹیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ وہ بتا رہی تھیں کہ کیسے جینز اور ٹی شرٹ جیسے بالکل سادہ کپڑوں میں بھی انہیں یہ سب جھیلنا پڑتا تھا۔

سیمی راحیل نے بتایا کہ وہ سردیوں میں گھنٹوں پیدل چلا کرتی تھیں، جس میں نیشنل کالج آف آرٹس (NCA) اور GOR-1 کے آس پاس کے علاقے بھی شامل تھے۔ ان کے مطابق لوگ اکثر سیٹیاں بجاتے یا کمنٹس پاس کرتے تھے، لیکن یہ سب دور سے ہوتا تھا۔ مطلب، ذرا فاصلہ رکھتے تھے۔

لیکن بات جب جسمانی ہراسانی کی آتی ہے تو سیمی راحیل کے مطابق تب صورتحال کچھ مختلف تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ اس وقت لوگ پبلک میں کسی عورت کو چھونے کی ہمت کم ہی کرتے تھے، کیونکہ آس پاس کے لوگ فوراً بیچ میں آ جاتے اور ذمہ دار شخص کو پکڑ لیتے تھے۔

سیمی نے اس رویے کی وجہ 'خوف، شرم اور غیرت' کو قرار دیا، ان کے خیال میں یہ چیزیں لوگوں کو ایک حد پار کرنے سے روکتی تھیں۔ سیمی راحیل کے مطابق اس وقت جسمانی ہراسانی پر فوری ردِعمل اور مداخلت زیادہ دیکھنے میں آتی تھی۔

ان کی یہ باتیں عوامی مقامات پر خواتین کی حفاظت اور ہراسانی کے معاملے پر معاشرے کے ردعمل پر نئی بحث چھیڑ گئی ہیں۔ ویسے سیمی راحیل اس سے پہلے بھی پاکستان میں بدلتے ہوئے سماجی رویوں پر بات کرتی رہی ہیں۔ تو آپ کیا کہتے ہیں، کیا آج بھی ویسا ہی ماحول ہے یا اب چیزیں زیادہ خراب ہو گئی ہیں؟ سوچ کر بتائیں!

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔