شوبز چھوڑنے کی افواہوں پر عمران عباس کا بڑا بیان: ’میری ترجیحات بدل گئی ہیں‘

معروف پاکستانی اداکار عمران عباس نے شوبز چھوڑنے کی افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ان کے ایک انٹرویو کے بعد یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ انہوں نے شوبز سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔
اس صورتحال پر عمران عباس نے انسٹاگرام تھریڈز پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس کا کیپشن تھا ”افواہوں پر حقائق بھاری ہیں۔“ اس پوسٹ کے ساتھ انہوں نے ایک سکرین شاٹ بھی لگایا، جس میں انہوں نے شوبز چھوڑنے کی خبروں کو بالکل غلط قرار دیا اور کہا کہ ان کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ پچھلے دو سالوں میں انہوں نے اپنے کاروبار اور فلاحی کاموں پر زیادہ توجہ دی ہے، اور بے شمار ٹیلی ویژن اور فلم کی پیشکشیں ٹھکرائی ہیں، جن میں کچھ کو سرکاری فلم فنڈز کی حمایت بھی حاصل تھی۔ ان کے مطابق یہ ان کی ترجیحات کی بنیاد پر ایک سوچا سمجھا فیصلہ تھا، نہ کہ انڈسٹری سے علیحدگی۔
اداکار نے کہا کہ ”شوبز کے ساتھ میرا تعلق قائم ہے، لیکن میری ترجیحات بدل گئی ہیں۔ میں ٹیلی ویژن اور سینما کا حصہ ضرور بنوں گا جب کوئی ایسا پروجیکٹ ملے گا جس میں وہ معنی، مقصد اور تخلیقی گہرائی ہو جس پر مجھے یقین ہے۔“
اس سے پہلے انہوں نے ٹیلی ویژن ڈراموں سے دوری اختیار کرنے کے اپنے فیصلے کے بارے میں بتایا تھا کہ اب وہ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار اور فلاحی کاموں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ میشی خان کے مارننگ شو میں ایک فون کال کے ذریعے عمران نے تصدیق کی تھی کہ وہ اب ٹیلی ویژن کے پروجیکٹس نہیں کر رہے اور ان کی توجہ تعمیرات اور آرکیٹیکچر کی طرف مبذول ہو گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ ٹی وی ڈرامے چھوڑ چکے ہیں، ان کا رئیل اسٹیٹ کا کاروبار ہے، وہ آرکیٹیکٹ بھی ہیں اور انہوں نے اسلام آباد میں تعمیراتی کام شروع کر دیا ہے۔
عمران عباس نے اپنے آنے والے پروجیکٹ ’ایری‘ کی تفصیلات بھی شیئر کیں، جو اسلام آباد ایئرپورٹ کے قریب ممتاز سٹی میں ایک 12 منزلہ ٹاور ہے۔ ان کے مطابق، اس عمارت کی تکمیل میں تقریباً ڈھائی سال لگیں گے۔
کاروباری منصوبوں کے ساتھ ساتھ، عمران نے بتایا کہ فلاحی کام ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ بن گئے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اپنے والدین کے انتقال اور کوئی اولاد نہ ہونے کے بعد، وہ ایسے کاموں کے ذریعے دوسروں کی مدد کرنا چاہتے ہیں جو آخرت میں ان کے لیے فائدہ مند ہوں۔
تو اب کہانی ’شوبز چھوڑنے‘ کی نہیں بلکہ ’ترجیحات بدلنے‘ کی ہے۔ کیا یہ نئے پروجیکٹس ان کو ویسے ہی ہٹ کریں گے جیسے ان کے ڈرامے کرتے تھے؟
