MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

دانیہ کنول نے نیویارک کے ٹائمز اسکوائر پر دھوم مچا دی!

via Instagram @daniyakanwall

پاکستان کی ہپ ہاپ سین میں ایک تازہ آواز کے طور پر ابھرنے والی دانیہ کنول، جو اپنی پہچان، خواتین کے تجربات اور آزادی جیسے موضوعات پر مبنی دھنوں کے لیے جانی جاتی ہیں، نے حال ہی میں ایک بین الاقوامی اعزاز حاصل کیا ہے۔ سپوٹیفائی کی جانب سے 2026 کی تیسری سہ ماہی کے لیے ’ایقول پاکستان ایمبیسڈر‘ منتخب ہونے کے بعد، اب ان کی تصویر نیویارک کے مشہور ٹائمز اسکوائر کے ایک بل بورڈ پر نظر آئی ہے، جو ان کی موسیقی کے سفر میں ایک شاندار کامیابی ہے۔

اس عالمی پہچان سے دانیہ کنول کے کیریئر کو چار چاند لگ گئے ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی فنکار اب صرف ملکی سرحدوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔ یہ کسی بھی فنکار کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے اور خاص طور پر ایک پاکستانی خاتون ریپر کے لیے یہ ایک متاثر کن لمحہ ہے۔

ہپ ہاپ کی دنیا کی نئی رانی

دانیہ کنول نے اپنی موسیقی کے ذریعے پاکستانی ہپ ہاپ کو ایک نئی جہت دی ہے۔ وہ ریپ کو جنوبی ایشیائی اثرات کے ساتھ ایسے ملاتی ہیں کہ سن کر مزہ ہی آ جاتا ہے۔ ان کی دھنوں میں پہچان، عورت پن اور نوجوان لڑکیوں کے تجربات کی بات ہوتی ہے، جو آج کی نسل کے دلوں کو چھو جاتی ہے۔ اس سال کے شروع میں (2026 میں) ریلیز ہونے والے ان کے سات ٹریک والے ڈیبیو البم 'کنول' کا گانا 'مائیک چیک' اسی کی ایک بہترین مثال ہے۔ سپوٹیفائی کے اعداد و شمار کے مطابق، پچھلے ایک سال میں ان کے سننے والوں میں 3,470 فیصد اور اسٹریمنگ میں 6,920 فیصد سے زیادہ کا حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے، یہ بتاتا ہے کہ لوگ انہیں کتنا پسند کر رہے ہیں۔

’بی گرل ڈیسٹنی‘ سے ’دانیہ کنول‘ تک کا سفر

موسیقی کے میدان میں آنے سے پہلے، دانیہ کنول نے 'بی گرل ڈیسٹنی' کے نام سے ہپ ہاپ ڈانسر اور بریکر کے طور پر اپنی پہچان بنائی تھی۔ 2022 میں وہ ملک میں ہونے والی پہلی بین الاقوامی بریکنگ چیمپئن شپ میں پاکستان کی پہلی خاتون قومی چیمپیئن بنیں۔ ان کی اداکاری کا سفر بھی کوئی کم نہیں، وہ مختصر فلموں 'حقوق العباد' (2021) اور 'اپارٹمنٹ 51' (2021) میں بھی جلوہ گر ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ کہانیاں بھی سناتی ہیں، خاص طور پر 'لیجنڈز آف لو' جیسی کلیکشنز کو اپنی جذباتی آواز سے زندہ کر دیتی ہیں۔

دانیہ نے میوزک ویڈیوز اور لائیو اسٹیج پرفارمنس کے ذریعے ایک پرفارمر کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ 2020 میں اویس وہاب کے میوزک ویڈیو 'ادھورا' میں ان کی پہلی بڑی نمائش ہوئی۔ 2025 میں، 'تماشا سیزن 4' میں بطور مقابلہ کنندہ انہیں کافی شہرت ملی، اور اسی سال انہوں نے اپنے بریک آؤٹ سنگل 'جہادی عورت' سے موسیقی کے میدان میں تہلکہ مچا دیا۔

پی ایس ایل سے عالمی شہرت تک

اسی سال کے شروع میں، دانیہ نے ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 کے ترانے 'کھیلیں گے بیٹ پے' میں عاطف اسلم، صابری سسٹرز اور آئمہ بیگ کے ساتھ پرفارم کیا اور اس گانے کے بول بھی لکھے۔ یہ ٹریک فی الحال ان کا سب سے زیادہ اسٹریم کیا جانے والا گانا ہے، جس کے بعد 'بن رانجھا'، 'جہادی عورت' اور 'میری جان' ہیں۔ دانیہ کی موسیقی صرف پاکستان میں ہی نہیں، بلکہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں بھی سنی جا رہی ہے۔ ان کے 70 فیصد کے قریب سامعین 18 سے 34 سال کی عمر کے ہیں۔ یہ تو کمال ہو گیا نا؟

’ایقول‘ کا مضبوط پیغام

دانیہ کنول نے 'ایقول' کی نمائندگی کرنے کے بارے میں بتایا کہ انہیں یہ بہت پسند ہے کیونکہ یہ خواتین کو ان موضوعات پر بات کرنے کی جگہ دیتا ہے جن سے اکثر کترایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، "مجھے 'ایقول' کی نمائندگی بہت پسند ہے کیونکہ یہ ایک 'گرلز نائٹ' کی طرح محسوس ہوتا ہے جہاں ہر گفتگو کی اجازت ہے، آزادی اور ہمارے جسموں سے لے کر شرم، خواہش، عزائم اور ہر وہ چیز جس کے بارے میں ہمیں عام طور پر بات کرنے سے روکا جاتا ہے۔" ان کا کہنا ہے کہ خواتین کو 'نرم یا طاقتور، کمزور یا غصے والی، نسوانی یا بے باک' میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کرنا چاہیے۔ ان کی یہ سوچ واقعی ہم سب کے لیے ایک سبق ہے، اور اس سوچ کو ہم دل سے سراہتے ہیں۔

دانیہ کی فنکاری ہپ ہاپ ڈانس سے جڑی ہوئی ہے، اور ان کا انداز را، بے خوف اور غیر سمجھوتہ والا مستند ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں بھی سماجی مشاہدات کو نمایاں کرتی ہیں، روایتی سوچ کو چیلنج کرتی ہیں، اور کڑوی حقیقتوں کا سامنا کرتی ہیں۔ ان کا بولڈ، اشتعال انگیز اور سمجھوتہ نہ کرنے والا انداز ان کی موسیقی، پرفارمنس اور کہانی سنانے میں واضح نظر آتا ہے۔ کیا خیال ہے، یہ تو ابھی آغاز ہے، دانیہ باجی ابھی اور کیا کچھ کر کے دکھائیں گی؟

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔