سبینا فاروق نے لپ فیلرز کی افواہوں پر "سوئیوں کے ڈر" کا کارڈ کھیل دیا!

پاکستانی اداکارہ سبینا فاروق نے لپ فیلرز کی افواہوں کی بھرپور تردید کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سوئیوں کے خوف کی وجہ سے وہ اس طرح کے کسی بھی کاسمیٹک پروسیجر سے دور رہتی ہیں۔
لوگوں نے سبینا کی حالیہ ویڈیوز میں ان کے ہونٹوں پر تبصرے کیے تھے، جس کے بعد انہوں نے اس معاملے پر بات کی۔ اداکارہ نے وضاحت کی کہ انہوں نے لپ فیلر ٹریٹمنٹ نہیں کروایا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں سوئیوں سے شدید ڈر لگتا ہے، چاہے انہیں بیماری یا انفیکشن کے لیے انجیکشن لگوانا ہی کیوں نہ پڑے۔
کاسمیٹک تبدیلیوں کے بارے میں سبینا کا موقف بھی بڑا سیدھا ہے۔ ان کے مطابق، اگر کوئی اپنی شکل میں تبدیلی لانا چاہے تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ ہر انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خود فیصلہ کرے کہ اسے کیا چیز اچھا محسوس کرواتی ہے۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اگر وہ سوئیوں کے اس خوف پر قابو پا سکیں تو شاید وہ خود بھی اپنے چہرے میں ایک یا دو تبدیلیاں کرنے پر غور کریں گی۔ البتہ، ان کا مشورہ ہے کہ لوگ کاسمیٹک پروسیجرز میں حد سے زیادہ نہ جائیں، کیونکہ بہت زیادہ تبدیلیاں انسان کی قدرتی خوبصورتی کو متاثر کر سکتی ہیں۔
سبینا کے ان تبصروں نے ایک بار پھر اس بحث کو ہوا دی ہے کہ پاکستانی سلیبرٹیز کو اکثر اپنی شکل و صورت کی وجہ سے کیسی سخت جانچ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آن لائن صارفین ذرا سی تبدیلی دیکھتے ہی کاسمیٹک ٹریٹمنٹس کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع کر دیتے ہیں۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ ہر گول مول ہونٹ فیلر کی دین نہیں ہوتا، کیا خیال ہے؟
