MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

مشی خان کا ڈراما رائٹرز سے دو ٹوک سوال: حجاب والی لڑکیوں کو ہمیشہ مظلوم ہی کیوں دکھایا جاتا ہے؟

اداکارہ مشی خان نے حال ہی میں اپنے انسٹاگرام ویڈیوز اور وِلاگز میں پاکستانی ڈراموں پر کھل کر بات کی ہے۔ انہوں نے ڈراموں میں خواتین کی تصویر کشی پر ایک اہم نکتہ اٹھایا ہے، جس پر اب سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے۔

مشی خان نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ہمارے اکثر ڈراموں میں حجاب پہننے والی خواتین کو ہمیشہ مظلوم، بے بس اور ڈری سہمی دکھایا جاتا ہے۔ ان کے کرداروں میں ہر وقت ایک خوف نظر آتا ہے۔ اس کے برعکس، جو لڑکیاں مغربی لباس میں ہوتی ہیں، انہیں جدید ہونے کے ساتھ ساتھ ایک 'برے کردار' کی حامل، بے لگام یا کلبوں میں جانے والی دکھایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا، “آخر ڈراموں میں یہ انتہا پسندی کیوں دکھائی جاتی ہے؟”

اس ویڈیو کے بعد، سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ لوگ اسے مسلمانوں کے خلاف مغربی پروپیگنڈا قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت سے کافی قریب ہے۔ مشی خان، جو خود ایک مشہور پاکستانی اداکارہ، میزبان اور سماجی کارکن ہیں، مختلف سماجی مسائل پر اکثر اپنی آواز اٹھاتی رہتی ہیں۔ ان کا K2 TV پر پندرہ سال سے چلنے والا مارننگ شو بھی کافی کامیاب رہا ہے۔ ماضی میں، وہ 'عروسہ'، 'بوٹا فرام ٹوبہ ٹیک سنگھ' اور 2016 کی ہٹ فلم 'جاناں' جیسے کئی مقبول ڈراموں اور فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں۔

کیا رائٹرز کا قلم واقعی بس یہیں تک سوچ پاتا ہے، یا ہمیں سکرین پر کچھ حقیقت سے قریب تر دیکھنے کی ضرورت ہے؟

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔