بشریٰ انصاری کا اقرار الحسن کی فیملی پر سوال: یہ کیسے ممکن ہے؟

پاکستانی انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں بشریٰ انصاری کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ساٹھ کی دہائی میں بچپن ہی سے اسکرین پر قدم رکھنے والی یہ اداکارہ، کامیڈین، گلوکارہ اور ڈرامہ نگار کئی نسلوں کے لیے ایک ادارے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ 1989 میں انہیں پاکستانی ٹیلی ویژن میں خدمات پر پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا — یعنی یہ وہ آواز ہے جس کی بات لوگ سنتے ہیں، اور جب وہ کچھ کہتی ہیں تو بحث شروع ہو جاتی ہے۔ اس بار انہوں نے ٹی وی اینکر اقرار الحسن کی فیملی کے بارے میں اپنی حیرت کا اظہار کیا اور واقعی ایک ایسا سوال چھوڑ گئیں جو آسانی سے جواب نہیں ڈھونڈتا۔
بشریٰ انصاری کو یہ سمجھنا مشکل لگا کہ اقرار الحسن کی تین بیویاں کیسے ایک ساتھ بیٹھ کر ہنستی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ انداز میں نظر آتی ہیں۔ انہوں نے کہا: "تین بیویاں ایک ساتھ ہنس رہی ہیں، یہ کیسے ممکن ہے؟ کیسے؟" ان کے لہجے میں نہ مذمت تھی، نہ فتویٰ — محض خالص، سچی حیرت، جو شاید بہت سے لوگوں کے دل کی ترجمان ہے۔ اور سچ کہیں تو ہمیں بھی ایک لمحے کے لیے رکنا پڑا — کیا یہ وہ مسکراہٹیں ہیں جو صرف کیمرے کے لیے ہوتی ہیں، یا واقعی کچھ لوگ ایسے تعلقات کامیابی سے نبھا لیتے ہیں؟
جذباتی پہلو — جو ظاہری ہم آہنگی کے پیچھے چھپا ہوتا ہے
بشریٰ انصاری نے صرف ظاہری تصویر پر نہیں رکیں، انہوں نے اس کے جذباتی پہلو پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ تر بیویوں کے لیے ایسی صورتحال فطری طور پر مشکل ہوتی ہے اور اپنے شوہر کو کسی اور عورت کے ساتھ قبول کرنا آسان نہیں ہوتا — حالات کچھ بھی ہوں۔ انہوں نے صاف کہا کہ تین بیویوں کا ایک ساتھ رہنا ان کی نظر میں بہت مشکل ہے۔ اگر ہمارے ڈراموں کو دیکھیں تو دو عورتیں ایک شوہر کے ساتھ رہنا تو دور، ایک دوسرے کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتیں — تین کا ایک ساتھ ہنسنا واقعی کسی غیر دنیاوی مظاہرے سے کم نہیں لگتا۔ بشریٰ جی نے وہی بات کہی جو کئی خواتین کے دل میں ہوتی ہے مگر وہ کہہ نہیں پاتیں — اور یہی ان کی بات کا اصل وزن ہے۔
اگر مردوں کی باری ہو تو؟
بشریٰ انصاری نے بحث کو ایک قدم اور آگے بڑھایا اور پوچھا کہ اگر یہی صورتحال مردوں کے ساتھ ہو تو کیا وہ اسے قبول کریں گے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کوئی شوہر اپنی بیوی کے تین شوہروں کو برداشت کر پائے گا، اور کیا وہ کبھی ایسے انتظام کو قبول کر سکتا ہے۔ یہ معاشرتی ڈبل اسٹینڈرڈ پر ایک کاری وار ہے — کچھ باتیں ہمارے یہاں صرف ایک فریق کے لیے جائز سمجھی جاتی ہیں اور دوسرے کے لیے نہیں۔ ان کا یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ایسی بحثوں میں عورت کی سوچ اور جذبات تو زیرِ بحث آتے ہیں، مگر مردوں کی سوچ اکثر سوال سے بالاتر رہتی ہے۔ بشریٰ انصاری نے اس خاموش مفروضے کو ہلا کر رکھ دیا۔
اقرار الحسن اور ان کی پبلک فیملی لائف
بشریٰ انصاری کے ان تبصروں نے ایک بار پھر اقرار الحسن کی شادیوں کی طرف توجہ مبذول کرائی۔ اقرار مختلف مواقع پر اپنی خاندانی ترتیب کے بارے میں عوامی سطح پر بات کر چکے ہیں — انہوں نے بتایا ہے کہ ان کی فیملی میں باہمی افہام و تفہیم ہے اور ان کی بیویاں ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح رہتی ہیں۔ یہی کھلا پن اور یہی پبلک گفتگو اس موضوع کو بار بار سوشل میڈیا اور ناظرین کے درمیان بحث کا مرکز بناتی رہتی ہے۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں، سوال کرنا چاہتے ہیں — اور جب بشریٰ انصاری جیسی شخصیت وہی سوال اٹھائے، تو گفتگو اور بھی وسیع ہو جاتی ہے۔
بشریٰ انصاری نے ایک پنڈورا باکس کھول دیا ہے — اور اچھا کیا۔ یہ صرف ایک فیملی کا معاملہ نہیں، بلکہ ایک ایسے سوال کا عکاس ہے جو اکثر ذہنوں میں آتا ہے مگر زبان تک نہیں آتا۔ ایک لیجنڈ نے بے باکی سے وہ کہہ دیا جو بہت سے لوگ سوچتے رہتے ہیں — اور یہی ان کی اصل طاقت ہے۔ اب آپ بتائیں — بشریٰ انصاری کی بات میں کتنا وزن ہے؟
