MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

ملالہ یوسفزئی سے ملاقات پر میگھن مارکل کے فیشن پر آن لائن صارفین بھڑک اٹھے، "یہ آؤٹ فٹ عجیب ہے!"

7 اکتوبر کو لندن کے Claridge’s ہوٹل میں نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے ساتھ میگھن مارکل کی سہ پہر کی چائے اور گفتگو نے آن لائن دنیا میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی۔ یہ ملاقات لندن کے پوش علاقے میفیئر میں واقع The Foyer & Reading Room میں ہوئی، اور جہاں یہ دو اہم شخصیات ایک ساتھ تھیں، وہیں شاہی مبصرین اور فیشن کے شائقین کی نظریں میگھن کے فیشن چوائس پر جا ٹکیں۔ ایک ذریعے کے مطابق، یہ دو دوستوں کے درمیان "ایک غیر رسمی ملاقات" تھی جہاں انہیں ایک دوسرے سے بات چیت کا موقع ملا۔ یہ میگھن کا لندن میں پہلا عوامی ظہور تھا جب وہ 26 اگست کو پرنس ہیری اور اپنے سات سالہ بیٹے پرنس آرچی اور پانچ سالہ بیٹی پرنسس للیبیٹ کے ساتھ برطانیہ منتقل ہوئی تھیں۔

میگھن مارکل کو عام طور پر ان کے فیشن کے کم سے کم (minimalist) انداز اور غیر جانبدار رنگوں کو ترجیح دینے کے لیے جانا جاتا ہے۔ لیکن اس بار، انہوں نے 'quiet-luxury' کا انداز اپنایا، جس میں کئی اعلیٰ برانڈز کے قیمتی ڈیزائنر پیسز شامل تھے۔ انہوں نے Co برانڈ کا ایک ہاتھی دانت کے رنگ کا کشمیری سویٹر پہنا تھا، ۔ اس کے ساتھ Ralph Lauren کے ڈھیلے ڈھالے سفید وائڈ لیگ پلازو ٹراؤزر تھے۔ ان کے کندھوں پر Tove Studio کا بھورے رنگ کا شال نما کوٹ ڈھیلے انداز میں لٹکا ہوا تھا، ۔ پاؤں میں Saint Laurent کی اونٹ کے رنگ کی نوکیلی فلیٹ جوتے تھے ۔ مزید برآں، انہوں نے اپنے اس انیسامبل کو ایک سیاہ quilted Chanel کیمرہ بیگ اور ایک patterned tote کے ساتھ مکمل کیا۔ ان تمام قیمتی ڈیزائنر آئٹمز کی مبینہ کل لاگت تقریباً 37 ہزار ڈالر بتائی گئی ہے۔

تاہم، اتنے مہنگے اور نامور برانڈز کا لباس پہننے کے باوجود، آن لائن صارفین اور فیشن نقادوں کی جانب سے اس لباس پر شدید تنقید کی گئی۔ یہ آؤٹ فٹ خاص طور پر اپنی لمبائی اور فٹنگ کے حوالے سے بحث کا موضوع بن گیا۔ بہت سے ناقدین نے محسوس کیا کہ لباس کا یہ Oversized silhouette میگھن پر کچھ زیادہ ہی بڑا لگ رہا تھا اور یہ ان پر سجا نہیں۔ ان کے مطابق، ڈھیلے ڈھالے کپڑوں نے ان کے جسمانی فریم کو پوری طرح سے چھپا دیا تھا، جس سے لُک زیادہ متاثر کن نہیں لگ رہا تھا۔

فیشن کے اس انتخاب پر لوگوں نے سوشل میڈیا پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ Reddit پر ایک صارف نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ یہ آؤٹ فٹ عجیب ہے اور بالکل اچھا نہیں لگ رہا۔ خاص طور پر ان کی پتلون کی لمبائی پر کڑی تنقید کی گئی، ایک اور تبصرہ نگار نے لکھا کہ وہ کبھی صحیح لمبائی کی پتلون نہیں پہنتیں۔ ایک تیسرے نقاد کے مطابق ان کے کپڑے ہمیشہ ناموزوں ہوتے ہیں اور انہیں اپنے قد کے مطابق لباس پہننا چاہیے۔

تنقید کا سلسلہ یہیں نہیں رکا، بلکہ کچھ صارفین نے تو اس آؤٹ فٹ کا موازنہ ہالووین کے ایک کاسٹیوم سے کر دیا، اور ایک شخص نے پوچھا، "کیا یہ ہالووین کے لیے جیڈی کاسٹیوم نہیں ہے؟" لباس کی عملیت پر بھی سوال اٹھائے گئے، لباس کی عملیت پر بھی سوال اٹھائے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ میگھن نے یہ فیشن چوائس جان بوجھ کر کی تھی، ایک صارف کا خیال تھا کہ میگھن نے یہ انتخاب جان بوجھ کر کیا۔

اس لندن ملاقات کے علاوہ، میگھن حال ہی میں ستمبر میں اپنی دیرینہ دوستوں اور سابق مونٹیسیٹو پڑوسیوں ایلن ڈی جینریز اور پورشیا ڈی روسی کے ساتھ بھی دیکھی گئیں۔ یہ گروپ 21 ستمبر کو آکسفورڈشائر کے بَرفورڈ کے قریب واقع 18ویں صدی کے ایک پب The Three Horseshoes میں سہ پہر کے لیے گیا تھا۔ کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ یہ ’جیڈی کاسٹیوم‘ تھا؟

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔