MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

اسٹیج ڈرامہ 'امیر خسرو' کی دھوم، حاضرین کا بھرپور جوش و خروش!

پیر کو پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس (PNCA) میں پیش کیے گئے اسٹیج ڈرامہ 'امیر خسرو' نے حاضرین کو اپنے سحر میں جکڑ لیا اور انہیں کھڑے ہو کر داد دینے پر مجبور کر دیا۔ ڈولفن کمیونیکیشن کی پیشکش یہ ڈرامہ ہر لحاظ سے ایک کامیاب کوشش ثابت ہوا، جس پر حاضرین نے ہدایتکارہ اسماء بٹ، لکھاری ارشد چاہل اور پوری کاسٹ کی شاندار پرفارمنس کو خوب سراہا۔

اسماء بٹ، جو کہ ایک مشہور لکھاری، ہدایتکارہ اور ڈولفن کمیونیکیشن کی چیف ایگزیکٹو ہیں، اپنی تاریخی شخصیات اور صوفیانہ، ادبی ورثے کو اسٹیج پر لانے کے لیے جانی جاتی ہیں۔ اس ڈرامے میں بھی اداکاروں کی طاقتور اداکاری، مکالموں اور مجموعی پیشکش نے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔ ڈولفن کمیونیکیشن نے پاکستان اور انڈیا میں پہلی بار اتنے منفرد موضوع کو اس انداز میں اسٹیج پر پیش کرنے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ یہ پروڈکشن اسماء بٹ کے اس روایت کو مزید آگے بڑھاتی ہے کہ وہ تاریخی اور ثقافتی موضوعات کو جدید فنی انداز سے پیش کرتی ہیں۔

اسماء بٹ نے ڈرامے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امیر خسرو ایک عظیم صوفی، شاعر اور برصغیر کی موسیقی کے ورثے کی اہم شخصیت تھے۔ وہ حضرت نظام الدین اولیاء کے شاگرد تھے اور انہوں نے فارسی اور ہندوی شاعری کے ذریعے خطے کی ادبی و ثقافتی روایات میں گراں قدر اضافہ کیا۔ ان کی صوفیانہ شاعری قوالی اور موسیقی کی روایت کا ایک لازمی حصہ ہے۔ اسماء بٹ نے بتایا کہ بھارت میں اپنے ڈرامے 'شاہ حسین مادھو لال' کی پیشکش کے دوران انہیں حضرت نظام الدین اولیاء کے مزار پر جانے کا موقع ملا، جہاں امیر خسرو کی صوفیانہ شاعری سن کر ان کی زندگی اور فنی ورثے کو اسٹیج پر لانے کا عزم مزید پختہ ہو گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 'امیر خسرو' ایک اجتماعی کوشش کا نتیجہ ہے اور تاریخی و ثقافتی شخصیات کو نوجوان نسل تک پہنچانا ان کی اہم ذمہ داری ہے۔

یار، یہ تو لگ رہا ہے کہ یہ ڈرامہ ضرور دیکھنا چاہیے تھا! ایسے اور پروجیکٹس کی ہمیں اور ضرورت ہے، ہے نا؟

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔