علی ظفر اور میشا شفیع کیس: لاہور ہائی کورٹ نے مکمل سسپنشن دینے سے انکار کر دیا

معروف گلوکار اور اداکار علی ظفر کے حق میں ہتک عزت کے مقدمے پر لاہور ہائی کورٹ نے مکمل سسپنشن دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ تازہ ترین پیش رفت اس ہائی پروفائل کیس کو ایک اور نیا موڑ دے رہی ہے جس نے کئی سالوں سے پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
اس تنازع کا آغاز 2018 میں ہوا جب میشا شفیع نے عوامی سطح پر علی ظفر پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا۔ علی ظفر نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی اور اس کے جواب میں میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر دیا۔
مارچ 2026 میں ٹرائل کورٹ نے علی ظفر کے ہتک عزت کے دعوے کو جزوی طور پر منظور کر لیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ میشا شفیع کے الزامات جھوٹے اور ہتک آمیز تھے، اور انہیں عوامی بھلائی کے لیے نہیں لگایا گیا تھا۔ اس کے ساتھ عدالت نے میشا شفیع کو ان الزامات کو دوبارہ دہرانے سے روکنے کے لیے حکم امتناعی بھی جاری کیا۔
ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کو میشا شفیع نے لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور درخواست کی کہ اپیل کی سماعت کے دوران ٹرائل کورٹ کے فیصلے پر مکمل روک لگا دی جائے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے چار مئی 2026 کو انٹرم آرڈر جاری کیا جس میں مکمل سسپنشن دینے سے انکار کر دیا گیا۔ عدالت نے محدود عارضی ریلیف دیا، وہ بھی شرائط کے ساتھ۔
عدالت کی شرط یہ ہے کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے ایوارڈ کی گئی رقم کا پچاس فیصد ڈپٹی رجسٹرار (جوڈیشل) کے پاس جمع کرانا ہوگا، اور بقیہ پچاس فیصد کے لیے دو ماہ کے اندر سیکیورٹی بانڈ فراہم کرنا ہوگا۔ یہ شرائط پوری ہونے پر ہی مالی ہرجانے کا حصہ عارضی طور پر معطل ہوگا۔
علی ظفر کی طرف سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ مقررہ دو ماہ کی مدت گزر جانے کے باوجود نہ تو رقم جمع کرائی گئی اور نہ ہی سیکیورٹی بانڈ فراہم کیا گیا۔ اگر یہ مؤقف درست ثابت ہوا تو مالی ہرجانے کی مشروط معطلی بھی اثر انداز نہیں ہوگی۔
یہ واضح رہے کہ یہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں، بلکہ صرف ایک عبوری حکم ہے۔ اپیل ابھی تک زیر سماعت ہے اور ہائی کورٹ نے میرٹس پر سماعت کرنی باقی ہے۔ جب ہائی کورٹ اپیل کو میرٹس پر سنے گی تب پتہ چلے گا کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رہتا ہے، اس میں ترمیم ہوتی ہے یا مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ تو جو لوگ اس کیس کو فالو کر رہے ہیں، انہیں مزید سسپنس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یہ سلسلہ ابھی رکنے والا نہیں!
