Srha Asghar کا "ہسٹل" – جب اصلی جدوجہد کی کہانی سامنے آئی اور سب انسپائر ہو گئے!

اداکارہ اور ماڈل Srha Asghar، جنہیں ڈراما 'Aakhir Kab Tak' میں ان کی زبردست پرفارمنس سے خوب شہرت ملی، حال ہی میں ہماری سب کی فیورٹ Nida Yasir کے مارننگ شو 'گڈ مارننگ پاکستان' کی مہمان بنیں۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی زندگی کے ایسے رازوں سے پردہ اٹھایا جو سوشل میڈیا کی چکاچوند میں اکثر چھپ جاتے ہیں۔ انہوں نے کھل کر اپنی مالی مشکلات، ابتدائی زندگی کی جدوجہد اور ان وجوہات پر بات کی جنہوں نے انہیں اپنے پورے کیریئر میں کام سے جڑے رہنے کی ترغیب دی۔ Srha نے خاص طور پر مالی آزادی، خاندانی ذمہ داریوں اور زندگی میں ایک مستحکم آمدنی کے سورس کی اہمیت پر زور دیا۔ یار، سچ کہوں تو ان کی یہ باتیں سن کر ہمارے تو ہوش اُڑ گئے! ایک لمحے کو تو لگا کہ یہ کوئی ڈراما سین چل رہا ہے، لیکن نہیں، یہ تو اصلی زندگی کی داستان تھی۔
ماں کی قربانی، بچپن کا سبق: فائنینشل انڈیپینڈنس کی کہانی
Srha Asghar نے اپنے بچپن کے دنوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایک ایسی حقیقت سے پردہ اٹھایا جو کئی لوگوں کو شاید حیران کر دے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کی والدہ نے پانچ بہن بھائیوں کی پرورش زیادہ تر اکیلے ہی کی۔ سوچیں ذرا، پانچ بچوں کی اکیلے پرورش؟ یہ تو اپنے آپ میں ایک پوری فلم کی کہانی ہے۔ پاکستانی سوسائٹی میں ایسی ماں کی ہمت کو سلام ہے! Srha نے بتایا کہ خاندان کی کفالت کرنا اور ان سب بہن بھائیوں کی تعلیم مکمل کروانا اس وقت ایک بہت بڑا اور مشکل چیلنج تھا۔ حالات تو اس قدر سخت تھے کہ ان کی باہمت والدہ کو گھر چلانے اور اخراجات پورے کرنے کے لیے اپنے زیور بھی بیچنے پڑے۔ یار! ماں کی قربانیوں کا یہ لیول ہے۔ ہمارے ہاں تو بندے کی چھوٹی سی مشکل پر رونا شروع کر دیتے ہیں، یہاں تو ایک ماں نے سب کچھ قربان کر دیا۔
Srha کے مطابق، انہی مشکل حالات نے ان سب بہن بھائیوں کے دل میں مالی آزادی کے مقصد کو مضبوطی سے بٹھا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالانکہ انہیں شروع میں یہ پتا نہیں تھا کہ زندگی میں کون سا پروفیشن اختیار کرنا ہے، لیکن انہیں یہ ضرور معلوم تھا کہ انہیں کسی نہ کسی دن کام کرنا ہی پڑے گا۔ مطلب، کام کرنے کی سوچ ان کے اندر بچپن سے شامل ہو گئی تھی۔ یہ ہوتا ہے اصلی موٹیویشن، کوئی فینسی کوچنگ کلاسز نہیں۔ کیا ہم سب کو بھی ایسے ہی حالات کی ضرورت پڑتی ہے سیکھنے کے لیے، یا ہم سستی مار کے ابھی بھی انتظار کر رہے ہیں؟
جرنلزم سے اداکاری تک: ہسٹل کا نیا ایڈونچر اور مستقل مزاجی کا جادو
Srha نے مزید شیئر کیا کہ ان کی بہن نے انہیں شروع میں جرنلزم میں کیریئر بنانے کا مشورہ دیا تھا۔ مطلب، ٹاک شوز ہوسٹ کرنے کا نہیں، نیوز روم کا! لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور ان کا پروفیشنل سفر آخر کار اداکاری کی رنگین دنیا کی طرف مڑ گیا۔ اب یہ کیا بتائیں کہ انڈسٹری کو ایک بہترین ایکٹریس ملی جو جرنلسٹ بن کر شاید اتنی اچھی نہ لگتی! انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں اپنی جگہ بنانے کے لیے مستقل مزاجی اور وقت کی پابندی نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ باجی کا کہنا بالکل ٹھیک ہے، یہ دو چیزیں اس گلیمرس دنیا میں اصل فیصلہ کن ثابت ہوتی ہیں۔ ہم تو ایک وائرل ریل کے لیے دن رات ایک کرتے ہیں، یہاں تو پورے کیریئر میں کونسسٹینسی دکھائی گئی ہے۔ جو لوگ صرف راتوں رات کامیابی کا خواب دیکھتے ہیں، انہیں Srha کی یہ ہسٹل والی کہانی غور سے سننی چاہیے۔ ایک پکی سٹرگلر کی نشانی!
آج کی ذمہ داریاں اور بچوں کو "کمانا سکھانے" کا منفرد انداز، یعنی یہ ہے اصلی لائف ہیک!
اداکارہ نے اپنی موجودہ زندگی اور ذمہ داریوں پر بھی کھل کر بات کی۔ انہوں نے سمجھایا کہ وہ اور ان کے شوہر دونوں ہی مسلسل کام کر رہے ہیں تاکہ اپنا گھر چلا سکیں اور اپنے لائف سٹائل کو برقرار رکھ سکیں، خاص طور پر اس لیے کہ وہ ماشاء اللہ تین بچوں کی پرورش کر رہے ہیں۔ تین بچے؟ یار، یہی تو اصلی ہسٹل ہے جو ہم سب کو کہیں نہ کہیں کرنا پڑتا ہے۔ صرف شادی کر لینا کافی نہیں ہوتا، اسے نبھانا اور ایک اچھی لائف دینا بھی ہسٹل ہی ہے۔ Srha نے اس بات پر بہت زور دیا کہ ملازمت یا کوئی بھی کام بہت ضروری ہے کیونکہ گھریلو اخراجات، بل، اور زندگی کی دیگر ذمہ داریوں کے لیے ایک مستقل آمدنی کا ہونا بے حد لازمی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی محنت نے انہیں اپنے تمام مالی وعدوں کو نبھانے اور اپنے خاندان کو ہر چیز فراہم کرنے میں مدد دی ہے۔ مطلب، آج وہ جو بھی ہیں، اپنی محنت کی بدولت ہیں۔
انہوں نے ایک بہت ہی منفرد بات بھی بتائی کہ وہ اپنے بچوں کو آزادانہ طور پر کمانے کی اہمیت کیسے سکھاتی ہیں۔ Srha نے شیئر کیا کہ جب ان کا بیٹا ان کے ساتھ کسی سوشل میڈیا ریل میں نظر آتا ہے، تو وہ اس کی شرکت سے حاصل ہونے والی رقم سیدھی اس کے اپنے بینک اکاؤنٹ میں ڈال دیتی ہیں کیونکہ وہ اسے اس کی اپنی آمدنی سمجھتی ہیں۔ کیا سٹائل ہے یہ! چھوٹی عمر سے ہی بچت اور کمائی کی اہمیت سمجھانے کا یہ تو بہترین طریقہ ہے۔ ایسے والدین ہوں تو بچے بڑے ہو کر سٹرگل کیوں کریں گے؟ ان کی اس کھلی اور صاف گوئی نے دکھایا کہ کیسے ذاتی حالات نے ان کے کام، آزادی اور مالی ذمہ داری کے رویے کو شکل دی۔ تو کیا ہم سب بھی اب سے Srha Asghar والا ہسٹل موڈ آن کر لیں، یا ابھی بھی بیٹھے رہیں گے؟
