MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
لائف اسٹائل

ویکس گرا؟ اب ٹینشن ختم! داغ غائب، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا!

Pexels

کینڈل کا پگھلا ہوا ویکس جب کبھی غلطی سے کپڑوں، صوفے یا قالین پر گر جائے تو بندہ ہل کے رہ جاتا ہے۔ لگتا ہے بس اب تو چیز فارغ ہو گئی، اسے پھینکنا ہی پڑے گا۔ یہ ایک ایسا ڈراؤنا خواب ہوتا ہے جو ہر کسی کو کبھی نہ کبھی تنگ کرتا ہے۔ لیکن گھبرانا نہیں، کیونکہ یہ جتنا مشکل لگتا ہے، اتنا ہے نہیں۔ آج ہم تمہیں ایک ایسا طریقہ بتائیں گے جو تمہارے یہ سارے مسئلے ختم کر دے گا اور تمہاری چیزیں بالکل نئی جیسی ہو جائیں گی۔

سب سے پہلی غلطی مت کرنا: ویکس کو ٹھنڈا ہونے دو!

تو سن لو بھیا، سب سے بڑی غلطی جو ہم سب کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ جیسے ہی ویکس گرتا ہے، ہم اسے فوراً صاف کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی رگڑتے ہیں، کبھی کسی چیز سے کھینچنے لگتے ہیں۔ اور بس! سارا کام خراب! جتنا ویکس پہلے ایک جگہ ہوتا ہے، اتنا ہی پھیل کر اور گہرا ہو جاتا ہے کپڑے کی ریشوں میں۔ یہ ایسا ہے جیسے آگ پر پٹرول ڈالنا۔ اس لیے سب سے پہلے اور اہم کام یہ ہے کہ اپنے دل پر پتھر رکھو اور اس گرم یا نیم پگھلے ہوئے ویکس کو ہاتھ بھی مت لگاؤ۔ اسے بالکل ٹھنڈا ہونے دو، جب تک یہ سخت نہ ہو جائے۔

اگر تمہیں جلدی ہے اور انتظار نہیں ہوتا، تو ایک چھوٹا سا جگاڑ ہے! کچھ برف کے کیوبز ایک چھوٹے سے شاپنگ بیگ میں ڈالو اور اسے ویکس والے داغ پر کچھ منٹ کے لیے رکھ دو۔ بیگ میں ہونے سے ویکس جلدی سے جم کر سخت ہو جائے گا اور کپڑے پر نمی بھی نہیں آئے گی۔

احتیاط سے ویکس کو ہٹاؤ

جب ویکس ایک دم پتھر کی طرح سخت ہو جائے، تب باری آتی ہے اسے ہٹانے کی۔ کوئی سیدھی اور کنڈ (blunt) چیز لو، جیسے پرانا کریڈٹ کارڈ، پلاسٹک کا چمچ یا کوئی لکڑی کا اسپاتولا۔ اب اس چیز سے داغ کے کناروں سے آرام آرام سے ویکس کو اٹھانے کی کوشش کرو۔ زور نہیں لگانا، بس ہلکے ہاتھ سے کنٹرولڈ طریقے سے ویکس کو اوپر اٹھاتے جاؤ۔ ہمارا مقصد یہاں زیادہ سے زیادہ ویکس کو کپڑے سے الگ کرنا ہے۔

تم دیکھو گے کہ ویکس کا بڑا حصہ تو ہٹ جائے گا، لیکن پھر بھی ایک چکنا داغ اور کچھ باریک ٹکڑے کپڑے کی ریشوں میں رہ جائیں گے۔ یہ حصہ سب سے زیادہ تنگ کرتا ہے، لیکن اصل جادو یہیں سے شروع ہوتا ہے۔

چکناہٹ کا آخری حل: آئرن اور کاغذ کا کمال!

اب جو کام ہے وہ ہے اس چکنے داغ کو غائب کرنا۔ اس کے لیے ہمیں کچھ سادہ چیزیں چاہئیں: ایک جذب کرنے والا کاغذ (جیسے ٹشو پیپر، کچن ٹاول یا براؤن پیپر بیگ) اور تمہارا آئرن (استری)۔ داغ پر جذب کرنے والا کاغذ رکھو۔ پھر آئرن کو ہلکی سے درمیانی گرمی پر سیٹ کرو، اور سب سے اہم بات، سٹیم (بھاپ) بالکل آن نہیں کرنی۔

اب آئرن کو کاغذ کے اوپر سے گزارو۔ دیکھنا یہ ہے کہ جیسے ہی گرمی ویکس کو لگے گی، وہ پگھلنا شروع ہو جائے گا اور جذب کرنے والا کاغذ اسے چوس لے گا۔ یہ ایک زبردست طریقہ ہے! یہاں ایک اور اہم ٹپ: ہر چند سیکنڈ بعد کاغذ کی جگہ بدلتے رہو یا نیا کاغذ رکھو۔ اس طرح جو ویکس کاغذ میں جذب ہو چکا ہے، وہ واپس کپڑے پر نہیں لگے گا۔ یہ عمل تب تک دہراتے رہو جب تک تمہیں داغ بالکل صاف نظر نہ آئے۔

مختلف سرفیسز کے لیے خاص ٹپس اور فائنل ٹچ

اگر معاملہ کپڑوں سے بڑھ کر کپڑے کے فرنیچر کا ہے جیسے صوفہ یا کرسی، تو یہی طریقہ استعمال ہو گا لیکن گرمی کے معاملے میں تھوڑی زیادہ احتیاط کرنی ہو گی۔ اگر کپڑا بہت نازک ہے تو آئرن کی بجائے ہیئر ڈرائر استعمال کرو۔ اس سے تم گرمی کو بہتر طریقے سے کنٹرول کر سکتے ہو۔ اور اگر داغ لکڑی کی یا پینٹ شدہ سطح پر ہے تو پہلے ویکس کو ٹھنڈا کر کے ہٹاؤ، پھر ہلکے ہاتھ سے گیلے کپڑے اور تھوڑے سے مائلڈ کلینر سے صاف کر لو تاکہ کوئی نشان باقی نہ رہے۔

آخر میں، جب ویکس اور اس کی چکناہٹ مکمل طور پر ہٹ جائے، تو داغ والے کپڑے کو دھو لو یا سطح کو کسی ہلکے کلینر سے صاف کرو۔ کپڑوں کے لیے، ایک عام واشنگ سائیکل عموماً کافی ہوتا ہے اور کپڑا پھر سے بالکل نیا لگتا ہے۔ فرنیچر کے لیے، صاف کپڑے اور نیم گرم پانی سے ہلکا سا صاف کرنا ہی کافی ہے۔

لو جی! ہو گیا تمہارا کام۔ اب ویکس کا داغ کوئی سر درد نہیں، بلکہ بس ایک چھوٹی سی پریشانی ہے جو تم ایک جادوئی طریقے سے حل کر سکتے ہو۔ اگلی بار جب کینڈل خراب کرے، تو یہ ٹپس یاد رکھنا اور ہمارے ساتھ شیئر کرنا کہ کیسا لگا! ویکس کو غائب کر کے دکھاؤ گے نا؟

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔