زارا نور عباس کا پاکستانی سینما کو "اپنا سمجھ کر دیکھنے" کی کال پر سوال – کیا اب "سپورٹ" کافی نہیں؟

اداکارہ زارا نور عباس نے حال ہی میں ملکی سینما کے مستقبل پر ایک نئی اور کافی تیکھی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ پاکستانی فلمیں صرف اس لیے نہ دیکھیں کہ وہ پاکستانی ہیں۔ یہ بات ذرا ہٹ کر ہے، اور اسی لیے توجہ حاصل کر رہی ہے۔
"پاکستانی سینما کو سپورٹ کریں" – یہ تو آؤٹ ڈیٹڈ ہو چکا!
آن لائن ایک ویڈیو تیزی سے گردش کر رہی ہے جس میں ہماری زارا کھل کر 'پاکستانی سینما کو سپورٹ کریں' کی گھسی پٹی کال پر بات کر رہی ہیں۔ وہ بڑا سادہ سا مگر زبردست سوال پوچھ رہی ہیں: کیا صرف یہ نعرہ آج کل کے اسمارٹ ناظرین کو سینما ہال تک کھینچ پائے گا؟ زارا کا دو ٹوک موقف ہے کہ یہ جملہ اب بہت پرانا، بلکہ آؤٹ ڈیٹڈ ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بھی، ہاں کوئی بھی! لوکل فلم دیکھنے آ رہا ہے تو اس کے پیچھے قومی وفاداری یا "اپنا سمجھو" والی بات سے ہٹ کر کوئی ٹھوس، بامعنی اور دل لبھانے والی وجہ ہونی چاہیے۔ وہ اس بات پر اصرار کرتی ہیں کہ اب وقت بدل گیا ہے اور صرف حب الوطنی کے جذبات کو بھڑکا کر کسی کو مہنگے ٹکٹ خریدنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ناظرین کو ایک "پیسہ وصول" تجربہ چاہیے۔
فلم میکرز کی ذمہ داری: خود کو بار بار ثابت کرنا ہے!
زارا نور عباس نے اس نکتے پر خاص زور دیا ہے کہ فلم بنانے والوں کی بھی ایک بہت بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صرف کہانیاں نہ بنائیں بلکہ مسلسل خود کو بہتر بنائیں اور معیار کے لحاظ سے خود کو ثابت کریں۔ اور یہ بات آج کے دور میں تو اور بھی اہم ہے، جب پاکستانی ناظرین ایک کلک پر بڑی بین الاقوامی پروڈکشنز تک رسائی رکھتے ہیں۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں!
انہوں نے ایک بہترین مثال کے ذریعے اپنی بات سمجھائی – 'اسپائیڈر مین' فرنچائز۔ زارا نے بتایا کہ کس طرح عالمی سطح پر کامیاب فلموں نے ناظرین میں ایک ایسا پختہ اعتماد پیدا کر دیا ہے کہ لوگ اس سیریز کی ہر نئی قسط دیکھنے کے لیے ٹکٹ خریدتے ہیں، اور یہ بھی نہیں دیکھتے کہ کیا ہر ایک انسٹالمنٹ بالکل پرفیکٹ ہو گی۔ ۔ زارا کے مطابق، ہماری انڈسٹری کو بھی ایسی ہی "برینڈ ویلیو" اور "فین فالونگ" بنانی چاہیے۔
زارا کا ماننا ہے کہ پاکستانی فلم میکرز کو بھی مقامی فرنچائزز اور پروڈکشنز کے گرد ایسا ہی اعتماد اور جوش پیدا کرنا چاہیے تاکہ ناظرین کو یہ احساس ہو کہ ان کے پیسے ضائع نہیں ہوں گے۔ کوئی بھی اپنا قیمتی وقت اور پیسہ صرف اس لیے کیوں خرچ کرے کہ "اپنی" فلم ہے؟ اداکارہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بڑی بین الاقوامی فرنچائزز بھی بے عیب نہیں ہوتیں۔ ان کے بقول، اسپائیڈر مین کی کچھ فلموں میں بھی کچھ نہ کچھ کمیاں رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود ناظرین واپس آتے ہیں کیونکہ وہ فرنچائز، اس کے ستاروں (جیسے ٹام ہالینڈ اور زینڈایا) اور اس سے ملنے والے سینما کے مجموعی تجربے پر بھروسہ کرتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ملے جلے ردعمل: کیا ناظرین بدل گئے؟
زارا نور عباس کے ان تبصروں پر آن لائن خوب گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے اور سوشل میڈیا پر ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ ناظرین نے ان کی بات سے مکمل اتفاق کیا کہ پاکستانی فلموں کو صرف جذباتی اپیل کے بجائے مضبوط کہانیوں اور نئے، اچھوتے خیالات کی اشد ضرورت ہے۔ ایک کمنٹر نے کہا کہ جب فلمیں سینما آنے کی کوئی زبردست اور ٹھوس وجہ دیں گی تو ناظرین خود بخود ٹکٹ خریدنے دوڑیں گے، ہمیں کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ جبکہ ایک اور صارف نے تو مقامی انڈسٹری میں بار بار ایک ہی کاسٹ، پرانے گلوکاروں کے گانے اور گھسی پٹی کہانیوں پر سخت تنقید کی ہے۔
اس صارف نے ایک اور اہم نقطہ اٹھایا کہ مقامی ٹیلنٹ کو بعض اوقات پوری طرح استعمال نہیں کیا جاتا اور اس کے بعد جب سینما خالی رہتے ہیں تو انڈسٹری ناظرین کی کم تعداد پر شکایت کرتی ہے۔
تاہم، تمام ردعمل صرف فلموں کی پروڈکشن کے معیار پر نہیں تھے۔ کچھ کمنٹرز نے بحث کا رخ ناظرین کی بدلتی ترجیحات اور اخلاقی اقدار کی طرف موڑ دیا، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ بڑھتی ہوئی تعداد میں پاکستانی اب زیادہ مذہبی اور فکری مواد کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ اور وہ عصری ڈراموں اور فلموں کو ان کے "متضاد موضوعات" پر سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ ایک نئی جہت ہے جو فلمی بحث میں شامل ہوئی ہے۔
ان تمام مختلف ردعمل نے پاکستانی سینما کے گرد ایک وسیع تر اور گہری بحث کو جنم دیا ہے: کیا تھیٹر کلچر کو دوبارہ زندہ کرنے کی بنیادی ذمہ داری صرف ناظرین پر عائد ہوتی ہے، یا فلم میکرز پر، یا پھر یہ دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے؟ سوال اب یہ ہے کہ کیا ہمارے فلم میکرز یہ سگنل سمجھ پائیں گے یا بس "اپنا سمجھو" کہہ کر کہانی ٹالتے رہیں گے؟
