MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

میوش حیات سوشل میڈیا پر کم کیوں دکھتی ہیں؟ وجہ ایسی بتائی کہ آپ بھی مان جائیں گے!

اداکارہ میوش حیات سوشل میڈیا کی چکاچوند میں اکثر غائب غائب سی نظر آتی ہیں، لیکن اب انہوں نے اس کی وجہ خود ہی بتا دی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں روزانہ کی اپڈیٹس شیئر کرنے کے بجائے کبھی کبھار ہی کچھ خاص شیئر کرنا پسند ہے۔ 'جوانی پھر نہیں آنی' کی اس اسٹار نے حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران اس اہم سوال کا جواب دیا ہے کہ وہ اپنے مداحوں کے ساتھ اتنی کم اپڈیٹس کیوں شیئر کرتی ہیں۔

میوش حیات پاکستان کی معروف فلم اور ٹیلی ویژن اداکاراؤں میں سے ایک ہیں، جنہیں 'پنجاب نہیں جاؤں گی'، 'لوڈ ویڈنگ' اور 'لندن نہیں جاؤں گا' جیسی کامیاب فلموں میں اپنی جاندار اداکاری کے لیے پہچانا جاتا ہے۔

کم پوسٹس، زیادہ چرچے

میوش حیات نے اپنے سوشل میڈیا کی حکمت عملی بتاتے ہوئے کہا کہ وہ ہر دو سے تین ہفتوں میں صرف ایک بار پوسٹ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ پوسٹ کرنے سے لوگ بور ہو جاتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مداحوں کو ہمیشہ مزید کی طلب رہنی چاہیے۔ بھئی، بات تو پتے کی ہے! آج کل جہاں ہر دوسرے سلیب کی ڈیلی پوسٹس سے ان باکس بھرے رہتے ہیں، وہاں میوش کا یہ انداز ایک دم فریش لگتا ہے۔ یہ نہ صرف مداحوں کی تجسس کو بڑھاتا ہے بلکہ ان کی ہر پوسٹ کو مزید اہمیت بھی دیتا ہے۔ وہ صرف اس لیے پوسٹ نہیں کرتیں کہ بس نظر آئیں، بلکہ سوچ سمجھ کر اور منتخب مواد شیئر کرتی ہیں،

رازداری اور ذاتی زندگی

اداکارہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کی کم موجودگی کی ایک بڑی وجہ ان کی ذاتی زندگی میں رازداری کو ترجیح دینا ہے۔ میوش حیات بالکل بھی ہر چیز کو آن لائن اوورشئیر کرنے پر یقین نہیں رکھتیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں اوورشئیر کرنا پسند نہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی عوامی شخصیت اور نجی زندگی کے درمیان ایک مضبوط دیوار قائم رکھنا چاہتی ہیں۔ آج کل جہاں ہر سیلیبریٹی اپنی صبح کی چائے سے لے کر رات کے کھانے تک سب کچھ شیئر کر رہا ہوتا ہے، وہاں میوش کا یہ فیصلہ واقعی قابلِ تعریف ہے۔ یہ ان کی جانب سے ایک بہت ہی سوچا سمجھا قدم ہے تاکہ آن لائن دنیا ان کی ذاتی جگہ پر حاوی نہ ہو سکے۔ سب کو پتہ ہو کہ آپ کون ہیں، لیکن یہ نہیں کہ آپ ہر لمحے کیا کر رہے ہیں۔

میرا وقت، میری ترجیح

میوش نے مزید زور دیا کہ کام اور سوشل میڈیا سے دور رہ کر اپنے لیے وقت نکالنا کتنا اہم ہے۔ ان کے مطابق، ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں اور مداحوں کے ساتھ وقت گزارنا پہلے ہی ان کی زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ ہوتا ہے۔ ان کا سوال تھا، "میں اپنا وقت بہت پسند کرتی ہوں کیونکہ میں اپنے کام اور اپنے مداحوں کو بہت وقت دیتی ہوں۔ اگر میں اپنا باقی سارا وقت سوشل میڈیا کو دوں گی، تو میرے لیے کیا بچے گا؟" یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو شاید بہت سے لوگ، خاص طور پر سیلیبریٹیز، اکثر بھول جاتے ہیں۔ ہمیں بھی سیلیبریٹیز کو مشین سمجھنے کے بجائے انسان سمجھنا چاہیے، جنہیں اپنے لیے، اپنی ذہنی سکون کے لیے بھی وقت چاہیے۔ ان کے لیے مداحوں سے جڑے رہنا یہ نہیں کہ وہ ہر وقت اسکرین پر نظر آتی رہیں۔ کچھ تو پرائیویسی بنتی ہے بھائی!

ستارے بھی انسان ہیں

میوش کا یہ نقطہ نظر صرف ان کا اکیلا نہیں ہے۔ دوسرے پاکستانی سیلیبریٹیز نے بھی سوشل میڈیا پر رازداری اور سیکیورٹی کے حوالے سے ایسے ہی خدشات کا اظہار کیا ہے۔ حال ہی میں، اداکارہ کنزا ہاشمی نے خواتین کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ لوگوں پر مکمل بھروسہ کرنے سے پہلے احتیاط کریں اور اپنی جبلت پر بھروسہ رکھیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر، خاص طور پر پاکستان جیسے ملک میں، اپنی زندگی کی ہر تفصیل آن لائن شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ مداحوں کو یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ کوئی ستارہ کس وقت کہاں کھانا کھا رہا ہے یا اپنا وقت گزار رہا ہے۔ یہ سب دکھاوا بعض اوقات خطرناک بھی ثابت ہو سکتا ہے، تو ہوشیار رہنے میں کیا برائی ہے؟

تو بتائیں، کیا آپ میوش حیات کی اس سوچ سے اتفاق کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر تھوڑی 'دوری' بھی اچھی چیز ہے اور 'مسٹری' برقرار رکھنی چاہیے؟ یا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے پسندیدہ ستارے ہر لمحہ آپ کو اپڈیٹ کرتے رہیں؟ کمنٹس میں بتائیں!

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔

اس خبر کی ویڈیو دیکھیں