MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

مشیل یوہ کی جدوجہد کی کہانی: 'ہالی ووڈ میں مجھے اقلیت کہا گیا!'

بوسان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں آسکر یافتہ اداکارہ مشیل یوہ نے اپنے کیریئر کے سفر کو فیسٹیول کے ساتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ دونوں کا آغاز ایشیا سے ہوا تھا اور دونوں نے دنیا بھر میں اپنی پہچان بنانے کا عزم کیا تھا۔ یوہ نے 7 اکتوبر کو بوسان سینما سینٹر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ فیسٹیول اور وہ دونوں ایشیا سے شروع ہوئے تھے اور دونوں کی امید تھی کہ اپنی فلمیں اور ثقافت دنیا تک پہنچائیں۔

مشیل یوہ ایک ملائیشین-چائنیز اداکارہ ہیں جنہوں نے ہانگ کانگ کی ایکشن فلموں سے شہرت حاصل کی اور پھر بین الاقوامی سطح پر 'جیمز بانڈ' اور 'کراؤچنگ ٹائیگر، ہِڈن ڈریگن' جیسی فلموں میں کام کیا۔ 2023 میں وہ 'Everything Everywhere All at Once' کے لیے بہترین اداکارہ کا آسکر جیتنے والی پہلی ایشیائی خاتون بنیں۔

ہالی ووڈ کا مشکل سفر اور 'اقلیت' ہونے کا صدمہ

مشیل یوہ نے ہالی ووڈ میں جس جدوجہد کا سامنا کیا وہ آسان نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایشیا میں سٹار ہونے کے باوجود، جب وہ ہالی ووڈ گئیں تو انہیں ایک "اقلیت" قرار دیا گیا، جو ان کے لیے ایک بڑا جھٹکا تھا۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں اتنے ایشیائی لوگ ہیں اور پھر بھی انہیں اقلیت سمجھا جاتا ہے۔ کردار بہت کم تھے اور جو تھے وہ بہت دقیانوسی تھے۔

یار، یہ کمال ہے! 'Tomorrow Never Dies' (1997) میں پیئرس بروسنن کے جیمز بانڈ کے مقابل کام کرنے کے باوجود بھی حالات زیادہ نہیں بدلے۔ یوہ نے سوچا تھا کہ دروازے کھل جائیں گے لیکن انہیں ملنے والے رولز اب بھی بہت مشکل اور دقیانوسی نوعیت کے تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دقیانوسی کرداروں کو بغیر ٹھوس بیک سٹوری کے قبول کرنا صرف اسی طرح کی امیج کو فروغ دیتا ہے۔

ایشین سنیما سے عالمی پہچان تک

مشیل یوہ ایشیائی اداکاروں کے لیے ایک مثال ہیں۔ 'Yes, Madam!' (1985) جیسی ہانگ کانگ کی ایکشن فلموں نے انہیں ایک سٹار بنایا اور 'Tomorrow Never Dies' (1997) اور 'Crouching Tiger, Hidden Dragon' (2000) نے انہیں عالمی شہرت دلائی۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی 2022 میں 'Everything Everywhere All at Once' کے لیے بہترین اداکارہ کا آسکر جیتنا تھا، جس کے ساتھ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی ایشیائی خاتون بنیں۔ اس سال 2026 کے شروع میں، انہیں برلن میں اعزازی گولڈن بیئر سے بھی نوازا گیا، جو کسی بھی ایشیائی خاتون کے لیے پہلی بار تھا۔

یوہ کے بوسان سے تعلقات 2002 سے ہیں جب وہ ایک پروڈیوسر کے طور پر فیسٹیول کے پراجیکٹ مارکیٹ میں شامل ہوئی تھیں۔ 2011 کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ ہے۔ 6 اکتوبر کو اوپننگ سیریمنی میں، فیسٹیول نے انہیں ایشیائی سنیما میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ایشین فلم میکر آف دی ایئر کا ایوارڈ دیا۔ انہوں نے کہا کہ سنیما نے انہیں غیر متوقع خوشیاں، جگہیں، لوگ اور یادیں دی ہیں، اور ایک ایسی بڑی زندگی دی ہے جس کا انہوں نے کبھی تصور نہیں کیا تھا۔

'It's My Time' اور نئے چیلنجز

اس بار، یوہ اپنی فلم 'It's My Time' بوسان لے کر آئی ہیں، جس میں انہوں نے اداکاری بھی کی ہے اور اسے پروڈیوس بھی کیا ہے۔ ایک سچی کہانی پر مبنی یہ چائنیز اسپورٹس ڈراما انہیں 70 سال کی نرسنگ ہوم کی رہائشی کے طور پر دکھاتا ہے جو روبک کیوب کے ذریعے زندگی میں ایک نیا موڑ پاتی ہے۔ 64 سالہ ملائیشیا میں پیدا ہونے والی اس سٹار نے بتایا کہ اس کردار کو نبھانا ان کے لیے ایک چیلنج تھا کیونکہ وہ اپنی اصل عمر سے کہیں زیادہ بڑی خاتون کا کردار ادا کر رہی تھیں۔ فلم کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ کبھی ہار نہ مانیں اور کسی بھی عمر میں نئے مواقع ممکن ہیں۔

آسکر جیتنے کے بعد یہ ان کی پہلی چائنیز زبان کی فلم ہے اور کئی سالوں کے انگریزی زبان کے پراجیکٹس کے بعد یہ ان کے لیے ایک طرح سے گھر واپسی ہے۔ یوہ نے کہا، "میں نے کئی سال مشرق سے مغرب تک پل بنانے کی کوشش کی، اور اب مغرب سے مشرق تک۔ امید ہے کہ یہ پل قائم رہے گا اور میں اسے پار کر سکوں گی۔" کیا یہ پل جنوبی کوریا تک بھی پہنچ سکتا ہے؟ یوہ نے جوش سے جواب دیا، "اوہ مائی گاڈ، ہاں۔ کتنا وقت ہے ہمارے پاس؟" انہوں نے خاص طور پر ڈائریکٹر لی چانگ-ڈونگ کی 2026 کی فلم 'Possible Love' میں کام کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

مشیل یوہ نے واقعی دکھا دیا ہے کہ محنت اور لگن سے کچھ بھی ممکن ہے، ہے نا؟

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔