یمنیٰ زیدی نے کام کے لیے گھر چھوڑنے پر اپنا جذباتی پہلو دکھا دیا

پاکستانی اداکارہ یمنیٰ زیدی نے بتایا ہے کہ کام کے لیے سفر پر جاتے ہوئے گھر اور فیملی سے دوری آج بھی انہیں رلا دیتی ہے۔ انہوں نے اپنی فلائٹ سے تصاویر شیئر کرتے ہوئے ایک جذباتی نوٹ لکھا ہے جس میں بتایا کہ کام کے لیے فیملی سے دور ہونا ان کے لیے کتنا مشکل ہوتا ہے۔
یمنیٰ نے صاف کہا کہ کام پر جاتے ہوئے آج بھی ان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلائٹس اور ان کے آنسوؤں کا پرانا ساتھ ہے۔ تصاویر میں سے ایک میں وہ ہیڈ فون لگائے جذباتی نظر آ رہی تھیں، اور دوسری میں جہاز کی کھڑکی سے باہر کا منظر تھا۔
انہوں نے بتایا کہ وقت کے ساتھ انہوں نے گھر سے دور رہنے کے اس احساس کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے۔ یمنیٰ نے مزید لکھا کہ، “اگرچہ آنسو اب بھی آتے ہیں، مگر مجھے ان کی عادت ہو گئی ہے — اور عجیب بات یہ ہے کہ اب مجھے یہ اچھے لگنے لگے ہیں۔ زندگی ایک بہترین استاد ہے۔” یہ ایک ایسا سچ ہے جو ہر اس انسان کو محسوس ہوتا ہے جسے کام کے لیے بار بار اپنا گھر چھوڑنا پڑتا ہے۔ یہ دکھاوا نہیں بلکہ ایک بہت ہی ایماندارانہ بات تھی، جہاں انہوں نے نہ کسی پراجیکٹ کا نام لیا اور نہ ہی اپنی منزل بتائی۔
ویسے کس کس کو لگتا ہے کہ سفر کی عادت تو ہو جاتی ہے پر خدا حافظ کہنے کی نہیں ہوتی؟
