MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

کراچی میں سینما کا میلہ، 35 ملکوں کی فلمیں دھوم مچا رہیں!

Pexels

گندھارا انڈیپنڈنٹ فلم فیسٹیول (GIFF) جو Cirque Films نے 2020 میں شروع کیا تھا، پاکستان کے انڈیپنڈنٹ سینما کو سپورٹ کرنے اور اسے دنیا بھر سے جوڑنے کا ایک بڑا پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ یہ فیسٹیول ہر سال مختلف اور نئے کام کو سامنے لانے کے لیے جانا جاتا ہے، جس سے نہ صرف فلم سازوں کو موقع ملتا ہے بلکہ شائقین کو بھی کچھ ہٹ کے دیکھنے کو ملتا ہے۔

کراچی میں فلمی دھماکہ: کیا کچھ ہو رہا ہے؟

GIFF کا ساتواں ایڈیشن کراچی میں ہائبرڈ فارمیٹ کے ساتھ سینما کا بڑا میلہ لے کر آیا ہے۔ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (NAPA) کے ہندو جمخانہ میں فلمیں اسکرین کی جا رہی ہیں، اور ساتھ ہی ایک آن لائن پروگرام بھی چل رہا ہے۔ یہ فیسٹیول 2 اکتوبر سے 4 اکتوبر تک جاری رہا، جس میں 88 زبردست فلمیں شامل ہیں، جن میں 28 ان-پرسن دکھائی گئیں اور 60 آن لائن اسٹریمنگ پلیٹ فارم پر دستیاب ہیں۔ ان 28 ان-پرسن فلموں میں نو پاکستانی شارٹ فلمیں اور انیس بین الاقوامی شارٹ فلمیں شامل ہیں۔ آن لائن سلیکشن بھی کوئی کم نہیں، اس میں سات فیچر فلمیں، پچیس بین الاقوامی شارٹس اور اٹھائیس پاکستانی شارٹس شامل ہیں۔ پاکستانی فلموں کی اکثریت اردو میں انگلش سب ٹائٹلز کے ساتھ ہے، جبکہ بین الاقوامی سلیکشن میں 32 مختلف غیر ملکی زبانوں کی فلمیں شامل ہیں۔ یہ تو سچ میں ایک گلوبل میلہ ہے۔

ہائبرڈ فارمیٹ کیوں، اس کے پیچھے کی کہانی؟

GIFF کی فیسٹیول پروڈیوسر بینش عمر نے ہائبرڈ فارمیٹ کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پاکستان میں انڈیپنڈنٹ سینما کے لیے وینیوز اور وسائل کی کمی کا ایک عملی حل ہے۔ ان کے مطابق، "یہ فیسٹیول کا ساتواں ایڈیشن ہے، جو ہر سال تقریباً اسی وقت ہوتا ہے۔ اس سال، یہ ایک ہائبرڈ فیسٹیول ہے، جس میں 28 پاکستانی اور بین الاقوامی فلمیں NAPA میں تین دنوں کے دوران، 2 اکتوبر سے 4 اکتوبر تک دکھائی گئیں"۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر حالات سازگار ہوتے تو فزیکل پروگرام کو مزید لمبا کیا جاتا لیکن جگہ کی کمی نے مشکل پیدا کر دی۔ ان کا کہنا تھا، "مزید 60 فلمیں او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر دستیاب ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس وینیوز اور وسائل محدود ہیں، اس لیے ہم پورے ہفتے کے لیے کوئی جگہ بک نہیں کر سکے۔" انہوں نے مزید بتایا کہ بین الاقوامی فیسٹیول اکثر ایک یا دو ہفتے تک چلتے ہیں، لیکن زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے اس سال تین دن ہی ممکن ہو سکے۔

پہنچ میں وسعت اور فلم سازوں کی مانگ

فیسٹیول کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ہائبرڈ ماڈل نے GIFF کو فزیکل وینیو سے باہر بھی اپنی پہنچ بڑھانے کا موقع دیا ہے۔ 2020 میں شروع ہونے کے بعد سے، فیسٹیول نے آن لائن، فزیکل اور ہائبرڈ ایڈیشنز کے ذریعے 700 سے زائد انڈیپنڈنٹ فلمیں پیش کی ہیں۔ اس سال کی سلیکشن سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ پاکستان میں کتنے فلم ساز انڈیپنڈنٹ کام کے لیے پلیٹ فارمز کی تلاش میں ہیں۔ بینش عمر کے مطابق، اس سال کے ایڈیشن کے لیے پاکستان بھر سے فلم سازوں کی طرف سے تقریباً 500 فلموں کی درخواستیں موصول ہوئیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں فلم میکنگ کا ٹیلنٹ تو بھرپور ہے، بس انہیں ایک شوکیس چاہیے!

انڈسٹری اور شائقین کی نظر میں GIFF

اداکارہ عائشہ طور، جو فیسٹیول کے افتتاحی دن موجود تھیں، نے کہا کہ GIFF جیسے ایونٹس پاکستانی اور بین الاقوامی دونوں انڈیپنڈنٹ سینما کو دکھانے کے مواقع پیدا کرنے کے لیے بہت اہم ہیں۔ ان کے الفاظ میں، "مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے کیونکہ ایسے ایونٹس ہونے چاہیے۔ مجھے نہیں معلوم کہ پاکستانی فلم انڈسٹری کہاں جا رہی ہے، لیکن ہم بین الاقوامی فلمیں دکھا سکتے ہیں اور ہم مقامی انڈیپنڈنٹ فلمیں دکھا سکتے ہیں"۔ انہوں نے فیسٹیول میں آنے والے سامعین کے ردِ عمل کو بھی سراہا اور امید ظاہر کی کہ GIFF کراچی اور پاکستان میں وسیع ثقافتی تبدیلی میں اپنا حصہ ڈالے گا۔ یہ بات بالکل ٹھیک ہے، کیونکہ انڈیپنڈنٹ فلم سازوں کے لیے، GIFF جیسے فیسٹیول سامعین تک پہنچنے کا ایک متبادل راستہ فراہم کر سکتے ہیں، ایسے وقت میں جب شارٹ فلموں اور انڈیپنڈنٹ پروڈکشنز کو تھیٹر میں دکھانے کے مواقع اکثر محدود ہوتے ہیں۔

کیا آپ بھی اس ٹیلنٹ کے میلے کا حصہ بننے والے ہیں یا صرف آن لائن انجوائے کریں گے؟

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔