مائیکہ سنگھ نے دلجیت دوسانجھ کو 'بارڈر 2' کی پروموشن پر لتاڑ دیا: پاکستانی اداکارہ والی فلم پر زیادہ توجہ کیوں؟

معروف گلوکار مائیکہ سنگھ نے حال ہی میں دلجیت دوسانجھ کے بالی ووڈ میں فلموں کی تشہیر کے طریقہ کار پر کھل کر بات کی ہے۔ مائیکہ کا دعویٰ ہے کہ دلجیت نے سَنی دیول کی بڑی فلم 'بارڈر 2' کی زیادہ تشہیر نہیں کی، جبکہ ایک پاکستانی اداکارہ کے ساتھ والی فلم کو خوب بڑھاوا دیا۔
ویسے تو سچی بتاؤں، مائیکہ سنگھ نے یہ بھی واضح کیا کہ انہیں دلجیت سے کوئی حسد نہیں اور وہ ان کی کامیابی پر بہت خوش ہیں۔ انہوں نے تو دلجیت کی بہت تعریف کی، یہ بھی کہا کہ دلیر پا جی کے بعد اگر کسی نے پگڑی پہن کر بطور گلوکار اپنی پہچان بنائی ہے تو وہ دلجیت ہی ہیں اور وہ بہت زبردست کام کر رہے ہیں۔
دِلجیت کے بالی ووڈ پراجیکٹس اور مائیکہ کے سوالات
مائیکہ سنگھ نے 'بارڈر 2' کا ذکر کرتے ہوئے کہا، "شاید میں غلط ہوں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ جب 'بارڈر 2' ریلیز ہوئی تو دلجیت پا جی نے اسے ایک فیصد بھی پروموٹ نہیں کیا۔ انہوں نے سَنی پا جی کا ایک فیصد بھی شکریہ ادا نہیں کیا۔" مائیکہ کے مطابق انہوں نے کبھی دلجیت کو سَنی دیول جیسے بڑے نام کے ساتھ کام کرنے کی اہمیت کے بارے میں عوامی طور پر بات کرتے نہیں دیکھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم کی ریلیز کے بعد بھی دلجیت نے اس کے بارے میں کوئی پوسٹ نہیں کی۔
مائیکہ نے مزید کہا کہ دلجیت نے 'آئی وِل ریٹرن' کے بارے میں بھی کچھ پوسٹ نہیں کیا، بلکہ صرف اُس فلم کے بارے میں پوسٹ کیا جس میں ایک پاکستانی آرٹسٹ تھی۔ مائیکہ نے اس بات پر بھی حیرانی کا اظہار کیا کہ اگر دلجیت بالی ووڈ میں کام کرتے ہیں تو پھر اس کی تشہیر کیوں نہیں کرتے، جبکہ وہ اکثر کہتے ہیں کہ انہیں بالی ووڈ کی ضرورت نہیں۔ ان کے بقول وہ یہ باتیں بھائی کی طرح کہہ رہے ہیں اور 'بارڈر 2' ملک کی سب سے بڑی فلموں میں سے ہے، جو بھارت کے بارے میں فلم ہے۔ مائیکہ نے تو یہ چیلنج بھی کر دیا کہ دلجیت کے انسٹاگرام پر جا کر دیکھ لیں کہ 'بارڈر 2' کو پروموٹ کرتی ہوئی کوئی ایک بھی ویڈیو ہے یا نہیں! انہوں نے یہ بھی نشان دہی کی کہ ہانیہ عامر والی فلم میں نیرُو باجوہ بھی تھیں، مگر ان کا بھی کوئی ذکر نہیں ہوا۔ مائیکہ کا ماننا ہے کہ ہر چیز کو پروموٹ کرنا چاہیے۔
یہ سب کہنے کے باوجود، اصل بات تو یہ ہے کہ دلجیت نے 'بارڈر 2' کی تشہیر سے متعلق مواد ضرور شیئر کیا تھا۔ انہوں نے دسمبر 2025 میں فلم سے اپنا پہلا لُک ریلیز کیا تھا اور فلم کی شوٹنگ کی کچھ بِہائنڈ دی سینز ویڈیوز بھی شیئر کی تھیں۔
مائیکہ کا "ملک سب سے پہلے" والا بیان اور دلجیت کی حمایت
واضح رہے کہ پچھلے سال، ہانیہ عامر کی موجودگی کی وجہ سے فلم 'سردار جی 3' تنازعات کی زد میں آ گئی تھی، جب پہلگام حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ یہ فلم بھارت کے سینماؤں میں ریلیز نہیں ہو سکی تھی اور 27 جون 2025 کو بیرونِ ملک ہی ریلیز ہوئی تھی۔ اسی وقت، مائیکہ سنگھ نے خود بھی دلجیت دوسانجھ کو ایک پاکستانی اداکارہ کے ساتھ کام کرنے پر لتاڑا تھا۔ مائیکہ نے اپنے آفیشل انسٹاگرام پر لکھا تھا کہ ملک سب سے پہلے ہے، دونوں ملکوں کے تعلقات اچھے نہیں اور کچھ لوگ لاپرواہی کر رہے ہیں، انہیں سرحد پار کے فنکار کے ساتھ کام کرنے سے پہلے دو بار سوچنا چاہیے۔ انہوں نے فواؔد خان اور وانی کپور کی ایک فلم کا بھی ذکر کیا تھا جس کی سب نے مل کر مخالفت کی تھی، اور کہا تھا کہ لگتا ہے کچھ لوگوں نے ابھی تک سبق نہیں سیکھا۔ اس پوسٹ میں انہوں نے ایک ایسے "جعلی گلوکار" کا بھی ذکر کیا تھا جس نے بھارت میں دس شوز کیے اور غائب ہو گیا، مداحوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔
لیکن اتنی ساری باتوں کے باوجود، مائیکہ سنگھ نے دلجیت کی حمایت کی کہانی بھی سنائی۔ انہوں نے کہا کہ جب خالصتانی دلجیت کو نشانہ بنا رہے تھے، تب وہ ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ مائیکہ کا خیال ہے کہ خالصتانیوں کو دلجیت کو پریشان نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور پنجابی موسیقی کو ایک نئی سطح پر لے جا رہے ہیں۔ مائیکہ نے یہ بھی بتایا کہ اپنے کیریئر کے شروع میں دلجیت ان سے ملنے آئے تھے اور بٹر چکن کھایا تھا، حالانکہ اب دلجیت سبزی خور ہیں۔ مائیکہ نے ان کی ٹیم کو ریکارڈنگ کی سہولیات بھی فراہم کی تھیں، ان کے مطابق دلجیت کے مینیجر اکثر فوری ریکارڈنگ کے لیے ان کے لوکھنڈ والا اسٹوڈیو کا استعمال کرتے تھے۔
مائیکہ سنگھ اور پاکستان کا معاملہ
مائیکہ سنگھ خود بھی 2019 میں کراچی میں ایک نجی شادی میں پرفارم کرنے کے بعد تنازعے میں گھر گئے تھے۔ اس دورے پر انہیں بھارت میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سِنے ایمپلائز نے ان پر پابندی بھی لگا دی تھی، جسے بعد میں ہٹا لیا گیا تھا۔ مائیکہ نے اس واقعے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان خفیہ طور پر نہیں گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ پاکستان گئے، تب بھارت اور پاکستان کے تعلقات اچھے تھے اور اوڑی حملہ ان کے وہاں پہنچنے کے بعد ہوا تھا۔ مائیکہ نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ ویزا لے کر گئے تھے اور اس وقت کسی نے انہیں وہاں پرفارم کرنے سے منع نہیں کیا تھا۔ انہوں نے دلیل دی کہ اگر کوئی وہاں نجی ایونٹ میں پرفارم کر کے کچھ پیسے کماتا ہے اور اسے بھارت واپس لاتا ہے تو اس پر بھارت میں ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ مائیکہ نے ہندوستانی فنکاروں پر پاکستان میں پرفارم کرنے پر ہونے والی تنقید پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستانی گلوکار بھارت آتے ہیں تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پاکستانی گلوکاروں سے کوئی مسئلہ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان کے لوگ ان کا احترام کر رہے ہیں تو ہمیں اس پر خوش ہونا چاہیے۔
مائیکہ نے پاکستان سے اپنے ذاتی تعلق کی وضاحت بھی کی۔ انہوں نے وہاں موجود سکھ مذہبی مقامات کا ذکر کیا۔ گلوکار نے بتایا کہ اس کے پیچھے ایک جذباتی کہانی ہے: گرو نانک دیو جی کا گوردوارہ ننکانہ صاحب وہاں ہے اور پاکستان میں تین بڑے گوردوارے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب انہیں پہلے پاکستان سے دعوتیں ملتی تھیں تو انہیں لگتا تھا کہ یہ گوردوارے کی طرف سے دعوت ہے۔
