ڈراما 'محبت' کا تازہ سین: "اشرافیہ" کی ثقافت اور تشدد پر شدید تنقید

جیو ٹی وی کا نیا ڈراما 'محبت' شروع تو ہوا ہے مگر اس کے ایک سین نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ مچا دیا ہے۔ اس ڈرامے میں فیروز خان، نوال سعید، شاہویر قدوانی اور آئنہ آصف جیسے ستارے شامل ہیں، لیکن فی الحال ڈراما شاہویر کی "اوور دی ٹاپ" اداکاری اور ان کے کردار کو ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی وجہ سے خبروں میں تھا، اب ایک اور سین وائرل ہو کر غلط وجوہات کی بنا پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔
تازہ تنازع 'محبت' کی تیسری قسط سے سامنے آیا ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ ایک گارڈ پالتو کتے کی میڈیکل رپورٹس لے کر آتا ہے۔ فیروز خان اور شاہویر کے کردار یہ رپورٹس دیکھتے ہیں۔ رپورٹس دیکھ کر فیروز خان کا کردار طیش میں آ جاتا ہے اور وہ اس گارڈ کو بری طرح پیٹتا ہے۔ گارڈ زخمی ہو جاتا ہے، اور یہ سارا منظر اس لیے دکھایا گیا تاکہ 'ہیرو' کے غصے کی شدت کو ظاہر کیا جا سکے۔ اچھا تو یہ تھی ہیرو گیری کی تعریف؟
انٹرنیٹ پر صارفین اس بات پر آگ بگولہ ہیں کہ 'محبت' ڈرامے میں اشرافیہ کی ثقافت کو کس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ کیا امیر لوگوں کے پالتو جانور انسانوں سے زیادہ اہم ہو گئے ہیں؟ ایک صارف نے کہا، "تو پالتو جانور انسانوں سے زیادہ اہم ہیں؟" جبکہ دوسرے نے پوچھا، "کیا ہیرو کے غصے کو دکھانے کا یہ کوئی طریقہ ہے؟"
فیروز خان اردو ٹیلی ویژن کے معروف اداکار ہیں اور پاکستان کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ میڈیا میں 'ٹاکسک مسکلینٹی' کی عکاسی کے لیے جانے جاتے ہیں۔
